محدث اور حافظ کی تعریف

شیخ فتح الدین نے یہ کہا ہے کہ ہمارے زمانہ میں محدث وہ شخص ہے جو علم الحدیث روایۃ ودرایۃ کا ماہر ہو اور بہ کثرت راویوں اور مرویات پر مطلع ہو۔

حافظ الحدیث کو کس قدر احادیث یاد ہونی چاہئیں؟ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ امام احمد بن حنبل نے کہا میں نے مسند کو ساڑھے سات لاکھ احادیث میں سے منتخب کیا ہے، اور امام ابو زرعہ نے کہا امام احمد کو دس لاکھ احادیث حفظ تھیں، اور یحییٰ بن معین نے کہا میں نے دس لاکھ احادیث اپنے ہاتھ سے لکھی ہیں، امام بخاری نے کہا مجھے ایک لاکھ احادیث صحیحہ اور دو لاکھ احادیث غیر صحیحہ حفظ تھیں، امام مسلم نے کہا میں نے اپنی مسند صحیح کو ان تین لاکھ احادیث سے منتخب کیا ہے جو میں نے خود سنی تھیں، حاکم نے مدخل میں لکھا ہے کہ کسی ایک حافظ حدیث کو پانچ لاکھ احادیث حفظ ہوتی تھیں، اور امام احمد کہتے تھے کہ سات لاکھ احادیث صحیح ہیں، اور ابو زرعہ کو سات لاکھ احادیث حفظ تھیں، ان میں آثار صحابہ اور اقوال تابعین بھی شامل ہیں۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ تدریب الراوی ج ۱ ص ۵۴-۴۰، ملخصاً، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، الطبعۃ الثانیۃ ۱۳۹۲ھ)

ان اہم اصطلاحات کو بیان کرنے کے بعد اب ہم اقسام حدیث کو بیان کرتے ہیں: