مقدمہ از شارح جامع ترمذی :: اصطلاحات حدیث
sulemansubhani نے Sunday، 13 September 2026 کو شائع کیا.
اصطلاحاتِ حدیث
حدیث:
وہ قول، فعل یا تقریر جسے سرکارِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب کیا گیا ہو۔
(الفية السيوطى فى علم الحديث، ص 3، المكتبة العلمية، بيروت)
خبر:
اس فن کے علماء کے نزدیک خبر و حدیث مترادف ہیں، جبکہ ایک قول کے مطابق حدیث وہ ہے جو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب ہے اور خبر وہ ہے جو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے غیر کی طرف منسوب ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے جو تواریخ میں مشغول ہو اسے اخباری کہتے ہیں اور جو سنتِ نبویہ میں مشغول ہو اسے محدث کہتے ہیں۔ اور اس میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کے مابین عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے کہ ہر حدیث خبر کہلاتی ہے لیکن ہر خبر حدیث نہیں کہلاتی۔ (نزهة النظر فی توضیح نخبۃ الفکر فی مصطلح أھل الأثر، ص 41، مكتبة المدينه کراچی)
سند:
متن کے راستے کی خبر دینا سند کہلاتا ہے۔ (الفية السيوطى فى علم الحديث، ص 3، المكتبة العلمية، بيروت)
متن:
جس کلام تک سند کی انتہاء ہو جائے وہ متن کہلاتا ہے۔ (الفية السيوطى فى علم الحديث، ص 3، المكتبة العلمية، بيروت)
علم الحديث:
شیخ عز الدین بن جماعۃ نے کہا کہ علمِ حدیث ایسا علم ہے جس کے ذریعے سند و متن کے احوال جانے جائیں۔ (تدريب الراوی، مقدمة السيوطى، ج 1، ص 62، دارطيبه)
علم حدیث کا موضوع:
سند و متن ہے۔ (تدريب الراوی، مقدمة السيوطى، ج 1، ص 62، دارطيبه)
علم حدیث کی غرض و غایت:
صحیح کو غیر صحیح سے ممتاز کرنا ہے۔ (تدريب الراوی، مقدمة السيوطى، ج 1، ص 62، دارطيبه)