حدیثِ معلق کی تعریف اور اس کا حکم

تعلیق کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ لٹکانا اور حدیثِ معلق چونکہ عالی جہت سے متصل اور سافل جہت سے منقطع ہوتی ہے تو یہ اس چیز کی طرح ہوگئی جو چھت سے لٹکی ہوئی ہو، اس کی اصطلاحی تعریف یہ ہے:

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

اِذَا كَانَ السَّقْطُ مِنْ مَبَادِي السَّنَدِ مِنْ تَصَرُّفِ الْمُصَنِّفِ فَهُوَ الْمُعَلَّقُ.

جب مصنف کے تصرف سے سند کے اول سے راوی کو ساقط کردیا جائے تو وہ حدیث معلق ہے۔

حدیث معلق کی ایک صورت یہ ہے کہ پوری سند کو ساقط کردیا جائے مثلاً کہا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا صحابی کے سوا تمام سند کو حذف کردیا جائے مثلاً حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا تابعی اور صحابی کے سوا تمام سند کو حذف کردیا جائے مثلاً نافع حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبۃ الفکر ص ۵۰-۴۹، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی  )

اس کی مثال یہ ہے: امام بخاری فرماتے ہیں:

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أحَبُّ الدِّيْنِ اِلَى اللهِ الْحَنِيْفَةُ السَّمْحَةُ. (امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۱۰، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی، ۱۳۸۱ھ  )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین وہ ہے جس میں شرک سے اعراض ہو اور سہل ہو۔

وَقَالَ اَنَسٌ حَسَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَخِذِهِ. (امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۵۳، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی، ۱۳۸۱ھ )

حضرت انس نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے کپڑا ہٹایا۔

وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَرْهَدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَخِذُ عَوْرَةٌ. (امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۵۳، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی، ۱۳۸۱ھ  )

حضرت ابن عباس، حضرت جرہد اور حضرت محمد بن جحش رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ران عورت (واجب الستر) ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

حدیث معلق کو مردود کی اقسام میں اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ جس راوی کو حذف کیا گیا ہے اس کا حال معلوم نہیں ہے اور اگر اس راوی کا کسی اور سند میں مذکور ہونا معلوم ہوجائے (اور وہ ثقہ ہو) تو اس حدیث پر صحت کا حکم لگایا جاتا ہے اور اگر مصنف یہ کہے کہ میں نے جن تمام راویوں کو حذف کیا ہے وہ سب ثقہ ہیں تو یہ تعدیل علی الابہام ہے۔ اور جمہور کے نزدیک یہ حدیث اس وقت تک مقبول نہیں ہے جب تک کہ اس راوی کا ذکر نہ کیا جائے، لیکن حافظ ابن الصلاح نے یہ کہا ہے کہ اگر وہ کسی ایسی کتاب کی حدیث کی سند میں حذف ہو جس کے مصنف نے صحت کا التزام کر لیا ہو، جیسے امام بخاری اور امام مسلم تو اس حدیث کو مصنف جب جزم کے ساتھ ذکر کرے گا (مثلاً ذکر ابن عباس، یا روى فلان، یا قال النبي صلى الله علیہ وسلم)

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کی سند اس کے نزدیک ثابت ہے، اور اس نے کسی غرض (مثلاً اختصار یا تکرار سے بچنے کے لیے) کی وجہ سے سند کو حذف کردیا ہے اور جس حدیث کو بغیر جزم کے ذکر کیا ہے (مثلاً صیغہ مجہول کے ساتھ یاد کیا یا یروی لکھا ہے) تو اس میں بحث کی گنجائش ہے۔ (حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبۃ الفکر ص ۵۱۔۵۰، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

تحقیق یہ ہے کہ صحیح بخاری کی تعلیقات میں احادیثِ ضعیفہ بھی ہیں اور بعض احادیث بہت شدید ضعیف ہیں۔