روافض کی روایت کا بیان

صحیح یہ ہے کہ رافضیوں اور سلف پر سب و شتم کرنے والوں کی روایت مقبول نہیں ہے، کیونکہ مسلمان کو سب و شتم کرنا فسق ہے تو صحابہ کو سب و شتم کرنا بطریقِ اولیٰ فسق ہے، علامہ ذہبی نے میزان میں لکھا ہے بدعت کی دو قسمیں ہیں، بدعت صغریٰ مثلاً تشیع بلاغلو ہو یا غلو کے ساتھ ہو، مثلاً جو شخص حضرت علی کے خلاف جنگ کرنے والوں کے حق میں کلام کرے، اور یہ تشیع باوجود تقویٰ اور پرہیزگاری کے بکثرت تابعین اور تبع تابعین میں تھا، اور اس میں غلو کرنا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا مرتبہ کم کرنا اور اس کی طرف دعوت دینا سو ایسے لوگوں کی روایت قبول نہیں ہے، اس قسم کے لوگوں میں کوئی صادق اور امین نہیں ہے بلکہ ان کا شعار کذب اور تقیہ ہے اور ان کی علامت نفاق ہے، اور ایک دوسرے مقام پر علامہ ذہبی نے لکھا ہے روافض کی روایت کے متعلق تین قول ہیں (۱) مطلقاً منع ہے (۲) کذاب اور وضاع کے علاوہ مطلقاً رخصت ہے (۳) جو حدیث کی معرفت رکھتا ہو اس کے لیے جائز ہے۔ امام مالک نے کہا روافض سے کلام کرو نہ ان کی روایت قبول کرو، امام شافعی نے کہا میں نے روافض سے زیادہ کسی کو جھوٹ کی گواہی دیتے ہوئے نہیں دیکھا، یزید بن ہارون نے کہا رافضیوں کے سوا ہر بدعتی کی روایت لکھ لی جائے ۔( علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۳۲۶-۳۲۷، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)