حدیث، متن اور سند کا معنی
sulemansubhani نے Saturday، 3 October 2026 کو شائع کیا.
حدیث، متن اور سند کا معنی
متن کے طریق کی حکایت کو سند کہتے ہیں اور متن حدیث کے ان الفاظ کو کہتے ہیں جن کے ساتھ معانی قائم ہوں، حدیث کا معنی قدیم کی ضد ہے یعنی حادث، اور علامہ ابن حجر نے بیان کیا ہے کہ حدیث کا اصطلاحی معنی یہ ہے:
ما يضاف الى النبي صلى الله عليه وسلم-
جس چیز کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کی جائے وہ حدیث ہے۔
گویا کہ یہ قرآن مجید کے مقابلہ میں ہے، کیونکہ کلام اللہ قدیم ہے اور کلام رسول حدیث (حادث) ہے، علامہ طیبی نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم، صحابی اور تابعی کے قول، فعل اور تقریر پر حدیث کا اطلاق ہوتا ہے، اور کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو حدیث اور صحابی کے قول کو اثر کہتے ہیں اور کبھی اول الذکر کو حدیث مرفوع اور ثانی الذکر کو حدیث موقوف کہتے ہیں۔
ٹیگز:-
مقدمہ صحیح مسلم , Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح مسلم , شرح صحیح مسلم , مقدمہ , الصحیح مسلم