حدیث مصحف کا بیان
sulemansubhani نے Tuesday، 27 October 2026 کو شائع کیا.
حدیث مُصَحَّف کا بیان
مصحف، تصحیف سے مشتق ہے، اس کا معنی ہے صحیفہ کو پڑھنے میں غلطی کرنا، اس کا اصطلاحی معنی یہ ہے:
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
ما يكون مخالفة الثقات فيه بتغيير حرف او حروف مع بقاء صورة الخط في السياق فان كان ذلك بالنسبة الى النقط فالمصحف وان كان بالنسبة الى الشكل فالمحرف ۔( حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، شرح نخبۃ الفکر ص ۴۶۔۶۷ ، مطبوعہ رحیم کیڈمی کراچی )
جس حدیث میں ثقہ راویوں کی مخالفت کسی حرف یا حروف کے تغیر سے کی گئی اور لکھنے کی صورت باقی ہو، اگر صرف نقطوں میں مخالفت کی ہو تو اس کو مُصَحَّف کہتے ہیں اور اگر شکل میں مخالفت ہو تو اس کو مُحَرَّف کہتے ہیں ۔
ملا علی قاری اس کی مثالوں کے بیان میں لکھتے ہیں:
تصحيف کبھی سند میں ہوتی ہے اور کبھی متن میں، اور کبھی اس کا سبب شیخ سے لفظ کو سننے میں خطاء ہوتا ہے اور کبھی صحیفہ سے حدیث کو پڑھنے میں خطاء کرنا ، اس کا سبب ہوتا ہے ، جیسا کہ حسب ذیل مثالوں سے ظاہر ہے۔
تصحيف فی الاسناد: شعبہ کی حدیث ہے عن العوام بن مراجم اس میں ابن معین نے تصحیف کی اور کہا عن العوام بن مزاحم ۔
تصحيف فی المتن: حضرت زید بن ثابت روایت کرتے ہیں:
ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجر فی المسجد – نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں حجرہ بنایا۔
ابن لہیعہ نے اس میں یوں تصحیف کی :
ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم فی المسجد – نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں فصد لگوائی۔
سماع کے سبب سے تصحیف: ایک حدیث عاصم احول سے مروی ہے ، سننے والے نے اس کو غلطی سے واصل احدب سنا ۔
بصر کے سبب سے تصحیف: اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لکھنے والا بدخط ہوتا ہے اور کچھ کا کچھ پڑھا جاتا ہے یا لکھنے والا نقطے نہیں لگاتا، مثلاً حدیث میں ہے:
من صام رمضان واتبعه ستاً من شوال – جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے متصل شوال کے چھ روزے رکھے۔
پڑھنے والے نے اس کو یوں پڑھا:
من صام رمضان واتبعه شيئاً من شوال – جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے متصل شوال کے کچھ روزے رکھے۔
تصحيف فی المعنى: حدیث صحیح میں ہے:
ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الى عنزة – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیزہ( نصب کر کے اس) کی طرف نماز پڑھی۔
اس میں ابو موسیٰ عنزی نے یوں تصحیف کر دی : کہ ہم کو یہ شرف حاصل ہے کہ ہم قبیلہ عنزہ سے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنزہ کی طرف نماز پڑھی ہے ، حالانکہ حدیث میں عنزہ سے مراد نصب شدہ نیزہ ہے قبیلہ عنزہ نہیں ہے۔ (ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ء، شرح شرح نخبۃ الفکر ص ۱۴۴، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ، ۱۳۹۷ھ)
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح مسلم , شرح صحیح مسلم , مقدمہ , الصحیح مسلم , مقدمہ صحیح مسلم , حدیث مصحف