تدوین حدیث

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو محفوظ کرنے کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہی شروع ہو گیا تھا بلکہ خود حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اقوال محفوظ کرنے کا حکم دیا ایسے ہی بعد میں صحابہ و تابعین کے زمانہ میں یہ سلسلہ بڑے شوق و محنت کے ساتھ جاری و ساری رہا۔ ہم ذیل میں ایسے دلائل ذکر کرتے ہیں جو اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ کتابتِ حدیث کا سلسلہ زمانہ رسالت، زمانہ صحابہ و تابعین اور مابعد کے دور میں بغیر انقطاع کے جاری و ساری رہا۔

عہدِ رسالت میں کتابتِ حدیث:                                        

فتح مکہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا تو یمن کے ایک صاحب ابو شاہ نے عرض کی: ((اُكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللهِ)) ترجمہ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے یہ لکھ دیجیے۔ آپ نے حکم دیا: ((اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ)) ترجمہ: ابوشاہ کے لئے لکھ دو۔ (صحیح بخاری، باب کیف تعرف لقطة اهل مكة، ج 3، ص 521، طوق النجاة)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ میں جو کچھ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنتا تھا اسے یاد کرنے کے لیے لکھ لیتا تھا، قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے منع کیا اور کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتے ہو حالانکہ وہ بشر ہیں کبھی حالتِ غضب میں کلام کرتے ہیں کبھی حالتِ رضا میں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کتابتِ حدیث سے رک گیا، پھر اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اُكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا الْحَقُّ)) ترجمہ: لکھو اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اس منہ سے صرف حق بات ہی نکلتی ہے۔ (سنن ابی داؤد، ج3، ص،318 المكتبة العصرية، صيدا ، بيروت )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی کتابت کا ذکر کرتے ہوئے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے فرماتے ہیں: ((مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلَا أَكْتُبُ))ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے مجھ سے بڑھ کر احادیث کسی کے پاس نہ تھیں سوا عبداللہ بن عمرو کے کہ وہ لکھا کرتے اور میں نہیں لکھتا تھا۔(صحیح بخاری، ج1، ص34، طوق النجاة)

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے احادیث کے مجموعہ کے نام ”الصادقة“ رکھا تھا، طبقات ابن سعد میں ہے: ”عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابِ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ، قَالَ فَأَذِنَ لِي، فَكَتَبْتُهُ، فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُسَمِّي صَحِيفَتَهُ تِلْكَ الصَّادِقَةَ“ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ جو آپ سے سنوں اسے لکھ لیا کروں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی، لہذا میں نے لکھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو نے اپنے اپنے صحیفہ کا نام ”الصادقة“ رکھا۔ (الطبقات الكبرى، عمران بن الحصين، ج2، ص285 دار الكتب العلميه، بيروت)

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کیا: ((يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَنَكْتُبُهَا)) ترجمہ: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم! ہم آپ سے کئی باتیں سنتے ہیں اور انہیں لکھ لیتے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((اكْتُبُوا وَلَا حَرَجَ)) ترجمہ: تم لکھو کوئی حرج نہیں ہے۔ (المعجم الكبير للطبراني، عباية بن رفاعة بن رافع، ج4، ص276 مكتبة ابن تيمية القاهرةٌ)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے حافظے کی کمزوری کی شکایت کی تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((اسْتَعِنْ عَلَى حِفْظِكَ بِيَمِينِكَ)) ترجمہ: اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے حافظے کی مدد کرو یعنی لکھ لیا کرو۔(المعجم الاوسط للطبراني، من اسمه احمد، ج1، ص442 دار الحرمين، القاهرة)

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علم کو قید کر لیا کرو میں نے عرض کیا کہ علم کو قید کرنے سے کیا مراد ہے؟ ارشاد فرمایا: ((كِتَابَتُهُ)) ترجمہ: اس کو لکھ لینا۔(المستدرك على الصحيحين، كتاب العلم، حديث نمبر 362 دار الكتب العلمية، بيروت)

حضرت ابو قبیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنَا: ((بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ، إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا: قُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ؟ فَقَالَ: مَدِينَةُ هِرَقْلَ أَوَّلًا) ترجمہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے لکھ رہے تھے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یا رسول اللہ پہلے کونسا شہر فتح ہوگا قسطنطنیہ یا رومیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے ہرقل کا شہر فتح ہوگا۔(سنن الدارمی، باب من رخص فی كتابة العلم، ج1،ص 430،دار المغنى للنشر والتوزيع،عرب)

حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ((أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ کِتَابًا فَکَانَ فِيهِ: لَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ) ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کی طرف خط لکھا جس میں لکھا ہوا تھا: قرآن پاک کو بغیر طاہر نہ چھوئے۔(سنن الدارقطنی،باب فی نہی المحدث عن مس القرآن،ج1،ص 912،مؤسسة الرسالة،بيروت)

حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ((کَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَأَنَا مَعَهُمْ، وَأَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، فَلَمَّا خَرَجَ الْقَوْمُ قُلْتُ: کَيْفَ تُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَمِعْتُمْ مَا قَالَ وَأَنْتُمْ تَمهَکُونَ فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكُوا فَقَالُوا: يَا ابْنَ أَخِينَا إِنَّ كُلَّ مَا سَمِعْنَاهُ مِنْهُ عِنْدَنَا فِي كِتَابٍ))ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کچھ صحابہ حاضر تھے، میں بھی ساتھ تھا اور میں ان میں سب سے کم عمر تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مجھ پر قصداً جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے، پھر جب لوگ باہر نکلے تو میں نے کہا: جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ آپ لوگوں نے سنا اس کے باوجود آپ لوگ کیسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے احادیث بیان کرتے ہیں اور اس میں منہمک رہتے ہیں، وہ لوگ ہنسے اور کہنے لگے: اے بھتیجے! جو کچھ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھا ہوا ہے۔(مجمع الزوائد بحواله طبرانی، باب عرض الكتاب على من امر به،ج1،ص 151,152 مكتبة القدسی،القاهره)

سنن ابی داؤد میں ہے: ((كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ … فَعَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ ، ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ)) ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ”کتاب الصدقہ“ لکھوائی تھی، مگر عمال و احکام تک روانہ نہ فرمایا تھا کہ وصال ہو گیا، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے مطابق عمل کیا یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے مطابق عمل کیا یہاں تک ان کا وصال ہوگیا۔(سنن ابی داؤد، باب فی زکوۃ السائمة ، ج2،ص98، المكتبة العصريه، بيروت)

ان روایات و آثار سے واضح ہوتا ہے کہ حدیث لکھنے، محفوظ رکھنے کا کام عہدِ رسالت میں شروع ہو چکا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد دورِ صحابہ اور تابعین میں کثیر روایات کو لکھا گیا۔

دورِ صحابہ اور تابعین میں کتابتِ حدیث:

سیدنا ابو ہریرہ کے پاس بھی احادیث لکھی ہوئی موجود تھیں، راوی کہتے ہیں:((تُحُدِّثَ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِحَدِيثٍ فَأَخَذَ بِيَدِي إِلَى بَيْتِهِ فَأَرَانَا كُتُبًا مِنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هَذَا هُوَ مَكْتُوبٌ عِنْدِي)) ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ کے سامنے ایک حدیث پر گفتگو ہوئی تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور ہمیں احادیث کی کتب دکھائیں اور کہا دیکھو یہ حدیث میرے پاس لکھی ہوئی ہے۔)فتح الباری، ج1، ص702، مكتبه دار المعرفة ، بيروت(

ماقبل میں گزرا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نہیں لکھتا تھا بظاہر یہ روایت اس کے خلاف ہے ، اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے علامہ ابن عبد البر فرماتے ہیں: ”وَيُمْكِنُ الْجَمْعُ بِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَكْتُبُ فِي الْعَهْدِ النَّبَوِيِّ ثُمَّ كَتَبَ بَعْدَهُ“ ترجمہ: ان دونوں میں تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زمانہ نبوی میں نہیں لکھتے تھے پھر بعد میں انہوں نے احادیث کو لکھ لیا۔(فتح الباری، ج1، ص702، مكتبه دار المعرفة ، بيروت)

علامہ یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبرقرطبی (متوفی 463ھ) اپنی کتاب ”جامع بیان العلم وفضلہ“ میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت ربیع بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: **((رَأَيْتُ جَابِرًا يَكْتُبُ عِنْدَ ابْنِ سَابِطٍ فِي أَلْوَاحٍ)) ترجمہ: میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو ابن سابط کے پاس تختیوں پر حدیثِ پاک لکھتے دیکھا۔(جامع بیان العلم وفضله، باب ذکر الرخصه فی کتاب العلم، ج 1، ص 310، دارابن جوزی، عرب)

حضرت معن کہتے ہیں: ((أَخْرَجَ إِلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ كِتَابًا وَحَلَفَ لِي: إِنَّهُ خَطُّ أَبِيهِ بِيَدِهِ)) ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے عبدالرحمن نے میرے لیے (احادیث پر مشتمل) کتاب نکالی اور حلفاً بیان کیا کہ یہ میرے والد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ )جامع بیان العلم وفضله، باب ذکر الرخصه فی کتاب العلم، ج 1، ص 113، دارابن جوزی، عرب)

حضرت عمرو بن قیس بن سعد بن عبادہ کا بیان ہے: ((أَنَّهُمْ وَجَدُوا فِي كُتُبِ أَوْ فِي كِتَابِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ)) ترجمہ: انہوں نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتاب میں یہ حدیثِ پاک موجود پائی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یمین اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔(مسند احمد بن حنبل، حدیث سعد بن عباده، ج 37، ص 125، مؤسسة الرساله، بیروت)

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ((فَلَقِيتُ عِتْبَانَ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَأَعْجَبَنِي فَقُلْتُ لِابْنِي: اکْتُبْهُ، فَكَتَبَهُ)) ترجمہ: میری ملاقات حضرت عتبان سے ہوئی، انہوں نے مجھ سے حدیثِ پاک بیان کی، مجھے پسند آئی، میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اسے لکھ لو تو اس نے اس حدیثِ پاک کو لکھ لیا۔ (شرح معانی الآثار، باب كتابة العلم هل تصلح ام لا، ج 4، ص 913، مطبوعہ عالم الكتب)

یہ روایت صحیح مسلم میں بھی موجود ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ، فَقُلْتُ لِابْنِي: اکْتُبْهُ فَكَتَبَهُ“ ترجمہ: مجھے یہ حدیثِ پاک پسند آئی، میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اسے لکھ لو، تو اس نے اس حدیثِ پاک کو لکھ لیا۔ (صحیح مسلم، باب من لقي الله بالايمان الخ، ج 1، ص 61، دار احياء التراث العربي، بیروت)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردِ خاص بشیر بن نہیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((كُنْتُ أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أُفَارِقَهُ أَتَيْتُهُ بِكِتَابِي فَقُلْتُ: هَذَا سَمِعْتُهُ مِنْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ)) ترجمہ: میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو سنتا لکھ لیتا جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تو اپنی کتاب ان کو پیش کی اور عرض کیا: یہ ہے مجموعہ آپ سے سنی ہوئی احادیث کا، انہوں نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ (سنن دارمی، باب من رخص فی كتابة العلم، ج1 ،ص534، دار المغنى للنشر والتوزيع، عرب)

حضرت نافع کہتے ہیں: (( اَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى السُّوقِ نَظَرَ فِي كُتُبِهِ قَالَ عَمَّارٌ: فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: نَعَمْ )) ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب بازار کی طرف نکلتے تو اپنی کتب پر نظر ڈال لیتے، راوی عمار کہتے ہیں کہ میں نے راوی علی بن شفیق سے پوچھا کہ یہ احادیث کی کتب تھیں؟ جواب دیا: جی ہاں۔(الجامع لاخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي، جواز رواية المحدث من حفظه، ج2، ص14، مكتبة المعارف، رياض)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:(( مَا يَرْغِبُنِي فِي الْحَيَاةِ إِلَّا الصَّادِقَةُ وَالْوَهْطُ، فَأَمَّا الصَّادِقَةُ، فَصَحِيفَةٌ كَتَبْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا الْوَهْطُ: فَأَرْضٌ تَصَدَّقَ بِهَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُومُ عَلَيْهَا )) ترجمہ: مجھے دو عادتیں زندہ رہنے کا حوصلہ اور شوق دیتی ہیں (1) الصادقة (2) الوهط ۔ الصادقہ وہ صحیفہ ہے جس میں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثیں لکھی ہیں۔ الوہط وہ زمین جس سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے رفاہ عامہ کے لئے وقف کیا تھا، حضرت عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہ اس کے منتظم تھے۔(سنن دارمی، باب من رخص فی كتابة العلم، ج1، ص634، دار المغنى، عرب)

حضرت عکرمہ سے مروی ہے، کہتے ہیں: (( اَنَّ نَاسًـا، مِنْ اَهْلِ الطَّائِفِ أَتَوْهُ بِصُحُفٍ مِنْ صَحِيفَةٍ لِيَقْرَأَهَا عَلَيْهِمْ )) ترجمہ: اہل طائف میں سے کچھ لوگ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بارگاہ میں ان ہی کے کچھ صحیفے لے کر حاضر ہوئے تا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان کے سامنے ان کی قراءت کر دیں۔

اس وقت حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بینائی کمزور ہو چکی تھی، وہ پڑھ نہ سکے، ارشاد فرمایا: تم لوگ مجھے پڑھ کر سناؤ اور تمہارے دل میں اس کے بارے میں کچھ خیال نہیں آنا چاہیے کہ (( فَإِنَّ قِرَاءَتَكُمْ عَلَيَّ كَقِرَاءَتِي عَلَيْكُمْ )) تمہارا مجھ پر پڑھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ میرا تمہارے سامنے پڑھنا۔ (شرح معانی الآثار، باب كتابة العلم هل تصلح ام لا، ج4، ص913، مطبوعه عالم الكتب)

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: (( قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ )) ترجمہ: علم کو لکھ کر قید کر لو۔ (جامع بیان العلم وفضله، باب ذکر الرخصة فی کتاب العلم، ج1،ص،308دار ابن جوزی،عرب)

حضرت عبداللہ بن خنیس فرماتے ہیں: ((رَأَيْتُهُمْ عِنْدَ الْبَرَاءِ يَكْتُبُونَ عَلَى أَيْدِيْهِمْ بِالْقَضَبِ)) ترجمہ: میں نے لوگوں کو حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بانس کے قلم پکڑے حدیثیں لکھتے دیکھا۔ (سنن دارمی، باب من رخص فی کتابة العلم، ج1، ص،439دار المغنی للنشر والتوزيع، عرب)

حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں: ((الْكِتَابُ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنَ النِّسْيَانِ)) ترجمہ: مجھے لکھ لینا زیادہ پسند ہے کہ بھول نہ جاؤں۔ (جامع بیان العلم وفضله، باب ذکر الرخصة فی کتاب العلم، ج1،ص، 316دار ابن جوزی،عرب)

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں: ((كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، الْحَدِيْثَ بِاللَّيْلِ، فَأَكْتُبُهُ فِي وَاسِطَةِ الرَّحْلِ)) ترجمہ: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے رات کو حدیث سنا کرتا تھا اور رحل کے واسطے سے اسے لکھ لیا کرتا تھا۔ (سنن دارمی، باب من رخص فی کتابة العلم، ج1،ص، 634 دار المغنی للنشر والتوزيع، عرب)

سفیان ثوری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَكْتُبَ الْحَدِيْثَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهِ، حَدِيْثٌ أَكْتُبُهُ أُرِيْدُ أَنْ أَتَّخِذَهُ دِيْنًا، وَحَدِيْثٌ رَجُلٍ أَكْتُبُهُ فَأَوْقِفُهُ لَا أَطْرَحُهُ وَلَا أَدِينُ بِهِ، وَحَدِيْثُ رَجُلٍ ضَعِيفٍ أُحِبُّ أَنْ أَعْرِفَهُ وَلَا أَعْبُا بِهِ)) ترجمہ: میں تین قسم کی حدیثیں لکھنا چاہتا ہوں ، (1) ایسی حدیث لکھتا ہوں کہ جسے اپنا مذہب بناؤں (2) ایسے شخص سے حدیث لکھتا ہوں جس میں توقف کرتا ہوں، اسے رد نہیں کرتا ، نہ دین بناتا ہوں (3) کمزور راوی کی حدیث لکھتا ہوں تاکہ اسے پہچانوں مگر اسے اہمیت نہیں دیتا۔ (ان روایات کا علم بھی حاصل کرتا ہوں جنہیں قبول کرتا ہوں اور ان روایات کا علم بھی حاصل کرتا ہوں جو ناقابلِ قبول ہیں تاکہ صحیح و غلط میں پرکھ ہو۔ (جامع بیان العلم وفضله، باب ذکر الرخصة فی کتاب العلم، ج1،ص، 330 دار ابن جوزی،عرب)

پہلی صدی کے اخیر تک متفرق طور پر تدوینِ حدیث کا کام آگے بڑھتا رہا بغیر ترتیب کے تابعین کرام نے اپنی اپنی مرویات کو اپنے صحیفوں میں لکھ رکھا تھا یہاں تک سیدنا عمر بن عبدالعزیز کا دور آیا تو انہوں نے احادیث کا یکجا کرنے کا ارادہ کیا چنانچہ آپ نے مستند علماء کی ایک جماعت کی کمیٹی بنائی اور یہ کام ان کے سپرد کردیا جن میں ابو بکر بن محمد ، قاسم بن محمد ، امام زہری، اور دیگر بڑے بڑے اکابرین تھے انہوں باقاعدہ حدیث کو ابواب در ابواب لکھا۔

حضرت عبد اللہ بن دینار کہتے ہیں: ((كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيْزِ رَحِمَهُ اللهُ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنِ اکْتُبْ إِلَيَّ بِمَا ثَبَتَ عِنْدَكَ مِنَ الْحَدِيْثِ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِحَدِيْثِ عَمْرَةَ، فَإِنِّي قَدْ خَشِيْتُ دُرُوْسَ الْعِلْمِ وَذَهَابَهُ)) ترجمہ: حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم کی طرف لکھا کہ جو آپ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث ثابت ہیں اور حضرت عمرہ کی احادیث مجھے لکھ کر بھیج دیں کیونکہ مجھے علم کے چلے جانے کا خوف ہے۔ (سنن دارمی، باب من رخص فی كتابة العلم، ج 1، ص،430 دار المغنی للنشر والتوزيع، عرب)

امام ابو بکر بن محمد امام زہری کے استاد اور اپنے وقت کے بہت بڑے محدث تھے، یہ فرمان جب کے نام پہنچا تو انہوں نے احادیث جمع کرنے میں بہت زیادہ کام کیا۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن کی احادیث کا خاص طور پر اس لیے فرمایا کہ حضرت عمرہ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خاص نوازا تھا، یہ بہت ذہین اور عالمہ فاضلہ تھیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مرویات کی سب سے بڑی حافظہ تھیں۔

امام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 124ھ) فرماتے ہیں: ((أَمَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيْزِ بِجَمْعِ السُّنَنِ فَكَتَبْنَاهَا دَفْتَرًا دَفْتَرًا، فَبَعَثَ إِلَى كُلِّ أَرْضٍ لَهُ عَلَيْهَا سُلْطَانٌ دَفْتَرًا)) ترجمہ: خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزيز رضی اللہ عنہ نے ہمیں تمام احادیث وسنن جمع کرنے کا حکم دیا، ہم نے دفتر دفتر مجموعے تیار کئے، انہوں نے اپنی تمام سلطنت میں ایک ایک نسخہ بھیج دیا۔ (جامع بيان العلم وفضله، باب ذكر الرخصة فی كتاب العلم، ج 1، ص، 331 دار ابن جوزی، عرب)

ابو الزناد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((كُنَّا نَكْتُبُ الْحَلَالَ وَالْحَرَامَ، وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَكْتُبُ كُلَّ مَا سَمِعَ، فَلَمَّا احْتِيْجَ إِلَيْهِ عَلِمْتُ أَنَّهُ أَعْلَمُ النَّاسِ)) ترجمہ: ہم حلال وحرام سے متعلق حدیثیں لکھا کرتے تھے اور ابن شہاب زہری جو حدیث سنتے لکھ لیتے ، جب ان کی احتیاج ہوئی تو مجھے پتہ چلا کہ وہی سب سے بڑے عالم تھے۔ (جامع بيان العلم وفضله، باب ذكر الرخصة فی كتاب العلم، ج 1، ص، 321 دار ابن جوزی، عرب)

صالح بن کیسان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((كُنْتُ أَنَا وَابْنُ شِهَابٍ، وَنَحْنُ نَطْلُبُ الْعِلْمَ، فَاجْتَمَعْنَا عَلَى أَنْ نَكْتُبَ السُّنَنَ- فَكَتَبْنَا كُلَّ شَيْءٍ سَمِعْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: نَكْتُبُ مَا جَاءَ عَنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: لَا، لَيْسَ بِسُنَّةٍ، وَقَالَ هُوَ: بَلْ هُوَ سُنَّةٌ، وَكَتَبَ وَلَمْ أَكْتُبْ، فَأَنْجَحَ وَضَيَّعْتُ))

ترجمہ: میں اور ابن شہاب زہری حصول علم میں مصروف تھے۔ ہمارا سنن و احادیث لکھنے پر اتفاق ہو گیا، پس ہم نے جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے سنا لکھ لیا، پھر امام زہری نے کہا ہم صحابہ کرام کی بھی تمام احادیث و آثار لکھتے ہیں، میں نے کہا نہیں، وہ سنت میں شامل نہیں، امام زہری نے کہا وہ سنت میں شامل ہیں چنانچہ انہوں نے لکھ لیں اور میں نے نہ لکھیں وہ کامیاب رہے میں نے عمر ضائع کی۔ (جامع بیان العلم وفضله، باب ذکر الرخصة فی کتاب العلم، ج1، ص233، دار ابن جوزی، عرب)

امام زہری کے بعد آپ کے شاگردوں نے بہت محنت سے یہ کام جاری رکھا یہاں تک دوسری صدی کے اخیر میں ایک شاگرد حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے احادیث کو باب در باب ترتیب سے لکھا اور مجموعہ حدیث مؤطا کے نام سے پیش کیا ، ان کے علاوہ امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی مرویات کو کتاب الآثار کے نام سے پیش کیا، اور بہت سے محدثین نے کتب حدیث تحریر فرمائیں ان میں بعض کتب یہ ہیں:

مصنف ابی سفیان،

سنن ابی ولید،

مصنف ابی سلمہ وغیرہ

الزہد والرقاق لابن المبارک،

الآثار لابی یوسف،

الآثار لمحمد بن الحسن۔

 تیسری صدی ہجری میں حدیث پر بہت زیادہ کام ہوا جو کتب لکھی گئیں چند کے نام یہ ہیں:

کتاب الام للشافعی،

مسند الشافعی،

مسند احمد بن حنبل،

 مصنف عبدالرزاق ،

مصنف ابن ابی شیبہ،

صحیح بخاری،

 صحیح مسلم،

سنن ترمذی،

سنن ابی داؤد،

 سنن ابن ماجہ،

سنن دارمی وغیرہا۔

اعتراض:

احادیث محفوظ نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث لکھنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: ((لَاتَكْتُبُوا عَنِّى، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّى غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ، وَحَدِّثُوا عَنِّى، وَلَا حَرَجَ)) ترجمہ: میری طرف سے نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ لکھا ہو وہ اسے مٹا دے اور میری حدیث بیان کرو اس میں کچھ حرج نہیں۔(صحیح مسلم، باب التثبت فی الحديث وحكم الكتابة، ج4، ص2298 داراحیاء التراث العربی، بیروت)

جواب:

منکرین حدیث کا اس حدیث سے یہ استدلال کرنا حماقت اور صریح ضلالت ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابتِ حدیث سے منع فرمایا ہے حدیث بیان کرنے اور حفظ کرنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ حدیث بیان کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور عدمِ کتابت کو عدمِ حفاظت کی دلیل بنانا بے وقوفی ہے۔

محدثین نے اس ممانعت کے متعدد جوابات دیے ہیں:

 (1) یہ نہی نزولِ قرآن کے وقت کے ساتھ خاص ہے تاکہ قرآن حدیث سے ممتاز رہے کہ لوگ خلط سے کام نہ لیں۔ (فیض القدیر، ج4، ص530 مكتبة التجارية، مصر)

 (2) یہ حدیث ان احادیث سے منسوخ ہے جن میں کتابت کی اجازت دی گئی ہے کہ منع فرمانا اس وقت تھا کہ جب اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں قرآن اور حدیث آپس میں مل نہ جائیں جب اس بات کا اندیشہ نہ رہا تو کتابتِ حدیث کی اجازت دے دی گئی۔(الدیباج علی صحیح مسلم، ج6، ص303 دار ابن عفان، سعودی عرب)

اس حدیثِ پاک کے تحت علامہ یحیی بن شرف النووی (متوفی 676ھ) لکھتے ہیں:

اس حدیث پاک میں جو نہی فرمائی گئی اس کی مراد میں اختلاف ہے:

 (3) ایک قول یہ ہے کہ لکھنے سے منع اس شخص کو کیا گیا جسے اپنے حافظہ پر مکمل اعتماد ہو اور لکھنے کی صورت میں ڈر ہو کہ کہیں لکھنے پر ہی اعتماد نہ کر لے اور اجازت کی احادیث اس پر محمول ہیں کہ جس کو حافظہ پر اعتماد نہ ہوا اسے لکھنے کی اجازت دی جیسے فرمایا: ابو شاہ کو میری حدیث لکھ دو، حدیثِ صحیفہ علی، عمرو بن حزم کو فرائض، سنن اور دیات کے بارے میں احادیث لکھ کر دیں، حدیث کتاب الصدقة اور زکوۃ کے نصابات جو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت انس کو بحرین کا عامل بنا کر بھیجتے وقت لکھ کر دیئے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد تھیں کہ میں لکھتا نہ تھا وہ لکھ لیا کرتے تھے۔

 (4) ایک قول یہ ہے کہ جب حدیث و قرآن کے خلط ملط ہونے کا خطرہ محسوس فرمایا، حدیث لکھنے سے منع فرمادیا جب یہ خطرہ ختم ہو گیا تو حدیث لکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

 (5) ایک قول یہ ہے کہ ایک صحیفہ پر قرآن اور حدیث لکھنے سے منع فرمایا کہ کہیں قاری پر معاملہ اشتباہ نہ ہو جائے۔ (شرح النووى على مسلم، باب التثبت في الحديث وحكم الكتابة، ج18، ص130 دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اعتراض:

قرآن مکمل کتاب ہے اور اس میں ہر چیز کا بیان ہے لہذا قرآن کی موجودگی میں حدیث کی حاجت نہیں ہے۔

جواب:

یہ اعتراض کئی وجوہ سے باطل ہے:

 (1) بے شک قرآن مکمل کتاب اس میں ہر چیز کا بیان ہے مگر اس مکمل کتاب سے لینے والی، اسکی وضاحت کرنے والی کوئی کامل ہستی ہونی چاہئے، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے۔ جیسا کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: {وَاَنْزَلْنَا اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ} ترجمہ: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کر دو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔ (پارہ 14، سورہ نحل، آیت 24)

(2) حدیث کو چھوڑ کر صرف قرآن پر عمل کرنا ناممکن ہے کہ قرآن پاک میں اللہ عزوجل نے احکام شریعت کا بیان اجمالاً فرمایا ہے لیکن انکی توضیح وتشریح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقوال وافعال کے ساتھ فرمائی ہے۔ مثلاً اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ارشاد فرمایا: {اَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ} نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ قرآن میں نماز قائم کرنے کا تو بیان ہے لیکن اس بات کا بیان کہیں نہیں ہے کہ نماز کے اوقات کیا ہیں انکی رکعات کی تعداد کتنی ہیں ان میں پڑھنا کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ، اور ایسے ہی زکوۃ ادا کرنے کا حکم تو ہے لیکن اس چیز کا بیان کہیں نہیں ہے کہ کتنے مال پر، کتنی زکوۃ ادا کی جائے گی؟ قرآن پاک میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ بغیر حدیث کے ان پر عمل کرنا ناممکن ہے۔

(3) ہم قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ حدیث کو چھوڑ کر صرف قرآن کو قابل عمل ٹھہرانا جائز نہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنی اتباع کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا بھی حکم دیا ہے۔ اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت، اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی قرار دیا ہے۔