”شرح جامع ترمذی“ میں کام کا انداز

”شرح جامع ترمذی“ میں کام کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1) جامع ترمذی کے مکمل متن (حدیث اور اس پر امام ترمذی کے کلام) کا سلیس اردو ترجمہ کیا ہے۔

(2) امام ترمذی نے جو عنوان قائم کیے ہیں ان کا اُردو ترجمہ با محاورہ اور مفہومی کیا ہے مثلاً ”ابواب الطهارة“ کا ترجمہ ”ابواب طہارت“ اور ”باب ما جاء لا تقبل صلوة بغير طهور“ کا ترجمہ ”طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی“ کیا ہے۔

(3) جامع ترمذی کی احادیث کی تخریج صحاح ستہ سے کی ہے۔

(4) متن میں مذکور فنی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کرنے کی بجائے انہیں جوں کا توں ہی لکھ دیا ہے مثلاً ”صدوق“ یا ”متقارب الحديث“ کا ترجمہ نہیں لکھا بلکہ اردو میں بھی صدوق اور مقارب الحدیث ہی لکھا ہے اور پھر شرح میں ان کے اصطلاحی معنی کی وضاحت کر دی ہے۔

(5) امام ترمذی کی ذکر کردہ علمی و فنی اصطلاحات کی وضاحت حتی الامکان متعلقہ فن کی کتب سے کی ہے۔

(6) راویانِ حدیث کے تعارف کے حوالے سے یہ ہے کہ صرف ان بعض کے تعارف اور ان کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل کی آراء بیان کرنے پر اقتصار کیا ہے جن کا ذکر امام ترمذی نے خاص طور پر کیا ہے۔

(7) حدیثِ پاک کی تشریح آسان الفاظ میں علامہ بدرالدین عینی ، ملا علی قاری ، علامہ نووی ، علامہ ابن حجر عسقلانی ، علامہ ابن بطال ، علامہ ابن عبدالبر ، علامہ قسطلانی ، علامہ مناوی اور علامہ سیوطی وغیرہ ہم محدثین کے کلام کی روشنی میں کی ہے اور اختصار کے ساتھ حدیث سے ثابت ہونے والے امور و فوائد کو بیان کیا ہے۔

(8) اکثر احادیث مبارکہ کے تحت فقہی مسائل میں مذاہب اربعہ (احناف، مالکیہ، شوافع اور حنابلہ) کی آراء دلائل کے ساتھ لکھی ہیں نیز احناف کے دلائل کی ترجیح اور دیگر ائمہ کے دلائل کے جوابات بھی لکھے ہیں۔

(9) شروح حدیث سے فقہی مذاہب نقل کرنے کے بجائے حتی الامکان اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ مذاہب اربعہ کی آراء ان ہی کی معتبر فقہی کتب سے نقل کی ہیں جیسے شوافع کی رائے ان کی کسی معتبر فقہی کتاب سے نقل کی ہے اور احناف کی رائے احناف ہی کی معتبر فقہی کتاب سے، وعلی ہذا القیاس۔

(10) بلکہ یہ اہتمام حتی الامکان ہر موقع پر کیا ہے کہ جس فن کی بات ہو اسی فن کی معتبر و متداول کتب سے ذکر کی جائے مثلاً اعراب و تعریفات کے لئے کتب لغت سے اور کسی لفظ کے شرعی معنی کی تعیین کے لئے کتب فقہ وغیرہ سے استفادہ کیا ہے۔

(11) جدید فقہی مسائل پر بھی کہیں کہیں کلام کیا ہے مثلاً ٹوتھ برش مسواک کا نعم البدل ہے یا نہیں؟ ٹوائلٹ پیپر سے استنجاء کرنے کی تحقیق ، کموڈ پر استنجاء کرنے کا مسئلہ، انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ، انگریزی بوٹوں پر مسح کرنے کا مسئلہ وغیرہا۔

(12) جگہ بہ جگہ عقائد اہلسنت اور معمولاتِ اہلسنت کا اثبات و دفاع مدلل اور مثبت انداز میں کیا ہے، مثلاً علمِ غیب، اختیاراتِ مصطفیٰ، قبر پر پھول رکھنا وغیرہا۔