کتاب الصلوۃ باب 100 حدیث نمبر 509
۱۰۰ – بَابُ يَرُدُّ الْمُصَلَّى من مَر بَينَ يَدَيْهِ
نمازی اپنے سامنے سے گزرنے والے کو دھکا دے کر دور بھگائے
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نمازی اپنے سامنے سے گزرنے والے کو دور کرے، رہا یہ کہ وہ کس جگہ سے گزرنے والے کو دور کرے اور یہ دور کرنا آیا واجب ہے یا سنت ہے یا مستحب ہے؟ اس کی تفصیل ان شاء اللہ عنقریب آئے گی ۔
وَرَدَّ ابْنُ عُمَرَ المَارَ بَيْنَ يَدَيْهِ فِي التَّشَهُدِ،وَفِي الْكَعْبَةِ، وَقَالَ إِنْ أَبِي إِلَّا أَنْ تُقَاتِلَهُ فَقَاتِلُهُ
اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کعبہ میں اپنی نماز کے تشہد میں سامنے سے گزرنے والے کو دور کیا اور فرمایا: اگر گزرنے والا بغیر لڑائی کے باز نہ آئے تو اس سے لڑو ۔
اس تعلیق کی اصل حسب ذیل احادیث ہیں:
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جو شخص نماز میں تمہارے سامنے سے گزرے، اس کو مت چھوڑو، اگر وہ لڑائی کے بغیر باز نہ آئے تو اس سے لڑو۔ (مصنف عبد الرزاق : ۲۳۲۸ – ج ۲ ص ۱۱ دار الكتب العلمیہ بیروت 1421ھ )
نافع بیان کرتے ہیں: جو شخص بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نماز کے آگے سے گزرتا تھا ، وہ اس کو نہیں چھوڑتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۳۲۹)
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے سے گزرا وہ نماز کے قعدہ میں تھے، وہ قعدہ سے کھڑے ہوگئے، پھر میرے سینہ میں دھکادیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۹۲۱ – ج ا ص ۲۵۴ دار الکتب العلمیہ بیروت)
نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کو علامہ عینی اور حافظ ابن حجر کا کعبہ میں بھی عام قرار دینا
علامہ عینی اور حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ امام بخاری کے شیخ ابو نعیم نے کتاب الصلوۃ میں اس روایت کے اندر کعبہ کا ذکر کیا ہے اور کعبہ کی تخصیص اس لیے کی ہے کہ یہ وہم نہ کیا جائے کہ چونکہ کعبہ میں نمازیوں کا بہت اژدھام اور رش ہوتا ہے اس لیے کعبہ میں نمازی کے آگے سے گزرنے کی رخصت ہوگی کیونکہ غیر کعبہ میں بھی جمعہ اور عید کے اجتماعات میں نمازیوں کا بہت اژدھام ہوتا ہے اس لیے نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کعبہ اور غیر کعبہ دونوں کو شامل ہے ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۲۳ فتح الباری ج ۲ ص 129)
مصنف کا کعبہ میں بھی ممانعت کے شمول پر تبصرہ
میں کہتا ہوں کہ فقہ کا قاعدہ ہے کہ ضرورت کی وجہ سے ممنوع چیز مباح ہوجاتی ہے اور اب کعبہ میں نمازیوں کا اس قدر اژدھام ہوتا ہے کہ کعبہ میں ہر جگہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اور اگر وہاں نمازی کے آگے سے گزرنے کی رخصت نہ دی جائے تو کوئی شخص کسی جگہ سے گزر ہی نہیں سکتا اور بعض اوقات انسان کا گزرنا ضروری ہوتا ہے مثلا اس کو بول و براز کی شدید حاجت ہو اور تاخیر کرنے میں مسجد حرام کے نجاست سے متلوث ہونے کا خطرہ ہو یا اس کو شدید بھوک یا پیاس ہو یا اس کا وضوء ٹوٹ گیا ہو اور اس کو دوبارہ وضو کرنے کی شدید ضرورت ہو یا اس کو کوئی ضروری دوا کھانی ہو اور ایسی دوسری بہت ضروریات ہوسکتی ہیں، بلکہ میں کہتا ہوں کہ ہمیں اس مسئلہ میں قیاس کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حدیث صحیح میں یہ تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور مرد اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہے تھے، ہم اس حدیث کو اس بحث کے آخر میں ذکر کریں گے اس لیے علامہ عینی اور حافظ ابن حجر کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی ممانعت کعبہ اور غیر کعبہ دونوں میں عام ہے۔
٥٠٩ – حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِث قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَال، عَنْ أَبِی صالح اَنَّ اَبَا سَعِيدٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمٌ (ح) . وَحَدَّثَنَا ادَمُ بْنُ أَبِى إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَال الْعَدَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحِ السَّمَّانُ قَالَ رَأَيْت ابا سَعِيدِ الْخُدْرِی فِي يَوْمٍ جُمُعَةٍ، يُصَلِّي إِلى شَيْء يَستْرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ شَابٌ مِنْ بَنِی ابی معیط ان يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَدَفَعَ أَبُو سَعِيدٍ فِي صَدْرِهِ ، فَنَظَر الشَّاب فَلَمْ يَجِدُ مَسَاغا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَعَادَ لِيَجْتاز فَدَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَشَدَّ مِنَ الْأَوْلَى، فَنَالَ مِنْ ابی سَعِيد،ٍ ثُمَّ دَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ، فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِي مِیں ابِي سَعِيدٍ، وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ خَلْفَهُ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ مَا لَكَ وَلابْنِ أَخِيكَ يَا أَبَا سَعِيدٍ؟ قَالَ سَمِعْت النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى اَحَدُكُمْ إلى شَيْءٍ يَستْرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَاَرَادَ اَحَدٌ أنْ يَجْتاز بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلْيَدْفَعُهُ، فَإِنْ أبي فَلْيُقَاتِلَهُ، فَإِنَّمَا هُو شيطان. [ طرف الحديث : ۳۲۷۴]
صحیح مسلم : ۵۰۵ الرقم المسلسل : ۱۱۰۹ سنن ابوداؤد :700 مسند ابو یعلی : 1240، صحیح ابن خزیمہ: ۸۱۹ سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۶۷ مسند احمد ج ۳ ص ۶۳ طبع قدیم، مسند احمد: 11607- ج ۱۸ ص ۱۵۱ موسسہ الرسالہ بیروت جامع المسانيد لابن الجوزی: ۲۰۰۳ مكتبة الرشد ریاض (1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابو معمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبد الوارث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یونس نے حدیث بیان کی از حمید بن ھلال از ابو صالح که حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تحویل) اور امام بخاری نے کہا: ہمیں آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان بن المغیرہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حمید بن هلال العدوی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابو صالح السمان نے حدیث بیان کیَ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن کسی چیز کو لوگوں سے سترہ بناکر نماز پڑھ رہے تھے بنو ابی معیط کے ایک نوجوان نے ان کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوسعید نے اس کے سینہ پر دھکا دیا’ اس نوجوان نے ادھر اُدھر دیکھا مگر اس نے حضرت ابوسعید کے سامنے کے علاوہ اور کوئی جگہ نہ پائی وہ دوبارہ ان کے سامنے سے گزرنے لگا؟ حضرت ابوسعید نے اس کو پہلی بار سے زیادہ زور سے دھکا دیا اس نے حضرت ابوسعید سے تکلیف اٹھائی، اس نے مروان کے پاس جاکر حضرت ابوسعید سے پہنچنے والی تکلیف کی شکایت کی، حضرت ابوسعید بھی اس کے پیچھے پیچھے مروان کے پاس آئے مروان نے کہا : اے ابوسعید ! آپ کے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان کیا معاملہ ہوا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو لوگوں سے سترہ بناکر نماز پڑھے پھر کوئی شخص اس کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کر ے تو وہ اس کو دفع کرے اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑے کیونکہ وہی شخص شیطان ہے۔
حدیث مذکور کے رجال
(1) ابو معمر، ان کا نام عبداللہ بن عمرو بن ابی الحجاج المقعد البصری ہے، یہ ۲۲۴ھ میں بصرہ میں فوت ہوگئے تھے
(۲) عبد لوارث بن سعید
(۳) یونس بن عبید بن دینار ابو عبداللہ البصری ،یہ ۲۳۹ھ میں فوت ہوگئے تھے
(۴) حمید بن هلال العدوی یہ بہت عظیم تابعی ہیں
(۵ ) وصالح ذکوان السمان
(۶) آدم بن ابی ایاس
(۷) سلیمان بن المغیر القیس البصری
(۸) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان کا نام سعد بن مالک ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۲۴)
باب کے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو لوگوں سے سترہ بناکر نماز پڑھے پھر کوئی شخص اس کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو وہ اس کو دفع کرے اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑے کیونکہ وہی شیطان ہے۔
باب مذکور کی مؤید دیگر احادیث
عبد الرحمان بن ابی سعید الخدری بیان کرتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے ایک جوان شخص ان کے سترہ کے قریب سے گزرنا چاہتا تھا، ان دنوں مدینہ کا امیر مروان تھا، حضرت ابوسعید نے اس کو زور سے دھکا دیا حتی کہ اس کو زمین پر گراد یا پھر وہ نوجوان مروان کے پاس گیا اور کہا: یہاں پر ایک پاگل بوڑھا ہے اس نے مجھے دھکا دے کر زمین پر گرادیا مروان نے کہا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں اور جمعہ کے دن انصار بھی مروان کے پاس آتے تھے پس حضرت ابو سعید بھی وہاں آگئے مروان نے اس نوجوان سے پوچھا: کیا تم ان کو پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! یہ وہ بوڑھا ہے مروان نے اس نوجوان سے کہا: کیا تم پہچانتے ہو یہ کون ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، مروان نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، پھر مروان نے حضرت ابوسعید کو مرحبا کہا اور ان کو اپنے قریب بٹھایا پھر ان سے کہا: یہ تو جوان آپ کی شکایت کر رہا ہے کہ آپ نے اس کو دھکا دے کر گرادیا’ حضرت ابوسعید نے فرمایا : میں نے اس کو نہیں دھکادیا میں نے تو شیطان کو دھکادیا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص تمہارے اور تمہارے سترہ کے درمیان سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اس کو دفع کرو پس اگر وہ لڑائی کے بغیر باز نہ آئے تو اس سے لڑو کیونکہ وہ شیطان ہے۔ (مصنف عبد الرزاق : ۲۳۳۱ – ج ۲ ص ۱۱ دار الكتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )
ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اس اثناء میں عبدالرحمان بن الحارث بن ہشام آیا اور ان کے سامنے سے گزرنے لگا حضرت ابو سعید نے اس کو روکا وہ گزرنے کے بغیر نہیں مانا تو حضرت ابوسعید نے اس کو دھکا دے کر زمین پر گرادیا کسی نے کہا: آپ نے عبدالرحمان کو گرا دیا’ حضرت ابوسعید نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر یہ باز نہ آتا تو میں اس کو بالوں سے پکڑتا۔ (مصنف ابن ابی شیبه : 2930، مجلس علمی، بیروت ‘مصنف ابن ابی شیبہ : 2913، دارالکتب العلمیہ بیروت )
اگر کوئی شخص نمازی اور سترہ کے درمیان سے گزرے تو امام مالک کے نزدیک اس کو نرمی سے روکے ۔۔۔اور اس سے لڑنا منع ہے
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
بعض فقہاء نے کہا ہے کہ جب کوئی شخص سترہ قائم کرکے نماز پڑھ رہا ہو پھر کوئی شخص نمازی اور سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہیے تو اس کو دفع کرنے پر فقہاء کا اتفاق ہے اور جب کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھ رہا ہو تو پھر اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے سامنے سے گزرنے والے کو منع کرے کیونکہ جس جگہ وہ نماز پڑھ رہا ہے وہاں دوسرے لوگوں کے لیے بھی چلنا اور تصرف کرنا مباح ہے اور وہ اور دوسرے لوگ اس جگہ تصرف کرنے میں مساوی ہیں الا یہ کہ وہ سترہ قائم کرے۔
امام مالک نے کہا: جب نمازی نے سترہ قائم کیا ہو اور پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرے تو وہ اس کو نرمی سے روکے اور اس پر اجماع ہے کہ وہ تلوار سے اس کے ساتھ نہ لڑے اور نہ اس سے خطاب کرے اور اس سے اس حد تک نہ لڑے کہ اس کی نماز ٹوٹ جائے، کیونکہ اگر نمازی نے ایسا کیا تو اس میں خود اس کا نقصان ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۸۹ دار الکتب العلمیة بیروت (1424ھ)
نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو شیطان فرمانے کی وجہ اور اگر سترہ نہ ہو تو پھر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو منع نہیں کیا جائے گا
علامہ ابوسلیمان حمد بن محمد خطابی شافعی ۳۸۸ھ لکھتے ہیں :
اس حدیث میں نمازی سے آگے سے گزرنے والے کو شیطان فرمایا ہے، اس کی توجیہ یہ ہے کہ یہ شیطانی فعل ہے اور اس کے بہکانے کی وجہ سے ہے اور اس حدیث میں اس سے لڑنے کا جو حکم دیا ہے یہ اس وقت ہے جب وہ سترہ اور نمازی کے درمیان سے گزرنے کی کوشش کرے۔ (معالم السنن مع مختصر المنذری ج ا ص 343 دارالمعرفة بیروت)
فقہاء احناف کے نزدیک نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو سبحان اللہ کہہ کر منع کیا جائے گا یا اشارہ سے
علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر فرغانی مرغینانی حنفی متوفی ۵۹۳ ھ لکھتے ہیں :
جب نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو اور کوئی اس کے سامنے سے گزرے یا اس کے سامنے سترہ ہو اور کوئی اس کے اور سترہ کے درمیان سے گزرے تو نمازی اس کو منع کرے اور اس کو اشارہ سے منع کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دو بچوں کے ساتھ کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر نماز پڑھ رہے تھے تو ان کا بیٹا عمر آپ کے آگے سے گزرنے لگا پس آپ نے اس کو اشارہ کیا کہ ٹھہرجاؤ تو وہ ٹھہرگیا، پھر ان کی بیٹی زینب آپ کے آگے سے گزرنے لگی تو آپ نے اس کو بھی ٹھہرنے کا اشارہ کیا، اس نے انکار کیا اور آپ کے آگے سے گزرگئی تو آپ نے فرمایا: یہ عورتیں ناقصات عقل اور ناقصات دین ہیں، حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کی عورتوں کی طرح ہیں، شریف لوگوں پر غالب آجاتی ہیں اور بُرے لوگ ان پر غالب آجاتے ہیں۔ (فتح القدیر ج اص ۴۱۹ دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۱۵ھ ) لیکن حدیث کی اصل عبارت یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد فرمایا: یہ عورتیں زیادہ غالب ہیں۔ (سنن ابن ماجہ: ۱۹۴۸ مسند احمد ج 6 ص 214) یا سبحان اللہ پڑھ کر ان کو گزرنے سے منع کرے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز میں تمہارے سامنے کوئی چیز پیش ہو تو سبحان اللہ کہو ۔ ( صحیح البخاری : ۶۸۴)
الہداية مع فتح القدير ج ۱ ص ۴۱۹ – ۴۱۸ دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۱۵ھ )
کعبہ میں نمازی کے آگے سے گزرنے کا جواز
كثير بن المطلب بن وداعہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ (کعبہ میں ) باب بنوسھم کے قریب نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ آپ کے آگے سے گزر رہے تھے اور آپ کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھا۔ (سنن ابوداؤد: ۲۰۱۶، سنن ابن ماجہ : ۲۹۵۸ شرح معانی الآثار : ۲۵۸۷، صحیح ابن حبان: ۲۳۶۳، المعجم الكبير : ۶۸۴ – ج 20، سنن بیہقی ج ا ص ،۲۷۳ مسند احمد ج 6 ص ۳۹۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۷۲۴۱ – ج ۴۵ ص ۲۱۵ مؤسسة الرسالة بیروت)
علامہ سید ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۳ ھ لکھتے ہیں: میں نے ” البحر العمیق” میں دیکھا، انہوں نے عزالدین بن جماعہ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے امام طحاوی کی مشکل الآثار سے کہ کعبہ میں نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے۔ (اور اس عبارت سے پہلے علامہ شامی نے علامہ ابن حمام کی فتح القدیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ :)
اس مسئلہ میں قیاس کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس میں نص صریح ہے کہ المطلب بن ابی وداعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعی سے فارغ ہوئے تو آپ حجر اسود کے سامنے آکر مطاف میں کھڑے ہوگئے اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی اور مرد اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہے تھے اور آپ کے اور ان کے درمیان سترہ نہیں تھا۔ ( مسند احمد ج 6 ص 399، سنن ابن ماجه : ۲۹۵۸ صحیح ابن حبان : ۲۳۶۳ یہ حدیث صحیح ہے ) (ردالمختار ج ۳ ص 457، دار احیاء التراث العربی بیروت 1419ھ)
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۳۱ – ج ۱ ص ۱۳۱۸ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی البتہ سترہ کی بحث میں سترہ کی تعریف کی ہے اور یہ لکھا ہے کہ جب سترہ نہ ہو تو گزرنے والا نمازی کے آگے سے گزر سکتا ہے اور یہ لکھا ہے کہ صحراء اور مسجد کبیر میں نمازی کے آگے سے گزرنا مکروہ نہیں ہے اور مسجد صغیر میں مکروہ ہے۔