کتاب الصلوۃ باب 96 حدیث نمبر 504
٩٦ – بَابُ الصَّلوةِ بَيْنَ السَّوَارِى فِي غَيْرِ جَمَاعَةٍ
بغیر جماعت کے ستونوں کے درمیان نماز
اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ جب انسان اکیلا ہوتو وہ مسجد کے ستونوں کے درمیان نماز پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ ستونوں کے درمیان جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے صف منقطع ہوتی ہے۔
٥٠٤ – حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَهُ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، وَأَسَامَةُ بنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بنُ طَلْحَةَ ، وَبِلَالٌ، فَاطَالَ، ثُمَّ خَرَج كُنتُ أَوَّلَ النَّاسِ دَخَلَ عَلَى اثرِهِ ، فَسَأَلْتُ بِلالا این صَلَّى؟ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں جویریہ نے حدیث بیان کی از نافع از حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت اسامہ بن زید اور حضرت عثمان بن طلحہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے، پس بہت دیر اندر رہے، پھر باہر نکلے تو سب سے پہلے میں ان کے پیچھے داخل ہوا، پھر میں نے حضرت بلال سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس جگہ نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے بتایا: سامنے کے دوستونوں کے درمیان۔
اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۳۹۷ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: اہل مدینہ اہل شام کا قبلہ اور یہاں اس کا عنوان ہے: بغیر جماعت کے ستونوں کے درمیان نماز پڑھنا اور اس حدیث میں ان دونوں عنوانوں کا ذکر ہے۔