حدیث موضوع: 

وہ گھڑی ہوئی جھوٹی بات جس کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔ (فتح المغيث للسخاوى ، ج 1،ص310مكتبة السنة ، مصر)

 موضوع روایت کا حکم: 

موضوع ، یہ بالاجماع نہ قابل انجبار نہ کہیں لائق اعتبار حتی کہ فضائل میں بھی بلکہ اسے حدیث کہنا بطور مجاز ہے حقیقت میں یہ حدیث ہی نہیں۔(فتاوى رضویه، ج5،ص440رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

حدیث گھڑنا بھی گناہ اور دیدہ و دانستہ موضوع حدیث بیان کرنا بھی گناہ، بلکہ جس حدیث کے متعلق موضوع ہونے کا گمانِ غالب ہو اس سے بھی بیان نہ کرے فقط موضوعیت کا وہم کافی نہیں، ہاں اس کی موضوعیت بتا کر ذکر کرنا جائز ہے تاکہ لوگ بچیں۔ ( مرآۃ المناجیح ، ج1، ص 197)

 موضوعیتِ حدیث کیونکر ثابت ہوتی ہے:

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

کسی حدیث کے موضوع ہونے کا ثبوت پندرہ طریقوں سے ہوتا ہے کہ اس روایت کا مضمون

(1) قرآنِ عظیم

(2) سنتِ متواترہ

(3) یا اجماعی قطعی قطعیات الدلالۃ

(4) یا عقلِ صریح

(5) یا حسِن صحیح

(6) یا تاریخِ یقینی کے ایسا مخالف ہو کہ احتمالِ تاویل و تطبیق نہ رہے۔

(7) یا (اس روایت کے) معنی شنیع و قبیح ہوں (ایسے برے ہوں کہ) جن کا صدور حضور پرنور صلوات اللہ علیہ سے منقول نہ ہو، جیسے معاذ اللہ کسی فساد یا ظلم یا عبث یا سفہ یا مدحِ باطل یا ذمِ حق پر مشتمل ہونا۔

(8) یا ایک جماعت جس کا عدد حدِ تواتر کو پہنچے اور ان میں احتمالِ کذب یا ایک دوسرے کی تقلید کا نہ رہے اُس کے کذب و بطلان پر گواہی مستند اِلی الحس دے۔

(9) یا خبر کسی ایسے امر کی ہو کہ اگر واقع ہوتا تو اُس کی نقل و خبر مشہور و مستفیض ہوجاتی، مگر اس روایت کے سوا اس کا کہیں پتا نہیں۔

(10) یا کسی حقیر فعل کی مدحت اور اس پر وعدہ و بشارت یا صغیر امر کی مذمت اور اس پر وعید و تہدید میں ایسے لمبے چوڑے مبالغے ہوں جنہیں کلامِ معجز نظامِ نبوت سے مشابہت نہ رہے۔

(11) یا یوں حکمِ وضع کیا جاتا ہے کہ لفظ رکیک و سخیف ہوں جنہیں سمع دفع اور طبع منع کرے اور ناقل مدعی ہو کہ یہ بعینہا الفاظِ کریمہ حضور افصح العرب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں یا وہ محل ہی نقل بالمعنی کا نہ ہو۔

(12) یا ناقل رافضی حضراتِ اہل بیتِ کرام علیٰ سیدہم وعلیہم الصلاۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اُس کے غیر سے ثابت نہ ہوں، جیسے حدیث :لحمك لحمي ودمك دمي (تیرا گوشت میرا گوشت، تیرا خون میرا خون۔)

یوں ہی وہ مناقبِ امیر معاویہ وعمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائلِ امیر المؤمنین و اہل بیتِ طاہرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں۔ یونہی نواصب نے مناقبِ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حدیثیں گھڑی ہیں۔

(13) یا قرائنِ حالیہ گواہی دے رہے ہوں کہ یہ روایت اس شخص نے کسی طمع سے یا غضب وغیرہما کے باعث ابھی گھڑ کر پیش کردی ہے جیسے حدیث سبق میں زیادتِ جناح اور حدیثِ ذمِ معلمینِ اطفال۔

(14) یا تمام کتب و تصانیفِ اسلامیہ میں استقرائے تام کیا جائے اور اس کا کہیں پتا نہ چلے یہ صرف اجلہ حفاظ ائمہ شان کا کام تھا جس کی لیاقت صدہا سال سے معدوم۔

(15) یا راوی خود اقرارِ وضع کردے خواہ صراحۃً خواہ ایسی بات کہے جو بمنزلہ اقرار ہو، مثلاً ایک شیخ سے بلا واسطہ بدعوی سماع روایت کرے، پھر اُس کی تاریخِ وفات وہ بتائے کہ اُس کا اس سے سننا معقول نہ ہو۔

افادہ: جو حدیث ان پندرہ عیوب سے خالی ہو اس پر حکمِ وضع کی رخصت کس حال میں ہے، اس باب میں کلماتِ علمائے کرام تین طرز پر ہیں:

(1) انکارِ محقق یعنی بے امورِ مذکورہ کے اصلاً حکمِ وضع کی راہ نہیں اگرچہ راوی وضاع، کذاب ہی پر اُس کا مدار ہو، امام سخاوی نے فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث میں اسی پر جزم فرمایا، فرماتے ہیں: ”مجرد تفرد الكذاب الوضاع ولو كان بعد الاستقصاء في التفتيش من حافظ متبحر تام الاستقراء غير مستلزم لذلك بل لا بد معه من انضمام شيء مما سيأتى“ یعنی اگر کوئی حافظ جلیل القدر کہ علمِ حدیث میں دریا اور اس کی تلاشِ کامل ومحیط ہو، تفتیشِ حدیث میں استقصائے تام کرے اور بایں ہمہ حدیث کا پتا ایک راوی کذاب بلکہ وضاع کی روایت سے جدا کہیں نہ ملے تا ہم اس سے حدیث کی موضوعیت لازم نہیں آتی جب تک امورِ مذکورہ سے کوئی امر اس میں موجود نہ ہو۔ (فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث الموضوع ، ج1،ص،297 دارالامام الطبری، بیروت)

(2) کذاب وضاع جس سے عمداً نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر معاذ اللہ بہتان وافتراء کرنا ثابت ہو، صرف ایسے کی حدیث کو موضوع کہیں گے وہ بھی بطریقِ ظن نہ بروجہِ یقین کہ بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے اور اگر قصد ًا افتراء اس سے ثابت نہیں تو اُس کی حدیث موضوع نہیں اگرچہ متہم بکذب و وضع ہو ، یہ مسلکِ امام الشان وغیرہ علماء کا ہے،نخبہ ونزھہ میں فرماتے ہیں:’’الطعن اما ان يكون لكذب الراوى بأن يروى عنه ما لم يقله صلى الله تعالى عليه وسلم متعمد الذلك او تهمته بذلك، الاول هو الموضوع، والحكم عليه بالوضع انما هو بطريق الظن الغالب لا بالقطع ، اذقد يصدق الكذوب ، والثانى هو المتروك،ملتقطاً‘‘ ترجمہ:طعن یا تو کذبِ راوی کی وجہ سے ہوگا مثلاً اس نے عمداً اپنی بات روایت کی جو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی تھی یا اس پر ایسی تہمت ہو ، پہلی صورت میں روایت کو موضوع کہیں گے اور اس پر وضع کا حکم یقینی نہیں بلکہ بطورِ ظنِ غالب ہے کیونکہ بعض اوقات بڑا جھوٹا بھی سچ بولتا ہے، اور دوسری صورت میں روایت کو متروک کہتے ہیں اھ ملتقطاً۔ (شرح نخبۃ الفكر معه نزهة النظر ، بحث الطعن، ص،54،57مطبوعه علیمی، لاهور)

حضرت علامہ ابو عبدالله محمد بن عبدالباقی الزرقانی المالکی علیہ رحمۃ الھادی (المتوفی 1122) شرح الزرقانی علی المواہب میں فرماتے ہیں: ’’المدار على الاسناد فان تفرد به كذاب او وضاع فحديثه موضوع وان كان ضعيفا فالحديث ضعيف فقط‘‘ ترجمہ: مدارِ سندِ حدیث پر ہے اگر اسے روایت کرنے والا کذاب یا وضاع متفرد ہے تو وہ روایت موضوع ہوگی اور اگر ضعیف ہے تو روایت صرف ضعیف ہوگی۔(شرح الزرقانی علی المواهب، الفصل الاول من المقصد الثامن فی طبه صلى الله عليه وسلم،ج9،ص، 337 مطبوعه دار الكتب العلمية)

حضرت ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری (المتوفی 1014)فرماتے ہیں: ’’الموضوع هو الحديث الذى فيه الطعن بكذب الراوی‘‘ترجمہ:موضوع اس روایت کو کہا جاتا ہے جس کے راوی پر کذب کا طعن ہو۔م(شرح نخبۃ الفکر فی مصطلحات اهل الأثر، ج 1 ، ص ، 435 دارالأرقم ، لبنان ، بیروت)

(3)بہت علماء جہاں حدیث پر سے حکمِ وضع اٹھاتے ہیں وجہ رد میں کذب کے ساتھ تہمت کذب بھی شامل فرماتے ہیں کہ یہ کیونکر موضوع ہوسکتی ہے حالانکہ اس کا کوئی راوی نہ کذاب ہے نہ متہم بالکذب۔ کبھی فرماتے ہیں موضوع تو جب ہوتی کہ اس کا راوی متہم بالکذب ہوتا، یہاں ایسا نہیں تو موضوع نہیں۔ اس سے متبادر ہوتا ہے کہ اگر راوی متہم بالکذب ہو تو موضوع ہونے کا حکم لگایا جا سکتا ہے۔ جو حدیث ان اٹھارہ عیوب سے پاک ہو اس کے بارے میں اجماع ہے کہ وہ موضوع نہیں۔ (ملخصا،فتاوی رضویہ ،ج5،ص466تا،460رضا فاؤنڈیشن ، لاهور)

  افاداتِ رضویہ

بعض اوقات محدثینِ حضرات کسی سند کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”لا یصح“، یعنی یہ سند صحیح نہیں، اس جملہ سے بعض لوگ مغالطہ کھاتے ہیں یا بعض اوقات بد مذہب اپنا مطلب نکالنے لیے مغالطہ آفرینی سے کام لیتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع یا باطل ہے حالانکہ صحیح سے نیچے بہت سے درجات ہیں جیسے صحیح لغیرہ، حسن لذاتہ، حسن لغیرہ، ضعیف۔ جب محدثین کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ صحیح لذاتہ نہیں اور ایسی صورت میں یہ صحیح لغیرہ، حسن لذاتہ یا حسن لغیرہ ہوسکتی ہے، خلاصہ یہ کہ صحت کی نفی تو ضعف کو بھی مستلزم نہیں چہ جائیکہ صحت کی نفی سے وضع یا بطلان کا حکم لازم آئے۔

 جانِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نامِ مبارک پر انگوٹھے چومنے کے بارے میں جو احادیث وارد ہیں، ان کے بارے میں محدثین نے لکھا کہ ”بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجۂ صحت پر فائز نہیں“ بد مذہبوں نے اس جملہ کو دیکھ کر ان احادیثِ کریمہ پر موضوع اور باطل ہونے کا حکم لگا دیا اور انگوٹھے چومنے سے سختی سے روکنے اور اپنی عادت کے مطابق شرک و بدعت کے فتوے لگانے لگے۔ امامِ اہل سنت مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بد مذہبوں کے اس پروپیگنڈے کے خلاف ایک رسالہ لکھا اور اس میں محدثانہ شان سے کلام فرمایا، امام اہل سنت کے افادات میں سے کچھ درج ذیل ہیں، یاد رہے کہ امام اہل سنت نے ہر افادہ پر متعدد نا قابلِ تردید دلائل بھی دیئے ہیں، یہاں اختصار اور تسہیل کے پیش نظر صرف افاداتِ رضویہ ہی پیش کیے جائیں گے۔

  اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت کے افادات درج ذیل ہیں:

(1) خادمِ حدیث پر روشن کہ اصطلاحِ محدثین میں نفیِ صحت نفیِ حسن کو بھی مستلزم نہیں نہ کہ نفیِ صلاح و تماسک و صلوح تمسک ، نہ کہ دعوای وضع و کذب، تو عند التحقیق ان احادیث پر جیسے باصطلاحِ محدثین حکمِ صحتِ صحیح نہیں یونہی حکمِ وضع و کذب بھی ہرگز مقبول نہیں بلکہ بتصریحِ ائمہ فن کثرتِ طُرق سے جبرِ نقصانِ متصور اور عملِ علماء و قبولِ قدماء حدیث کے لئے قوی ، دیگر اور نہ سہی تو فضائلِ اعمال میں حدیثِ ضعیف بالاجماع مقبول ، اور اس سے بھی گزرے تو بلا شبہہ یہ فعلِ اکابرِ دین سے مروی و منقول اور سلفِ صالح میں حفظِ صحتِ بصر و روشنائیِ چشم کے لئے مجرب اور معمول ، ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہو تو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلاً نقل بھی نہ ہو تو صرف تجربہ وافی کہ آخر اُس میں کسی حکمِ شرعی کا ازالہ نہیں ، نہ کسی سنّتِ ثابتہ کا خلاف ، اور نفعِ حاصل تو منعِ باطل، بلکہ انصاف کیجئے تو محدثین کا نفیِ صحت کو احادیثِ مرفوعہ سے خاص کرنا صاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیثِ موقوفہ کو غیر صحیح نہیں کہتے پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے۔

 (2) (حدیث صحیح نہ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ غلط ہے) محدثین کرام کا کسی حدیث کو فرمانا کہ صحیح نہیں اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ غلط و باطل ہے، بلکہ صحیح اُن کی اصطلاح میں ایک اعلیٰ درجہ کی حدیث ہے جس کے شرائط سخت و دشوار اور موانع و علائق کثیر و بسیار، حدیث میں اُن سب کا اجتماع اور ان سب کا ارتفاع کم ہوتا ہے، پھر اس کمی کے ساتھ اس کے اثبات میں سخت دقتیں، اگر اس مبحث کی تفصیل کی جائے کلام طویل تحریر میں آئے ان کے نزدیک جہاں ان باتوں میں کہیں بھی کمی ہوئی فرما دیتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں۔ یعنی اس درجہ علیا کو نہ پہنچی، اس سے دوسرے درجہ کی حدیث کو حسن کہتے ہیں یہ باآنکہ صحیح نہیں پھر بھی اس میں کوئی قباحت نہیں ہوتی ورنہ حسن ہی کیوں کہلاتی، فقط اتنا ہوتا ہے کہ اس کا پایہ بعض اوصاف میں اس بلند مرتبے سے جھکا ہوتا ہے، اس قسم کی بھی سیکڑوں حدیثیں صحیح مسلم وغیرہ کتب صحاح بلکہ عندالتحقیق بعض صحیح بخاری میں بھی ہیں، یہ قسم بھی استناد و احتجاج کی پوری لیاقت رکھتی ہے۔ وہی علماء جو اسے صحیح نہیں کہتے برابر اُس پر اعتماد فرماتے اور احکامِ حلال و حرام میں حجت بناتے ہیں۔

تو یہ بات خوب یاد رکھنے کی ہے کہ صحتِ حدیث سے انکار نفیِ حسن میں بھی نص نہیں جس سے قابلیتِ احتجاج منتفی ہو نہ کہ صالح و لائقِ اعتبار نہ ہونا نہ کہ محض باطل و موضوع ٹھہرنا جس کی طرف کسی جاہل کا بھی ذہن نہ جائیگا کہ صحیح و موضوع دونوں ابتداء و انتہاء کے کناروں پر واقع ہیں، سب سے اعلیٰ، صحیح اور سب سے بدتر موضوع اور وسط میں بہت اقسامِ حدیث ہیں درجہ بدرجہ۔

 (3) (حدیث کے مراتب اور اُن کے احکام) مرتبہ صحیح کے بعد حسن لذاتہ بلکہ صحیح لغیرہ پھر حسن لذاتہ، پھر حسن لغیرہ، پھر ضعیف بضعفِ قریب اس حد تک کہ صلاحیتِ اعتبار باقی رکھے جیسے اختلاطِ راوی یا سوءِ حفظ یا تدلیس وغیرہا، اوّل کے تین بلکہ چاروں قسم کو ایک مذہب پر اسمِ ثبوت تناول ہے اور وہ سب محتج بہا ہیں اور آخر کی قسم صالح، یہ متابعات وشواہد میں کام آتی ہے اور جابر سے قوت پا کر حسن لغیرہ بلکہ صحیح لغیرہ ہوجاتی ہے، اُس وقت وہ صلاحیتِ احتجاج و قبول فی الاحکام کا زیور گراںبہا پہنتی ہے، ورنہ دربارہ فضائل تو آپ ہی مقبول و تنہا کافی ہے، پھر درجہ ششم میں ضعفِ قوی و وہنِ شدید ہے جیسے راوی کے فسق وغیرہ قوادحِ قویہ کے سبب متروک ہونا بشرطیکہ ہنوز سرحدِ کذب سے جدائی ہو، یہ حدیث احکام میں احتجاج درکنار اعتبار کے بھی لائق نہیں، ہاں فضائل میں مذہبِ راجح پر مطلقاً اور بعض کے طور پر بعد انجبار بتعددِ مخارج وتنوعِ طرق منصبِ قبول وعمل پاتی ہے پھر درجہ ہفتم میں مرتبہ مطروح ہے جس کا مدار وضاع کذاب یا متہم بالکذب پر ہو، یہ بدترین اقسام ہے بلکہ بعض محاورات کے رُو سے مطلقاً اور ایک اصطلاح پر اس کی نوع اشد یعنی جس کا مدار کذب پر ہو عین موضوع، یا نظرِ تدقیق میں یوں کہے کہ ان اطلاقات پر داخلِ موضوعِ حکمی ہے۔ ان سب کے بعد درجہ موضوع کا ہے، یہ بالاجماع نہ قابلِ انحبار، نہ فضائل و غیرہا کسی باب میں لائقِ اعتبار، بلکہ اُسے حدیث کہنا ہی توسع و تجوز ہے، حقیقۃً حدیث نہیں محض مجعول وافترا ہے، والعیاذ باللہ تبارک وتعالیٰ۔ خیر بات دُور پڑتی ہے کہنا اس قدر ہے کہ جب صحیح اور موضوع کے درمیان اتنی منزلیں ہیں تو انکارِ صحت سے اثباتِ وضع ماننا زمین و آسمان کے قلابے ملانا ہے، بلکہ نفیِ صحت اگر بمعنی نفیِ ثبوت ہی لیجئے یعنی اُس فرقہ محدثین کی اصطلاح پر جس کے نزدیک ثبوتِ صحت و حسن دونوں کو شامل، تاہم اُس کا حاصل اس قدر ہوگا کہ صحیح و حسن نہیں نہ کہ باطل و موضوع ہے کہ حسن و موضوع کے بیچ میں بھی دُور دراز میدان پڑے ہیں۔

 (4) (جہالتِ راوی سے حدیث پر کیا اثر پڑتا ہے) کسی حدیث کی سند میں راوی کا مجمول ہونا اگر اثر کرتا ہے تو صرف اس قدر کہ اُسے ضعیف کہا جائے نہ کہ باطل و موضوع بلکہ علماء کو اس میں اختلاف ہے کہ جہالت قادحِ صحت و مانعِ حجیت بھی ہے یا نہیں تفصیل مقام یہ کہ مجمول کی تین قسمیں ہیں:

 اول مستور:

جس کی عدالتِ ظاہری معلوم اور باطنی کی تحقیق نہیں، اس قسم کے راوی صحیح مسلم شریف میں بکثرت ہیں۔

 دوم مجهول العين:

جس سے صرف ایک ہی شخص نے روایت کی ہو۔ اس قسم میں نزاع ہے بعض محدثین نے مطلقاً صرف ایک ثقہ راوی کی وجہ سے جہالت کی نفی کی ہے یا اس شرط کے ساتھ نفی کی ہے کہ وہ اس سے روایت کرتا ہے جو اس کے ہاں عادل ہے مثلاً یحییٰ بن سعید بن القطان، عبد الرحمن بن مہدی اور امام احمد اپنی مسند میں اور یہاں دیگر اقوال بھی ہیں۔

 سوم مجهول الحال:

جس کی عدالتِ ظاہری و باطنی کچھ ثابت نہیں۔

 قسمِ اوّل

 یعنی مستور تو جمہور محققین کے نزدیک مقبول ہے ، یہی مذہب امام الائمہ سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے، اور دو قسم باقی کو بعض اکابر حجّت جانتے جمہور مورثِ ضعف مانتے ہیں ، بلکہ امام نووی نے مجهول العین کا قبول بھی بہت محققین کی طرف نسبت فرمایا بلکہ امام اجل عارف باللہ سیدی ابو طالب مکی قدس سرہ الملاکی اسی کو فقہائے کرام و اولیائے عظام قدست اسرارہم کا مذہب قرار دیتے ہیں۔

 بہر حال نزاع اس میں ہے کہ جہالت سرے سے وجوہِ طعن سے بھی ہے یا نہیں، یہ کوئی نہیں کہتا کہ جس حدیث کا راوی مجہول ہو خواہ ہی نحواہی باطل و مجہول ہو، بعض متشددین نے اگر دعوے سے قاصر دلیل ذکر بھی کی علماء نے فوراً رد وابطال فرما دیا کہ جہالت کو وضع سے کیا علاقہ۔

 خلاصہ یہ کہ سند میں متعدد مجہولوں کا ہونا حدیث میں صرف ضعف کا مورث ہے اور صرف ضعیف کا مرتبہ حدیثِ منکر سے احسن واعلیٰ ہے جسے ضعیف راوی نے ثقہ راویوں کے خلاف روایت کیا ہو ، پھر وہ بھی موضوع نہیں ، تو فقط ضعیف کو موضوعیت سے کیا علاقہ، امام جلیل جلال الدین سیوطی نے ان مطالب کی تصریح فرمائی واللہ تعالیٰ اعلم ۔

 (5) (حدیثِ منقطع کا حکم) اسی طرح سند کا منقطع ہونا مستلزمِ وضع نہیں، ہمارے ائمہ کرام اور جمہور علماء کے نزدیک تو انقطاع سے صحت و حجیت ہی میں کچھ خلل نہیں آتا۔

اور جو اسے قادح جانتے ہیں وہ بھی صرف مورثِ ضعف مانتے ہیں نہ کہ مستلزمِ موضوعیت۔

 (6) (حدیثِ مضطرب بلکہ منکر بلکہ مدرج بھی موضوع نہیں) انقطاع تو ایک امرِ سہل ہے جسے صرف بعض نے طعن جانا، علماء فرماتے ہیں: حدیث کا مضطرب بلکہ منکر ہونا بھی موضوعیت سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا، یہاں تک کہ دربارہ فضائل مقبول رہے گی۔ بلکہ فرمایا کہ مدرج بھی موضوع سے جدا قسم ہے، حالانکہ اُس میں تو کلامِ غیر کا خلط ہوتا ہے۔

 (7) (جس حدیث میں راوی بالکل مبہم ہو وہ بھی موضوع نہیں) خیر جہالتِ راوی کا تو یہ حاصل تھا کہ شاگرد ایک یا عدالتِ مشکوک شخص تو معین تھا کہ فلاں ہے، مبہم میں تو اتنا بھی نہیں، جیسے حدثنی رجل (مجھ سے ایک شخص نے حدیث بیان کی) یا بعض اصحابنا (ایک رفیق نے خبر دی) پھر یہ بھی صرف مورثِ ضعف ہے نہ کہ موجبِ وضع، و لہٰذا تصریح فرمائی کہ حدیثِ مبہم کا طرقِ دیگر سے جبر نقصان ہو جاتا ہے، بلکہ وہ خود حدیثِ دیگر کو قوت دینے کی لیاقت رکھتی ہے۔

 (8) (ضعفِ راویان کے باعث حدیث کو موضوع کہہ دینا ظلم و جزاف ہے) بھلا جہالت و ابہام تو عدمِ علمِ عدالت ہے اور بداہتِ عقل شاہد کہ علمِ عدم، عدمِ علم سے زائد، مجہول و مبہم کا کیا معلوم، شاید فی نفسہ ثقہ ہو اور جس پر جرح ثابت، احتمالِ ساقط۔ و لہٰذا محدثین دربارہ مجہول رد و قبول میں مختلف اور ثابت الجرح کے رد پر متفق ہوئے۔

پھر علماء کی تصریح ہے کہ مجرد ضعفِ رواۃ کے سبب حدیث کو موضوع کہہ دینا ظلم و جزاف ہے۔

 (9) (ایسا غافل کہ حدیث میں دوسرے کی تلقین قبول کرلے اس کی حدیث بھی موضوع نہیں) پھر کسی ہلکے سے ضعف کی خصوصیت نہیں، بلکہ سخت سخت اقسامِ جرح میں جن کا ہر ایک جہالتِ راوی سے بدرجہا بدتر ہے، یہی تصریح ہے کہ اُن سے بھی موضوعیت لازم نہیں، مثلاً راوی کی اپنی مرویات میں ایسی غفلت کہ دوسرے کی تلقین قبول کرلے یعنی دوسرا جو بتا دے کہ تُو نے یہ سنا تھا وہی مان لے، پر ظاہر کہ یہ شدّتِ غفلت سے ناشی اور غفلت کا طعن فسق سے بھی بدتر اور جہالت سے تو چار درجہ زیادہ سخت ہے، امام الشان نے نخبۃ الفکر میں اسبابِ طعن کی دس (10) قسمیں فرمائیں:

 (۱) کذب کہ معاذاللہ قصداً حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر افتراء کرے۔ 

(۲) تہمتِ کذب کہ جو حدیث اُس کے سوا دوسرے نے روایت نہ کی، مخالفِ قواعدِ دینیہ ہو یا اپنے کلام میں جھوٹ کا عادی ہو۔ 

(۳) کثرتِ غلط  

(۴) غفلت

(۵) فسق

 (۶) وهم 

(۷) مخالفتِ ثقات

(۸) جہالت

 (۹) بدعت

(۱۰) سُوءِ حفظ۔ 

اور تصریح فرمائی کہ ہر پہلا دوسرے سے سخت تر ہے، پھر علماء فرماتے ہیں ایسے غافل شدید الطعن کی حدیث بھی موضوع نہیں۔ 

(10) (منکر الحدیث کی حدیث بھی موضوع نہیں) یوں ہی منکر الحدیث، اگرچہ یہ جرح امام اجل محمد بن اسماعیل بخاری علیہ رحمۃ الباری نے فرمائی ہو حالانکہ وہ ارشاد فرما چکے کہ میں جسے منکر الحدیث کہوں اُس سے روایت حلال نہیں، باایں ہمہ علماء نے فرمایا ایسے کی حدیث بھی موضوع نہیں۔ 

 (11) (متروک کی حدیث بھی موضوع نہیں) ضعیفوں میں سب سے بدتر درجہ متروک کا ہے جس کے بعد صرف مہتم بالوضع یا کذاب دجال کا مرتبہ ہے، بلکہ مولانا علی قاری نے حاشیہ نزہۃ النظر میں متروک و متہم بالوضع کا ایک مرتبہ میں ہونا نقل کیا۔ 

اس پر بھی علماء نے تصریح فرمائی کہ متروک کی حدیث بھی صرف ضعیف ہی ہے موضوع نہیں۔ 

سبحان اللہ! جب انتہادرجہ کی شدید جرحوں سے موضوعیت ثابت نہیں ہوتی ، تو صرف جہالتِ راوی یا انقطاع سند کے سبب موضوع کہہ دینا کیسی جہالت اور عدل و عقل سے انقطاع کی حالت ہے ولـكـن الوهابیۃ قوم یجھلون۔ 

(دلائل دینے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں) یہ ارشادات تو ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے تھے، ایک قول وہابیہ کے امام شوکانی کا بھی لیجئے، موضوعاتِ ابوالفرج میں یہ حدیث کہ جب مسلمان کی عمر چالیس برس کی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ جنون وجذام و برس کو اس سے پھیرا دیتا ہے اور پچاس سال والے پر حساب میں نرمی اور ساٹھ (60) برس والے کو توبہ و عبادت نصیب ہوتی ہے، ہفتاد (70) سالہ کو اللہ عزوجل اور اُس کے فرشتے دوست رکھتے ہیں، اسی (80) برس والے کی نیکیاں قبول اور برائیاں معاف، نوے (90) برس والے کے سب اگلے پچھلے گناہ مغفور ہوتے ہیں، وہ زمین میں اللہ عزوجل کا قیدی کہلاتا ہے اور اپنے گھر والوں کا شفیع کیا جاتا ہے، بطریق عدیدہ روایت کرکے اُس کے راویوں پر طعن کئے کہ یوسف بن ابی ذرہ راوی منا کیر لیس بشی ء ہے اور فرج ضعیف منکر الحديث کو واہی حدیثوں کو صحیح سندوں سے ملا دیتا ہے اور محمد بن عامر حدیثوں کو پلٹ دیتا ہے ثقات سے وہ روایتیں کرتا ہے جو اُن کی حدیث سے نہیں اور عرزمی متروک اور عباد بن عباس مستحق ترک اور عزرہ کو یحییٰ بن معین نے ضعیف بتایا اور ابو الحسن کوفی مجهول اور عائز ضعیف ہے۔

شوکانی نے (زهر النسرين في حديث المعمرين للشوكانی میں) ان سب مطاعن کو نقل کرکے کہا: هذا غاية ما ابدى ابن الجوزی دليلا على ما حكم به من الوضع، وقد افرط وجازف فليس مثل هذه المقالات توجب الحكم بالوضع بل اقل احوال الحديث ان يكون حسنا لغيره۔ یعنی ابن جوزی نے جو اس حدیث پر حکم وضع کیا اُس کی دلیل میں انتہا درجہ یہ طعن پیدا کیے اور بے شک وہ حد سے بڑھے اور بیبا کی کو کام میں لائے کہ ایسے طعن حکم وضع کے موجب نہیں، بلکہ کم درجہ حال اس حدیث کا یہ ہے کہ حسن لغیرہ ہو۔

 (12) (موضوعیت حدیث کیونکہ ثابت ہوتی ہے) غرض ایسے وجوہ سے حکم وضع کی طرف راہ چاہنا محض ہوس ہے، ہاں موضوعیت یوں ثابت ہوتی ہے کہ اس روایت کا مضمون

 (۱) قرآنِ عظیم

(۲) سنت متواترہ

(۳) اجماعِ قطعی قطعيات الدلالة

(۴) عقلِ صریح

(۵) حسن صحیح

(۶) تاریخِ یقینی کے ایسا مخالف ہو کہ احتمال تاویل وتطبیق نہ رہے۔

(۷) یا معنیٰ شنیع و قبیح ہوں جن کا صدور حضور پرنور صلوات اللہ علیہ سے منقول نہ ہو، جیسے معاذ اللہ کسی فساد یا ظلم یا عبث یا سفہ یا مدح باطل یا ذم حق پر مشتمل ہونا۔

(۸) یا ایک جماعت جس کا عددِ حد تواتر کو پہنچے اور ان میں احتمالِ کذب یا ایک دوسرے کی تقلید کا نہ رہے اُس کے کذب وبطلان پر گواہی مستند اِلی الحس دے۔

(۹) یا خبر کسی ایسے امر کی ہو کہ اگر واقع ہوتا تو اُس کی نقل و خبر مشہور و مستفیض ہوجاتی، مگر اس روایت کے سوا اس کا کہیں پتا نہیں ۔

(۱۰) یا کسی حقیر فعل کی مدحت اور اس پر وعدہ و بشارت یا صغیر امر کی مذمت اور اس پر وعید و تہدید میں ایسے لمبے چوڑے مبالغے ہوں جنہیں کلامِ معجز نظامِ نبوت سے مشابہت نہ رہے۔ یہ دس صورتیں تو صریح ظہور و وضوحِ وضع کی ہیں۔

(۱۱) یا یوں حکمِ وضع کیا جاتا ہے کہ لفظِ رکیک و سخیف ہوں جنہیں سمع دفع اور طبع منع کرے اور ناقل مدعی ہو کہ یہ بعینہا الفاظِ کریمہ حضور افصح العرب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں یا وہ محل ہی نقل بالمعنی کا نہ ہو۔

(۱۲) یا ناقل رافضی حضراتِ اہلبیتِ کرام علیٰ سیدہم وعلیہم الصلاۃ والسلام کے فضائل میں وہ باتیں روایت کرے جو اُس کے غیر سے ثابت نہ ہوں، جیسے حدیث: لحمک لحمی ودمک دمی (تیرا گوشت میرا گوشت، تیرا خون میرا خون)۔ اقول (میں کہتا ہوں) انصافاً یوں ہی وہ مناقبِ امیر معاویہ وعمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائلِ امیر المؤمنین واہلِ بیتِ طاہرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں کما نص علیہ الحافظ ابو یعلی والحافظ الخلیلی فی الارشاد (جیسا کہ اس پر حافظ ابو یعلیٰ اور حافظ خلیلی نے ارشاد میں تصریح کی ہے)۔ یونہی نواصب نے مناقبِ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حدیثیں گھڑیں کما ارشد الیہ الامام الذاب عن السنۃ احمد بن حنبل رحمه الله تعالى (جیسا کہ اس کی طرف امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی جو سنت کا دفاع کرنے والے ہیں)۔

(۱۳) یا قرائنِ حالیہ گواہی دے رہے ہوں کہ یہ روایت اس شخص نے کسی طمع سے یا غضب وغیرہما کے باعث ابھی گھڑ کر پیش کر دی ہے جیسے حدیث سبق میں زیادتِ جناح اور حدیثِ ذمِ معلمینِ اطفال۔

(۱۴) یا تمام کتب و تصانیفِ اسلامیہ میں استقرائے تام کیا جائے اور اس کا کہیں پتا نہ چلے یہ صرف اجلہ حفاظِ ائمہ شان کا کام تھا جس کی لیاقت صدہا سال سے معدوم۔

(۱۵) یا راوی خود اقرارِ وضع کر دے خواہ صراحۃً خواہ ایسی بات کہے جو بمنزلہ اقرار ہو، مثلاً ایک شیخ سے بلا واسطہ بدعوی سماع روایت کرے، پھر اُس کی تاریخِ وفات وہ بتائے کہ اُس کا اس سے سننا معقول نہ ہو۔ یہ پندرہ باتیں ہیں کہ شاید اس جمع و تلخیص کے ساتھ ان سطور کے سوا نہ ملیں۔

ثم اقول (پھر میں کہتا ہوں) رہا یہ کہ جو حدیث ان سب سے خالی ہو اس پر حکمِ وضع کی رخصت کس حال میں ہے ،

اس باب میں کلماتِ علمائے کرام تین طرز پر ہیں:

(۱) انکارِ محقق

یعنی بے امورِ مذکورہ کے اصلاً حکمِ وضع کی راہ نہیں اگرچہ راوی وضاع، کذاب ہی پر اُس کا مدار ہو۔

(۲) کذابِ وضاع

جس سے عمداً نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر معاذ اللہ بہتان و افتراء کرنا ثابت ہو، صرف ایسے کی حدیث کو موضوع کہیں گے وہ بھی بطریقِ ظن نہ بروجہِ یقین کہ بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے اور اگر قصدِ افترا اس سے ثابت نہیں تو اُس کی حدیث موضوع نہیں اگرچہ متہم بکذب و وضع ہو، یہ مسلک امام الشان وغیرہ علماء کا ہے۔

(۳) بہت علماء جہاں حدیث پر سے حکمِ وضع اٹھاتے ہیں وجہِ رد میں کذب کے ساتھ تہمتِ کذب بھی شامل فرماتے ہیں کہ یہ کیونکر موضوع ہوسکتی ہے حالانکہ اس کا کوئی راوی نہ کذاب ہے نہ متہم بالکذب۔ کبھی فرماتے ہیں موضوع تو جب ہوتی کہ اس کا راوی متہم بالکذب ہوتا یہاں ایسا نہیں تو موضوع نہیں۔

بالجملہ اس قدر پر اجماعِ محققین ہے کہ حدیث جب اُن دلائل و قرائنِ قطعیہ و غالبہ سے خالی ہو اور اُس کا مدار کسی متہم بالکذب پر نہ ہو تو ہرگز کسی طرح اُسے موضوع کہنا ممکن نہیں جو بغیر اس کے حکم بالوضع کر دے یا مشدد مفرط ہے یا مخطی غلط یا متعصب مغالط واللہ الھادی وعلیہ اعتمادی۔

(13) (بارہا موضوع یا ضعیف کہنا صرف ایک سند خاص کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث کے) جو حدیث فی نفسہ ان پندرہ دلائل سے منزہ ہو محدث اگر اُس پر حکمِ وضع کرے تو اس سے نفسِ حدیث پر حکم لازم نہیں بلکہ صرف اُس سند پر جو اُس وقت اس کے پیشِ نظر ہے، بلکہ بارہا اسانیدِ عدیدہ حاضرہ سے فقط ایک سند پر حکم مراد ہوتا ہے یعنی حدیث اگرچہ فی نفسہٖ ثابت ہے، مگر اس سند سے موضوع و باطل اور نہ صرف موضوع بلکہ انصافاً ضعیف کہنے میں بھی یہ حاصل، ائمہِ حدیث نے ان مطالب کی تصریحیں فرمائیں تو کسی عالم کو حکمِ وضع یا ضعف دیکھ کر خواہ مخواہ ہی یہ سمجھ لینا کہ اصل حدیث باطل یا ضعیف ہے، ناواقفوں کی فہمِ سخیف ہے۔

(نتیجة الافادات) بحمد اللہ تعالیٰ فقیر آستان قادری غفر اللہ تعالیٰ لہ کے ان گیارہ افادات نے مہرِ نیمروز و ماہِ نیم ماہ کی طرح روشن کر دیا کہ احادیثِ تقبیلِ ابہامین (انگوٹھے چومنے والی احادیث) کو وضع و بطلان سے اصلاً کچھ علاقہ نہیں، اُن پندرہ عیبوں سے اس کا پاک ہونا تو بدیہی اور یہ بھی صاف ظاہر کہ اس کا مدار کسی وضاع، کذاب یا متہم بالکذب پر نہیں۔ پھر حکمِ وضع محض بے اصل و واجب الدفع، ولہٰذا علمائے کرام نے صرف “لا يصح” فرمایا یہاں تک کہ وہابیہ کے امام شوکانی نے بھی باآنکہ ایسے مواقع میں سخت تشدد اور بہت مسائل میں بے معنی تفرد کی عادت ہے، فوائد مجموعہ میں اسی قدر پر اختصار کیا اور موضوع کہنے کا راستہ نہ ملا، اگر بالفرض کسی امام معتمد کے کلام میں حکم وضع واقع ہوا ہو تو وہ صرف کسی سند خاص کی نسبت ہوگا نہ اصل حدیث پر جس کے لئے کافی سندیں موجود ہیں جنہیں وضع واضعین سے کچھ تعلق نہیں کہ جہالت وانقطاع اگر ہیں تو مورث ضعف نہ کہ مثبت وضع۔ بعونہ تعالیٰ یہاں تک کی تقریر سے موضوعیت حدیث کی نسبت منکرین کی بالاخوانیوں بالا بالا گئیں، آگے چلیے وبالله التوفيق۔

(14) (تعدد طرق سے ضعیف حدیث قوت پاتی بلکہ حسن ہوجاتی ہے) حدیث اگر متعدد طریقوں سے روایت کی جائے اور وہ سب ضعف رکھتے ہوں تو ضعیف ضعیف مل کر بھی قوت حاصل کر لیتے ہیں، بلکہ اگر ضعف غایت شدت وقوت پر نہ ہو تو جبر نقصان ہو کر حدیث درجہ حسن تک پہنچتی اور مثل صحیح خود احکام حلال وحرام میں حجت ہو جاتی ہے۔

(15) (حدیث مجهول وحدیث مبہم تعدد طرق سے حسن ہوجاتی ہے اور وہ جابر و منجبر ہونے کے صالح ہیں) جہالت راوی بلکہ ابہام بھی انہیں کم درجہ کے ضعفوں سے ہے جو تعدد طرق سے منجبر ہو جاتے ہیں اور حدیث کو رتبہ حسن تک ترقی سے مانع نہیں آتے ، یہ حدیثیں جابر و منجبر دونوں ہونے کے صالح ہیں۔

(16) (حصول قوت کو صرف دو سندوں سے آنا کافی ہے) حصول قوت کیلئے کچھ بہت سے ہی طرق کی حاجت نہیں صرف دو بھی مل کر قوت پا جاتے ہیں۔

(17) (اہل علم کے عمل کرنے سے بھی حدیث ضعیف قوی ہوجاتی ہے) اہل علم کے عمل کر لینے سے بھی حدیث قوت پاتی ہے اگرچہ سند ضعیف ہو۔

(18) (حدیث سے ثبوت ہونے میں مطالب تین قسم ہیں) جن باتوں کا ثبوت حدیث سے پایا جائے وہ سب ایک پلہ کی نہیں ہوتیں بعض تو اس اعلیٰ درجہ قوت پر ہوتی ہیں کہ جب تک حدیث مشہور، متواتر نہ ہو اس کا ثبوت نہیں دے سکتے احاد اگرچہ کیسے ہی قوت سند و نہایت صحت پر ہوں ان کے معاملہ میں کام نہیں دیتیں۔ (عقائد میں احادیث احاد اگرچہ صحیح ہوں کافی نہیں) ، یہ اصول عقائد اسلامیہ ہیں جن میں خاص یقین درکار۔

(دربارہ احکام ضعیف کافی نہیں) دوسرا درجہ احکام کا ہے کہ اُن کے لئے اگرچہ اتنی قوت درکار نہیں پھر بھی حدیث کا صحیح لذاتہ خواہ لغیرہ یا حسن لذاتہ یا کم سے کم لغیرہ ہونا چاہئے ،جمہور علماء یہاں ضعیف حدیث نہیں سنتے۔

(فضائل ومناقب میں باتفاق علماء حدیث ضعیف مقبول وکافی ہے) تیسرا مرتبہ فضائل ومناقب کا ہے یہاں باتفاقِ علماء ضعیف حدیث بھی کافی ہے، مثلاً کسی حدیث میں ایک عمل کی ترغیب آئی کہ جو ایسا کرے گا اتنا ثواب پائے گا یا کسی نبی یا صحابی کی خوبی بیان ہوئی کہ انہیں اللہ عزوجل نے یہ مرتبہ بخشا، یہ فضل عطا کیا، تو ان کے مان لینے کو ضعیف حدیث بھی بہت ہے، ایسی جگہ صحت حدیث میں کام کر کے اسے پایہ قبول سے ساقط کرنا فرقِ مراتب نہ جاننے سے ناشی، جیسے بعض جاہل بول اٹھے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں، یہ اُن کی نادانی ہے علمائے محدثین اپنی اصطلاح پر کلام فرماتے ہیں، یہ بے سمجھے خدا جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں ،

عزیز و! مسلم کہ صحت نہیں پھر حسن کیا کم ہے، حسن بھی نہ سہی یہاں ضعیف بھی مستحکم ہے۔

فضائل اعمال و تفصیل صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حدیثیں کیسی ہی ہوں ہر حال میں مقبول و ماخوذ ہیں مقطوع ہوں خواہ مرسل نہ اُن کی مخالفت کی جائے نہ انہیں رد کریں، ائمہ سلف کا یہی طریقہ تھا۔

(19) فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے حدیث ضعیف ثبوتِ استحباب کے لئے بس ہے۔

(20) (خود احادیث حکم فرماتی ہیں کہ ایسی جگہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے) جانِ برادر! اگر چشمِ بینا اور گوشِ شنوا ہے تو تصریحاتِ علماء درکنار خود حضورِ پرنور سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے احادیثِ کثیرہ ارشاد فرماتی آئیں کہ ایسی جگہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے اور تحقیقِ صحت و جودتِ سند میں تعمق و تدقیق راہ نہ پائے وَلٰکِنَّ الۡوَھَابِیَّۃَ قَوۡمٌ یَّعۡتَدُوۡنَ۔ گوشِ ہوش سنیے اور الفاظ احادیث پر غور کرتے جائیے ، (۱) حسن بن عرفہ اپنے جزوِ حدیثی (۲) اور ابو الشیخ مکارم الاخلاق میں سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما (۳) اور دارقطنی (۴) اور موہبی کتاب فضل العلم میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما (۵) اور کاملِ جحدری اپنے نسخہ میں (۶) اور عبد اللہ بن محمد بغوی اُن کے طریق سے (۷) اور ابن حبان (۸) اور ابو عمر بن عبد البرکتاب العلم (۹) اور ابو احمد ابن عدی کامل میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیہم اجمعین فرماتے ہیں: ((مَنْ بَلَغَهٗ عَنِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ شَیْءٌ فِیْهِ فَضِیْلَةٌ فَاَخَذَ بِهٖ ایْمَانًا بِهٖ وَرَجَاءَ ثَوَابِهٖ اَعْطَاهُ اللّٰهُ تَعَالٰی ذٰلِكَ وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ كَذٰلِكَ)) جسے اللہ تبارک وتعالیٰ سے کسی بات میں کچھ فضیلت کی خبر پہنچے وہ اپنے یقین اور اُس کے ثواب کی اُمید سے اُس بات پر عمل کرے اللہ تعالیٰ اُسے وہ فضیلت عطا فرمائے اگر چہ خبر ٹھیک نہ ہو۔ (اس کے علاوہ بھی اس مقام پر امام اہل سنت نے متعدد احادیثِ کریمہ نقل فرمائیں ، پھر فرمایا) ان احادیث سے صاف ظاہر ہوا کہ جسے اس قسم کی خبر پہنچی کہ جو ایسا کرے گا یہ فائدہ پائے گا اُسے چاہیے نیک نیتی سے اس پر عمل کرلے اور تحقیق صحتِ حدیث و نظافتِ سند کے پیچھے نہ پڑے وہ ان شاء اللہ اپنے حسنِ نیت سے اس نفع کو پہنچ ہی جائے گا اقول یعنی جب تک اُس حدیث کا بطلان ظاہر نہ ہو کہ بعد ثبوتِ بطلان رجاء و امید کے کوئی معنے نہیں۔

اور وجہ اس عطائے فضل کی نہایت ظاہر کہ حضرتِ حق عزوجل اپنے بندہ کے ساتھ اُس کے گمان پر معاملہ فرماتا ہے۔۔۔جب اُس نے اپنی صدقِ نیت سے اس پر عمل کیا اور رب عزجلالہ سے اُس نفع کی امید رکھی تو مولیٰ تبارک وتعالیٰ اکرم الاکرمین ہے اُس کی اُمید ضائع نہ کرے گا اگرچہ حدیث واقع میں کیسی ہی ہو۔ وللہ الحمد فی الاولیٰ والاٰخرۃ۔

(21) (عقل بھی گواہ ہے کہ ایسی جگہ حدیثِ ضعیف مقبول ہے) وبالله التوفيق، عقل اگر سلیم ہو تو ان نصوص ونقول کے علاوہ وہ خود بھی گواہ کافی ہے کہ ایسی جگہ ضعیف حدیث معتبر اور اس کا ضعف مغتفر کہ سند میں کتنے ہی نقصان ہوں آخر بطلان پر یقین تو نہیں فان الكذوب قد يصدق (بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے) تو کیا معلوم کہ اس نے یہ حدیث ٹھیک ہی روایت کی ہو۔ (تصحیح وتضعیف صرف بنظر ظاہر ہیں واقع میں ممکن کہ ضعیف صحیح ہو وبالعکس)۔

(احادیثِ اولیائے کرام کے متعلق نفیس فائدہ) یہی وجہ ہے کہ بہت احادیث جنہیں محدثینِ کرام اپنے طور پر ضعیف و نامعتبر ٹھہرا چکے علمائے قلب، عرفائے رب، ائمہِ عارفین، ساداتِ مکاشفین قدسنا اللہ تعالیٰ باسرارہم الجلیلہ ونور قلوبنا بانوارہم الجمیلہ انہیں مقبول ومعتمد بناتے اور بصیغ جزم و قطع حضورِ پرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف نسبت فرماتے اور ان کے علاوہ بہت وہ احادیث تازہ لاتے جنہیں علماء اپنے زبر و دفاتر میں کہیں نہ پاتے، اُن کے یہ علومِ الٰہیہ بہت ظاہر بینوں کو نفع دینا درکنار اُلٹے باعثِ طعن و وقعیت وجرح واہانت ہوجاتے، حالانکہ العظمۃ للہ وعباد اللہ ان طاعنین سے بدرجہا اتقى الله واعلـم بالله واشد توقيافي القول عن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم (حالانکہ وہ ان طعن کرنے والوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے خوف رکھنے والے، اللہ تعالیٰ کے بارے میں زیادہ علم رکھنے والے، سرورِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف کسی قول کی نسبت کرنے میں بہت احتیاط کرنے والے) تھے۔

(احادیثِ اولیاء کی امثلہ دینے کے بعد فرماتے ہیں) بالجملہ اولیاء کے لئے سوا اس سندِ ظاہری کے دوسرا طریقہ ارفع واعلٰی ہے ولہٰذا حضرت سیدی ابو یزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ و قدس سرہ السامی اپنے زمانہ کے منکرین سے فرماتے: تم نے اپنا علم سلسلہ اموات سے حاصل کیا ہے اور ہم نے اپنا علم حی لا یموت سے لیا ہے۔ (الیواَقیت والجواہر) حضرت سیدی امام المكاشفين محى الملة والدين شيخ اكبر ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ احادیث کی تصحیح فرمائی کہ طورِ علم پر ضعیف مانی گئی تھیں۔ (فتوحات مکیہ، الیواقیت) اسی طرح خاتم حفاظ الحدیث امام جلیل جلال الملة والدين سیوطی قدس سرہ العزیز پچھتر بار بیداری میں جمالِ جہاں آرائے حضورِ پرنور سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بہرہ ور ہوئے بالمشافہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے تحقیقاتِ حدیث کی دولت پائی بہت احادیث کی کہ طریقہ محدثین پر ضعیف ٹھہرچکی تھیں تصحیح فرمائی جس کا بیان عارف ربانی امام العلامہ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ نورانی کی میزان الشریعۃ الکبریٰ میں ہے۔

یہ نفیس وجلیل فائدہ کہ بمناسبت مقام بحمد اللہ تعالیٰ نفع رسانی برادرانِ دین کے لئے حوالہ قلم ہوا لوحِ دل پر نقش کر لینا چاہئے کہ اس کے جاننے والے کم ہیں اور اس لغزش گاہ میں پھسلنے والے بہت قدم۔

بات دور پہنچی، کہنا یہ تھا کہ سند پر کیسے ہی طعن و جرح ہوں اُن کے سبب بطلانِ حدیث پر جزم نہیں ہوسکتا ممکن کہ واقع میں حق ہو اور جب صدق کا احتمال باقی تو عاقل جہاں نفعِ بے ضرر کی امید پاتا ہے اُس فعل کو بجالاتا ہے دین و دنیا کے کام اُمید پر چلتے ہیں پھر سند میں نقصان دیکھ کر یکدست اس سے دست کش ہونا کس عقل کا مقتضیٰ ہے کیا معلوم اگر وہ بات سچی تھی تو خود فضیلت سے محروم رہے اور جھوٹی ہو تو فعل میں اپنا کیا نقصان۔

(22) (حدیثِ ضعیف احکام میں بھی مقبول ہے جبکہ محلِ احتیاط ہو) مقاصدِ شرع کا عارف اور کلماتِ علما کا واقف جب قبولِ ضعیف فی الفضائل کے دلائلِ مذکورہ عباراتِ سابقہ فتح المبین امام ابنِ حجر مکی و انموذج العلوم محقق دوانی وقوت القلوب امام مکی رحمہم اللہ تعالیٰ و نیز تقریرِ فقیرِ مذکور افادہ سابقہ پر نظر صحیح کرے گا، ان انوارِ تجلیہ کے پرتو سے بطورِ حدس بے تکلف اُس کے آئینہ دل میں مرتسم ہوگا کہ کچھ فضائل اعمال ہی میں انحصار نہیں بلکہ عموماً جہاں اُس پر عمل میں رنگِ احتیاط و نفعِ بے ضرر کی ضرورت نظر آئے گی بلا شبہہ قبول کی جائے گی جانبِ فعل میں اگر اس کا ورودِ استحباب کی راہ بتائے گا جانبِ ترک میں تنزع و تورع کی طرف بلائے گا۔

ظاہر ہے کہ حدیثِ ضعیف اگر مورثِ ظن نہ ہو مورثِ شبہہ سے تو کم نہیں تو محلِ احتیاط میں اس کا قبول عینِ مرادِ شارع صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مطابق ہے، احادیث اس باب میں بکثرت ہیں، ازانجمہ حدیثِ اجل و اعظم کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: ((من اتقى الشبهات فقد استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي حول الحمى يوشك ان ترتع فيه الا وان لكل ملك حمى الا وان حمى اللَّہ حماورمہ)) جو شبہات سے بچے اُس نے اپنے دین و آبرو کی حفاظت کرلی اور جو شبہات میں پڑے حرام میں پڑجائے گا جیسے رمنے کے گرد چرانے والا نزدیک ہے کہ رمنے کے اندر چرائے ، سُن لو ہر بادشاہ کا ایک رمنا ہوتا ہے، سُن لو اللہ عزوجل کا رمنا وہ چیزیں ہیں جو اس نے حرام فرمائیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

لا جرم علمائے کرام نے تصریحیں فرمائیں کہ دربارہ احکام بھی ضعیف حدیث مقبول ہوگی جبکہ جانبِ احتیاط میں ہو۔

(بُدھ کے دن بدن سے خون لینے کے باب میں) ایک حدیث ضعیف میں بُدھ کے دن پچھنے لگانے سے ممانعت آئی ہے کہ: ((من احتجم يوم الاربعاء ويوم السبت فاصابه برص فلا يلومنَّ الا نفسه)) جو بُدھ یا ہفتہ کے روز پچھنے لگائے پھر اُس کے بدن پر سفید داغ ہوجائے تو اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔ (الکامل لابن عدی)

امام سیوطی مسند الفردوس دیلمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک صاحب محمد بن جعفر بن مطر نیشاپوری کو فصد کی ضرورت تھی بُدھ کا دن تھا خیال کیا کہ حدیث مذکور تو صحیح نہیں فصد لے لی فوراً برص ہوگئی، خواب میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے حضور سے فریاد کی، حضورِ پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ايالك والاستهانة بحديثي (خبردار میری حدیث کو ہلکا نہ سمجھنا) انہوں نے توبہ کی ، آنکھ کھلی تو اچھے تھے۔ (اللآلی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعہ)

(ہفتہ کے دن خون لینے کے بارے میں) امام ابن عساکر روایت فرماتے ہیں ابو معین حسین بن حسن طبری نے پچھنے لگانے چاہے، ہفتہ کا دن تھا غلام سے کہا حجام کو بلالا ، جب وہ چلا حدیث یاد آئی پھر کچھ سوچ کر کہا حدیث میں تو ضعف ہے، غرض لگائے ، برص ہوگئی ، خواب میں حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے فریاد کی، فرمایا: ايالك والاستهانة بحديثي (دیکھ میری حدیث کا معاملہ آسان نہ جاننا)

اُنہوں نے منّت مانی اللہ تعالیٰ اس مرض سے نجات دے تو اب کبھی حدیث کے معاملہ میں سہل انگاری نہ کروں گا صحیح ہو یا ضعیف ، اللہ عزوجل نے شفا بخشی۔ (اللآلی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعہ)

(بُدھ کے دن ناخن تراشنے کے امر میں) یوں ہی ایک حدیث ضعیف میں بُدھ کے دن ناخن کتروانے کو آیا کہ مورثِ برص ہوتا ہے، بعض علما نے کتروائے، کسی نے بر بنائے حدیث منع کیا، فرمایا حدیث صحیح نہیں فوراً مبتلا ہوگئے، خواب میں زیارتِ جمالِ بے مثال حضورِ پرنور محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے ، شافی کافی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حضور اپنے حال کی شکایت عرض کی، حضور والاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہ سنا تھا کہ ہم نے اس سے نہی فرمائی ہے؟ عرض کی حدیث میرے نزدیک صحت کو نہ پہنچی تھی۔ ارشاد ہوا: تمہیں اتنا کافی تھا کہ حدیث ہمارے نام پاک سے تمہارے کان تک پہنچی۔

یہ فرما کر حضور مبراء الاکمہ والابرص محی الموتیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا دستِ اقدس کہ پناہِ دو جہان و دستگیرِ بیکساں ہے، ان کے بدن پر لگا دیا، فوراً اچھے ہوگئے اور اُسی وقت توبہ کی کہ اب کبھی حدیث سن کر مخالفت نہ کرونگا۔ (نسیم الرياض، حاشية الطحطاوي على الدر المختار)

سبحان اللہ! جب محلِ احتیاط میں احادیثِ ضعیفہ خود احکام میں مقبول و معمول، تو فضائل تو فضائل ہیں، اور ان فوائدِ نفیسہ جلیلہ مفیدہ سے بحمد اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم کے نزدیک وہ مطلب بھی روشن ہو گیا کہ ضعیف حدیث اُس کی غلطیِ واقعی کو مستلزم نہیں۔

دیکھو یہ حدیثیں بلحاظِ سند کیسی ضعاف تھیں اور واقع میں اُن کی وہ شان کہ مخالفت کرتے ہیں فوراً تصدیقیں ظاہر ہوئیں، کاش منکر ان فضائل کو بھی اللہ عزوجل تعظیمِ حدیثِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی توفیق بخشے اور اُسے ہلکا سمجھنے سے نجات دے، آمین!

(23) (حدیث ضعیف پر عمل کے لئے خاص اس باب میں کسی صحیح حدیث کا آنا ہرگز ضرور نہیں) بذریعہ حدیثِ ضعیف کسی فعل کے لئے محلِ فضائل میں استحباب یا موضعِ احتیاط میں حکمِ تنزہ کا ثابت کرنے کے لئے زنہار زنہار اصلاً اس کی حاجت نہیں کہ بالخصوص اس فعلِ معین کے باب میں کوئی حدیثِ صحیح بھی وارد ہوئی ہو، بلکہ یقیناً قطعاً صرف ضعیف ہی کا ورود ان احکامِ استحباب و تنزہ کے لئے ذریعۂ کافی ہے۔

(24) (ایسے اعمال کے جواز یا استحباب پر ضعیف سے سند لانا دربارۂ احکام اسے حجت بنانا نہیں) جس نے افاداتِ سابقہ کو نظرِ غائر و قلبِ حاضر سے دیکھا سمجھا اُس پر بے حاجتِ بیان ظاہر و عیاں ہے کہ حدیثِ ضعیف سے فضائلِ اعمال میں استحباب یا محلِ احتیاط میں کراہتِ تنزیہ یا امرِ مباح کی تائیدِ اباحت پر استناد کرنا اسے احکام میں حجت بنانا اور حلال و حرام کا مثبت ٹھہرانا نہیں کہ اباحت تو خود بحکمِ اصالت ثابت اور استحبابِ تنزہ قواعدِ شرعیہ و ارشادِ اقدس ((کیف وقد قیل)) وغیرہ احادیثِ صحیحہ سے ثابت جس کی تقریرِ سابقاً زیورِ گوشِ سامعان ہوئی حدیثِ ضعیف اس نظر سے کہ ضعفِ سند مستلزمِ غلطی نہیں ممکن کہ واقع میں صحیح ہو صرف امید و احتیاط پر باعث ہوئی، آگے حکمِ استحباب و کراہت اُن قواعد و صحاح نے افادہ فرمایا اگر شرعِ مطہر نے جلبِ مصالح و سلبِ مفاسد میں احتیاط کو مستحب نہ مانا ہوتا ہرگز ان مواقع میں احکامِ مذکورہ کا پتہ نہ ہوتا تو ہم نے اباحت،کراہت، مندوبیت جو کچھ ثابت کی دلائلِ صحیحہ شرعیہ ہی سے ثابت کی نہ حدیثِ ضعیف سے۔۔۔ ہاں اگر دلائلِ شرعیہ سے ایک امرِ کلی کی حرمت ثابت ہو اور کوئی حدیثِ ضعیف اُس کے کسی فرد کی طرف بلائے مثلاً کسی حدیثِ مجروح میں خاص طلوع و غروب یا استواء کے وقت بعض نماز نفل کی ترغیب آئی تو ہرگز قبول نہ کی جائے گی کہ اب اگر ہم اس کا استحباب یا جواز ثابت کریں تو اسی حدیث ضعیف سے ثابت کریں گے اور وہ صالح اثبات نہیں یونہی اگر دلائل شرعیہ مثبت ندب یا اباحت ہوں اور ضعاف میں نہی آئی اسی وجہ سے مفید حرمت نہ ہوگی مثلاً مقرر اوقات کے سوا کسی وقت میں ادائے سنن یا معین رشتوں کے علاوہ کسی رشتہ کی عورت سے نکاح کو کوئی حدیث ضعیف منع کرے حرمت نہ مانی جائے گی ورنہ ضعاف کی صحاح پر ترجیح لازم آئے بحمد اللہ یہ معنی ہیں کلام علماء کے کہ حدیث ضعیف دربارہ احکام حلال وحرام معمول بہ نہیں۔

ثم اقول اصل یہ ہے کہ مثبت وہ جو خلاف اصل کسی شئے کو ثابت کرے کہ جو بات مطابق اصل ہے خود اسی اصل سے ثابت، ثابت کیا محتاج اثبات ہوگا ولہذا شرع مطہر میں گواہ اس کے مانے جاتے ہیں جو خلاف اصل کا مدعی ہو اور ماورائے دماء وفروج ومضار وخباثت تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے تو ان میں کسی فعل کے جواز پر حدیث ضعیف سے استناد کرنا حالت غیر ثابتہ کا اثبات نہیں بلکہ ثابتہ کی تائید ہے۔

بحمد اللہ اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ بعض طائفہ جدیدہ کا زعم باطل کہ ان احادیث سے جواز تقلیل ابہامین پر دلیل لانا احکام حلال وحرام میں انہیں حجت بنانا ہے اور وہ بتصریح علماء ناجائز، محض مغالطہ و فریب وہی عوام ہے ذی ہوش نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہی علماء جو حدیث ضعیف کو حلال وحرام میں حجت نہیں مانتے صدہا جگہ احادیث ضعیفہ سے افعال کے جواز واستحباب پر دلیل لاتے ہیں جس کی چند مثالیں افادہ سابقہ میں گزریں کیا معاذ اللہ علمائے کرام اپنا لکھا خود نہیں سمجھتے یا اپنے مقررہ قاعدہ کا آپ خلاف کرتے ہیں۔

(25) (ایسے مواقع میں ہر حدیث ضعیف غیر موضوع کام دے سکتی ہے) جمہور علماء کے عامہ کلمات مطالعہ کیجئے تو وہ مواقع مذکورہ میں قابلیت عمل کیلئے کسی قسم ضعف کی تخصیص نہیں کرتے، صرف اتنا فرماتے ہیں کہ موضوع نہ ہو۔

(26) (تنبیہ: شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے صحت، شہرت اور مقبولیت کے اعتبار سے کتب احادیث کے چار طبقات بیان کیے ہیں: (طبقہ اولیٰ) وہ کتابیں جو سب سے زیادہ صحیح، مشہور اور مقبول ہیں، جیسے صحیح بخاری، صحیح مسلم، مؤطا امام مالک (طبقہ ثانیہ) وہ کتابیں جو صحت، شہرت اور مقبولیت میں پہلے طبقہ کے قریب ہیں، مگر ان میں ضعیف احادیث کا تناسب پہلے طبقہ سے زیادہ ہے جیسے جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی (طبقہ ثالثہ) ایسے مسلم الثبوت ماہر محدثین کی کتب جو امام بخاری اور امام مسلم سے پہلے کے یا ان کے معاصر یا قریب قریب معاصر تھے، مگر ان کی کتب میں ضعیف احادیث کا تناسب طبقہ ثانیہ سے بھی زیادہ ہے بلکہ ایسی احادیث بھی ہیں جنہیں موضوع تک کہا گیا جیسے مسند امام شافعی، سنن ابن ماجہ، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن دارمی، سنن دارقطنی، سنن بیہقی، طبرانی اور ابوداؤد طیالسی کی تصانیف۔ (طبقہ رابعہ) امام بخاری و مسلم سے متاخر محدثین کی کتابیں ہیں جن میں مذکورہ احادیث کا قرون سابقہ میں ثبوت ہمیں نہیں ملتا، اس کے سبب دو ہی ہیں یا تو قدماء کو یہ احادیث نہیں ملیں یا انہوں نے کسی علتِ قادحہ کی وجہ سے ان احادیث کو لیا ہی نہیں جیسے ابو نعیم، دیلمی، ابن عساکر اور حاکم کی تصانیف۔ اس تقسیم کی وجہ سے بد مذہب بعض اوقات طبقہ رابعہ کی احادیث پر سند سے قطع نظر وضع اور بطلان کا حکم لگا دیتے ہیں، اس کا رد کرے ہوئے اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں)

(حدیث کا کتب طبقہ رابعہ سے ہونا خواہ مخواہی مستلزمِ مطلق ضعف ہی نہیں چہ جائے ضعف شدید) وبالله استعین

کسی حدیث کا کتبِ طبقہ رابعہ سے ہونا موضوعیت بالائے طاق، ضعفِ شدید در کنار مطلق ضعف کو بھی مستلزم نہیں اُن میں حسن، صحیح، صالح، ضعیف، باطل ہر قسم کی حدیثیں ہیں، ہاں بوجہ اختلاط و عدم بیان کہ عادتِ جمہور محدثین ہے ہر حدیث میں احتمالِ ضعفِ قدیم لہذا غیرِ ناقد کو بے مطالعہ کلماتِ ناقدین اُن سے عقائد و احکام میں احتجاج نہیں پہنچتا، قولِ شاہ عبدالعزیز صاحب ایں احادیث قابلِ اعتماد نیستند کہ در اثباتِ عقیدہ یا عملے بأنہا تمسک کردہ شود (یہ احادیث قابلِ اعتماد نہیں ہیں کہ ان سے عقیدہ و عمل میں استدلال کیا جاسکے ۔) کے یہی معنی ہیں، نہ یہ کہ ان کتابوں میں جتنی حدیثیں ہیں سب واہی ساقط ہیں یا موضوع و باطل اور اصلاً دربارہ فضائل بھی ایراد و استناد کے ناقابل کوئی ادنیٰ ذی فہم وتمیز بھی ایسا ادعا نہ کرے گا نہ کہ شاہ صاحبِ سا فاضل، ہاں متکلمانِ طائفہ وہابیہ اپنی جہالتیں جس کے سر چاہیں دھریں۔۔۔ خود جناب شاہ صاحب کی تصانیف تفسیرِ عزیزی و تحفہ اثنا عشریہ وغیرہ میں جا بجا احادیثِ طبقہ رابعہ سے بلکہ اُن سے بھی اتر کر استاد موجود، اب یا تو شاہ صاحب معاذ اللہ خود کلامِ اپنا نہ سمجھتے یا یہ سفہا ناحق تحریف معنوی کرکے احادیثِ طبقہ رابعہ کو مہمل و معطل ٹھہرانا اُن کے سر کیے دیتے ہیں۔۔۔ طرفہ تر یہ کہ شاہ صاحب نے تصانیفِ حاکم کو بھی طبقہ رابعہ میں گنا حالانکہ بلاشبہ مستدرکِ حاکم کی اکثر احادیث اعلیٰ درجہ کی صحاح وحسان ہیں بلکہ اُس میں صد ہا حدیثیں بر شرطِ بخاری و مسلم صحیح ہیں قطعِ نظر اس کہ تصانیف شاہ صاحب میں کتبِ حاکم سے کتنے اسناد ہیں اور بڑے شاہ صاحب کی ازالۃ الخفاء وقرۃ العینین تو مستدرک سے احادیث نہ صرف فضائل بلکہ خود احکام میں مذکور۔۔۔ اس طبقہ والوں کی احادیث متروکہ سلف کو جمع کرنے کے معنی اسی قدر ہیں کہ جن احادیث کے ایراد سے انہوں نے احتراز کیا انہوں نے درج کیں نہ یہ کہ انہوں نے جو کچھ لکھا سب متروکِ سلف ہے مجرد عدمِ ذکر کو اس معنے پر محمول کرنا کہ ناقص سمجھ کر بالقصد ترک کیا ہے محض جہالت ورنہ افراد بخاری متروکات مسلم ہوں اور افراد مسلم متروکات بخاری اور ہر کتاب متاخر کی وہ حدیث کو تصانیف سابقہ میں نہ پائی گئی تمام سلف کی متروک مانی جائے، مصنفین میں کسی کو دعوائے استیعاب نہ تھا۔ امام بخاری کو ایک لاکھ احادیث صحیحہ حفظ تھیں صحیح بخاری میں کل چار ہزار بلکہ اس سے بھی کم ہیں۔۔۔ اب انصافاً یہ حکم نہ صرف کتب طبقہ رابعہ بلکہ ثانیہ ثالثہ سب پر ہے کہ جب منشا اختلاط صحیح و ضعیف ہے اور وہ سب میں قائم تو یہی حکم سب پر لازم آخر نہ دیکھا کہ ائمہ دین نے صاف صاف یہی تصریح سنن ابی داؤد و جامع ترمذی و مسند امام احمد و سنن ابن ماجہ و مصنف ابو بکر ابن ابی شیبہ و مصنف عبدالرزاق و غیر ہا سنن و مسانید کتب طبقہ ثانیہ و ثالثہ کی نسبت بھی فرمائے۔

امام خاتم الحفاظ کا قول ابھی سن چکے کہ انہوں نے ان سب کتب کو ایک سلک میں منسلک فرمایا اب شاید منکر کج فہم ان نصوص ائمہ کو دیکھ کر سنن ابی داؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ کی نسبت بھی یہی اعتقاد کرے گا کہ وہ بھی معاذ اللہ مہمل و بیکار و اصلاً نا قابل استناد و اعتبار ہیں ولا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم۔ بالجملہ حق یہ کہ مدار اسناد و نظر و انتقاد یا تحقیق نقاد پر ہے نہ فلاں کتاب میں ہونے فلاں میں نہ ہونے پر۔

 (نوٹ: اعلیٰ حضرت نے طبقات کے بارے میں ایک رسالہ ”مدارج طبقات الحدیث“ لکھا ہے، جس کے بارے میں خود فرماتے ہیں:

اولاً طبقات اربعہ حدیث میں حجۃ اللہ البالغہ کا کلام نقل کیا۔ 

ثانیاً ایک مسلسل بیان میں اس کی وہ تقریر ادا کی جس سے کلام منتظم ہو کر بہت شبہات کا ازالہ ہو گیا۔ 

ثالثاً پھر بہت ابحاث رائقہ مولفہ ذائقہ ایراد کیں جن سے روشن ہوگیا کہ طبقات اربعہ کی تحدید نہ جامع نہ مانع نہ ناقد کے کام کی نہ مقلد کو نافع۔ 

رابعاً اپنی طرف سے ایک عام و شامل تام و کامل ضابطہ وضع کیا جس سے ہر گونہ ناقد و غیر ناقد متوسط و عامی ہر قسم کے آدمی کو حد استناد و طریق احتجاج واضح ہوگیا آخر میں اسے کلمات علماء سے مؤید کیا اس کے ضمن میں صحاح ستہ و غیرہا کتب حدیث کا مرتبہ اور باہمی تفاوت اور بعض دیگر کتب صحاح کا شمار اور نیز یہ کہ ائمہ و علماء میں کن کن کو دربارہ تصحیح احادیث تساہلی اور کہیں در باب حکم وضع تشدد یا معاملہ جرح رجال میں نعث تھا بیان کیا جو کچھ دعویٰ کیا ہے اس کا روشن ثبوت دیا ہے واللہ الحمد۔)

(27) (کتب موضوعات میں کسی حدیث کا ذکر مطلقاً ضعف کو ہی مستلزم نہیں) اقول کہتا ہوں کہ بیان احادیث موضوعہ میں تالیف ہوئیں دو قسم ہیں:

ایک وہ جن کے مصنفین نے خاص ایراد موضوعات ہی کا التزام کیا جیسے موضوعات ابن الجوزی و اباطیل جوزقانی و موضوعات صغانی ان کتابوں میں کسی حدیث کا ذکر بلا شبہ یہی بتائے گا کہ اس مصنف کے نزدیک موضوع ہے جب تک صراحتاً نفی موضوعیت نہ کر دی ہو ایسی ہی کتابوں کی نسبت یہ خیال بجا ہے کہ موضوع نہ سمجھتے تو کتاب موضوعات میں کیوں ذکر کرتے پھر اس سے بھی صرف اتنا ہی ثابت ہوگا کہ زعم مصنف میں موضوع ہے بہ نظرِ واقع عدمِ صحت بھی ثابت نہ ہوگا نہ کہ ضعف نہ کہ سقوط نہ کہ بطلان ان سب کتب میں احادیثِ ضعیفہ درکنار بہت احادیثِ حسان و صحاح بھر دی ہیں اور محض بے دلیل اُن پر حکمِ وضع لگا دیا ہے جسے ائمہ محققین و نقاد منقحین نے بد لائلِ قاہرہ باطل کردیا جس کا بیان مقدمہ ابن الصلاح و تقریب امام نووی و الفیہ امام عراقی و فتح المغیث امام سخاوی وغیرہا تصانیف علماء سے اجمالاً اور تدریب امام خاتم الحفاظ سے قدرے مفصلاً اور انہی کی تعقبات ولآلی مصنوعہ و القول الحسن فی الذب عن السنن و امام الشان کے القول المسدد فی الذب عن مسند احمد وغیرہا سے بنہایت تفصیل واضح و روشن، مطالعہ تدریب سے ظاہر کہ ابن الجوزی نے اور تصانیف در کنار خود صحاحِ ستہ و مسندِ امام احمد کی چوراسی (84) حدیثوں کو موضوع کہہ دیا۔

دوم وہ جن کا قصد صرف ایراد موضوعات واقعیہ نہیں بلکہ دوسروں کے حکمِ وضع کی تحقیق و تنقیح جیسے اللآلی امام سیوطی یا نظر و تنقید کے لئے اُن احادیث کا جمع کر دینا جن پر کسی نے حکمِ وضع کیا، پرظاہر کر کہ ایسی تصانیف میں حدیث کا ہونا مصنف کے نزدیک بھی اس کی موضوعیت نہ بتائے گا کہ اصل کتاب کا موضوع ہی تھا ایرادِ موضوع نہیں بلکہ اگر کچھ حکم دیا یا سند و متن پر کلام کیا ہے تو اسے دیکھا جائے گا کہ صحت یا حسن یا ثبوت یا صلوح یا ضعف یا بطلان کیا نکلتا ہے مثلاً “لا یصح” (یہ صحیح نہیں) یا “لم یثبت” (یہ ثابت نہیں) یا سند پر جہالت یا انقطاع سے طعن کیا تو غایت درجہ ضعف معلوم ہوا، اور اگر “رفعہ” کی قید زائد کردی تو صرف مرفوع کا ضعف اور بنظرِ مفہوم موقوف کا ثبوت مفہوم ہوا، او علی ھذا القیاس اور کچھ کلام نہ کیا تو امر محتاجِ نظر و تنقیح رہے گا کما لا یخفی شوکانی کی کتاب موضوعات مسمیٰ بہ فوائدِ مجموعہ بھی اسی قسمِ ثانی سے ہے خود اُس نے خطبہ کتاب میں اس معنیٰ کی تصریح کی کہ میں اس کتاب میں وہ حدیثیں بھی ذکر کروں گا جنہیں موضوع کہنا ہر گز صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہیں بلکہ ضعف بھی خفیف ہے بلکہ اصلاً ضعف نہیں حسن یا صحیح ہیں کہ اہل تشدد کے کلام پر تنبیہہ اور اُس کے رد کی طرف اشارہ ہوجائے۔

تو متکلمین طائفہ کا یہ سفیہانہ زعم کہ حدیثِ تقبیلِ ابہامین شوکانی کے نزدیک موضوع نہ ہوتی تو کتاب موضوعات میں کیوں کرتا، کیسی جہالتِ فاحشہ ہے۔

(اسی طرح مقاصدِ حسنہ) ہرگز تصانیفِ شخصہ بہ موضوعات سے نہیں بلکہ اُس کا مقصود ان احادیث کا حال بیان کرنا ہے جو زبانوں پر دائر ہیں عام ازیں کہ صحیح ہوں یا حسن یا ضعیف یا بے اصل یا باطل۔۔۔ولہٰذا اُس میں بہت احادیث کو ذکر کرکے فرماتے ہیں: یہ صحیح بخاری میں ہے یہ صحیح مسلم کی ہے یہ صحیحین دونوں کے متفق علیہ ہے، بھلے مانس نے اُس کے نام کو بھی خیال نہ کیا المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتہرۃ علی الالسنۃ (مقاصدِ حسنہ زبانوں پر دائر بہت سی مشہور حدیثوں کے بیان میں) نہ اُسی کو آنکھ کھول کر دیکھا اس کے پہلے ہی ورق کی چوتھی حدیث ہے حدیث آیۃ المنافق ثلاث متفق علیہ (منافق کی تین علامات ہیں، بخاری و مسلم دونوں میں ہے)۔

(فتاوی رضویہ، ج5، ص،551رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

—