کتاب الصلوۃ باب 30 حدیث نمبر 397
۳۹۷ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَيْفٍ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا قال أتِي ابْنُ عُمَرَ، فَقِيلَ لَهُ هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَاقْبلت وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ ، واجد بلالًا قَائِمًا بَيْنَ الْبَابَينِ، فَسَأَلْتُ بِلَالًا فَقُلْتُ اصلی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ؟ قَالَ نعم رَكْعَتَيْنِ ، بَيْنَ السَّارِيَّتَيْنِ اللتَّيْنِ عَلى يَسَارِه اذا دَخَلْتَ ثُمَّ خَرَجَ ، فَصَلَّى فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ رَكْعَتین۔
اطراف الحدیث:۲۶۸-۵۰۴-۵۰۵-۵۰۶ – 1167- 1598-1599-2988-4289-4400
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از سیف انہوں نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے ان سے کہا گیا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو کعبہ میں داخل ہوگئے تو حضرت ابن عمر نے کہا: میں آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے باہر نکل آئے میں نے دیکھا حضرت بلال رضی اللہ عنہ دو دروازوں کے درمیان کھڑے ہوئے تھے میں نے حضرت بلال سے سوال کیا اور کہا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا : جب آپ کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ کی بائیں جانب جو دو ستون ہیں ان کے درمیان آپ نے دورکعت نماز پڑھی ہے پھر آپ باہر نکلے اور کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز پڑھی۔
(صحیح مسلم : ۱۳۲۹ الرقم المسلسل : 3172، سنن ابوداؤد: ۲۰۲۵- ۲۰۲۳، سنن نسائی: ۲۹۰۳-۲۹۰۲ مسند الحمیدی: ۶۹۲ – ۱۴۹ مسند ابوداؤ الطیالسی : 1849 – 1115 المعجم الکبیر : ۱۳۵۱۰، صحیح ابن حبان : ۳۲۰۴ ۳۲۰۳- 3202 شرح السنه: 447، سنن بیہقی ج ۲ ص ۳۲۶ ‘مسند احمد ج ۲ ص طبع قدیم مسند احمد : ۴۴۶۴- ج ۸ ص 35 مؤسسة الرسالة بیروت، جامع المسانيد لابن الجوزی 3358 مكتبة الرشد ریاض 1426ھ )
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) مسدد بن مسرهد
(۲) یحیی القطان
(۳) سیف بن سلیمان المخزومی المکی یہ بہت زیادہ سچے تھے ۱۵۱ ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۴) امام مجاہد
(۵) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہما عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۹۵)
حطیم کعبہ میں نماز پڑھنا کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے حکم میں ہے
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر داخل ہوگئے اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کعبہ کے اندر داخل ہونا نہ صرف جائز ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
آج کل کعبہ کا دروازہ بند رہتا ہے اور مسلم ممالک کے سربراہوں کے لیے کھولا جاتا ہے اور صرف وہی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل کرسکتے ہیں، تاہم حطیم بھی کعبہ میں داخل ہے اور اس کا جز ہے اور یہ کھلا ہوا ہوتا ہے اور عام مسلمان اس میں داخل ہوکر اس میں نماز پڑھتے ہیں، اس طرح عام مسلمانوں کو بھی کعبہ میں داخل ہوکر نماز پڑھنے کا شرف اور سعادت حاصل ہوجاتی ہے اور جب وہ حطیم میں داخل ہوں تو ننگے پیر داخل ہوں اور احترام سے داخل ہوں اور اس میں دورکعت نماز پڑھیں کیونکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی تھی۔
دو متعارض حدیثوں میں تطبیق
علامہ نووی متوفی ۶۷۶ ھ نے کہا ہے کہ تمام ائمہ حدیث کا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں دو رکعت نماز پڑھی ہے کیونکہ یہ روایت مثبت ہے اور اس میں زیادہ علم کا ثبوت ہے، اس لیے اس کی ترجیح واجب ہے
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا ہے : آپ نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی تھی۔ (صحیح مسلم : ۱۳۳۰) اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی کہا ہے کہ آپ نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی تھی۔ ( صحیح مسلم : ۱۳۳۱) یہ دونوں حدیثیں کعبہ میں آپ کے نماز پڑھنے کی نفی کرتی ہیں اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث آپ کے نماز پڑھنے کو ثابت کرتی ہیں اور جب نفی اور اثبات کی خبروں میں تعارض آجائے تو اثبات کی خبر کو ترجیح دی جاتی ہے اس لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی روایت راجح ہے جس میں یہ ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی تھی اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب حضرت بلال، حضرت اسامہ اور حضرت عثمان بن طلحہ کعبہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کا دروازہ بند کردیا اور وہ سب دعا میں مشغول ہوگئے اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں مشغول ہیں تو وہ بھی دعا میں مشغول ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری جانب تھے اور حضرت بلال آپ کے قریب تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، جس کو حضرت بلال نے آپ کے قریب ہونے کی وجہ سے دیکھ لیا اور آپ نے بہت تخفیف سے نماز پڑھی تھی اور حضرت اسامہ آپ سے دور تھے اور بہ دستور دعا میں مشغول تھے اس لیے وہ نہیں دیکھ سکے، اس لیے انہوں نے اپنے گمان کے مطابق آپ کے کعبہ میں نماز پڑھنے کی نفی کردی۔ ( صحیح مسلم بشرح النووی ج 6 ص ۳۵۸۸ – 3587 مکتب نزار مصطفی مکه مکرمه ۱۴۱۷ھ )
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال متوفی ۴۴۹ھ نے لکھا ہے کہ مہلب نے کہا: یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دومرتبہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے ہوں، ایک مرتبہ آپ نے اس میں نماز پڑھی ہو، جیسے حضرت بلال کی روایت ہے اور ایک مرتبہ آپ نے نماز نہ پڑھی ہو جیسے حضرت اسامہ اور حضرت ابن عباس کی روایت ہے پس دونوں حدیثوں میں تعارض نہیں ہے۔ شرح ابن بطال ج ۲ ص ۶۸ دار الکتب العلمیة بیروت (1424ھ )
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 3126- ج ۳ ص ۵۸۷ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں :
کعبہ میں نماز پڑھنے کے متعلق حضرت اسامہ اور حضرت ابن عباس کی روایات میں تطبیق
(E) کعبہ میں نماز پڑھنے کے حکم میں مذاہب ائمہ۔
[…] حدیث، اس سے پہلی حدیث سے متعارض ہے اور صحیح البخاری : ۳۹۷ کی شرح میں ان کی تطبیق بیان کر دی گئی […]