مجہول راوی کی حدیث کا بیان:

 مجہول اس راوی کو کہتے ہیں جس کی ذات اور شخصیت کا پتا نہ چلے یا ذات اور شخصیت کا پتا ہو لیکن اس کی صفت کا پتا نہ ہو آیا وہ عادل ہے یا غیر عادل۔

علامہ نووی لکھتے ہیں:

جس شخص کی شخصیت معلوم ہو لیکن اس کی عدالت ظاہرا اور باطناً مجهول ہو اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی، اور جس شخص کی شخصیت معلوم ہو اور اس کی عدالت مستور ہو یعنی وہ بظاہر عادل ہو اور اس کے باطن کا پتا نہ ہو اس کی روایت قبول کی جاتی ہے، حافظ ابن الصلاح نے لکھا ہے اکثر کتب حدیث میں اسی پر عمل کیا جاتا ہے، اس کو مجهول الحال کہتے ہیں، مجهول کی تیسری قسم مجهول العین ہے، اس کی روایت قبول کرنے میں اختلاف ہے، پھر اگر اس سے دو عادل راوی روایت کریں تو اس کی جہالت جاتی رہتی ہے، محدثین کے نزدیک مجهول العین وہ شخص ہے جس کو علماء نہ پہچانتے ہوں اور وہ خود طلب علم میں مشہور نہ ہو اور اس کی حدیث صرف ایک راوی کی جہت سے معروف ہوا، حافظ ابن الصلاح نے لکھا ہے جس شخص سے صرف ایک آدمی روایت کرے وہ مجهول ہے یہ قاعدہ صحابہ کے ماسوا میں ہے، کیونکہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت مرداس بن مالک اسلمی سے روایت کی ہے اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ربیع بن کعب اسلمی سے روایت کی ہے اور اول الذکر سے صرف قیس بن ابی حازم نے روایت کی ہے اور ثانی الذکر سے صرف ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے روایت کی ہے، کیونکہ یہ دونوں مشہور صحابی ہیں اور تمام صحابه روایت کرنے میں عادل ہیں۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج۱ ص ۳۱۸ – ۳۱۶، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۹۲ھ)

مجهول کی روایت کا کوئی مستقل نام نہیں ہے اور اس کی روایت کو حدیث ضعیف کی اقسام میں شمار کیا جاتا ہے۔