چند ضروری اصطلاحات کا بیان

حدیث کی چند کتابوں کا تعارف کرانے کے بعد ہم علم حدیث کی چند اہم اور ضروری اصطلاحات کا بیان کر رہے ہیں فَنَقُوْلُ وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ وَبِهٖ الاستعانة یلیق۔

حدیث:

حدیث کا لغوی معنی قدیم کی ضد ہے اور اصطلاحی تعریف یہ ہے:

نقل ما اضيف الى النبى صلى الله عليه وسلم من قول او فعل او تقرير او وصف ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جس قول، فعل، تقریر یا وصف کی نسبت کی گئی ہے اس کے بیان کو حدیث کہتے ہیں۔

ملا علی قاری نے حدیث کی یہ تعریف کی ہے۔

نقل ما صدر وظهر عن النبى صلى الله عليه وسلم قولا وفعلا وتقريرا ووصفا خلقيا او نعتا خلقيا له۔ ( ملا علی بن سلطان محمد القاری ۱۰۱۴ ھ شرح شرح الفکر ص ۱۶ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۱۳۹۷ھ )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو قول، فعل یا تقریر صادر ہوئی یا جو آپ کا خلقی وصف ظاہر ہوا یا آپ کی خلقی نعت ظاہر ہو اس کے بیان کو حدیث کہتے ہیں۔

سنت

لغت میں سنت کا معنی ہے طریقہ اور سیرت، بعض علماء نے کہا سنت حدیث کے مترادف ہے اور علامہ ابن اثیر نے سنت کی یہ تعریف کی ہے:

ما امر به النبى صلى الله عليه وسلم ونهى عنه وندب اليه قولا وفعلا مما لم ينطق به الكتاب العزيز۔ ( علامہ مجد الدین محمد جزری المعروف بابن الاثیر ۶۰۶ ھ النہایہ ج ۱ ص ۴۰۹ مطبوعہ موسستہ مطبوعائے اسماعیلیان ایران الطبع الرابع ۱۳۶۷ھ)

جس چیز کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور جس چیز سے منع فرمایا اور جس چیز کو قول اور فعل سے پسندیدہ قرار دیا بشرطیکہ ان امور کا قرآن مجید میں ذکر نہ ہو، وہ امور سنت ہیں۔

خبر

خبر اور حدیث مترادف ہے اور ایک قول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، صحابی اور تابعی کی طرف جو قول منسوب ہو وہ حدیث ہے اور خبر عام ہے خواہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو یا کسی اور کی طرف، اسی وجہ سے جو حدیث میں مشغول ہو اس کو محدث اور جو تاریخ میں مشغول ہو اس کو اخباری کہتے ہیں۔

اثر

یہ حدیث کا مترادف ہے اور ایک قول یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین کے اقوال اور افعال کو اثر کہتے ہیں۔

اسناد / سند

 رجال (راویوں) کا وہ سلسلہ جو متنِ حدیث تک پہنچائے۔

متن

جس کلام تک پہنچ کر سند ختم ہو جائے، یعنی حدیث کی عبارت۔