روایت اور شہادت کا فرق

علامہ سیوطی نے روایت اور شہادت میں حسب ذیل وجوہ سے فرق بیان کیے ہیں:

۱۔ روایت میں عدد کی شرط نہیں ہے، اور شہادت میں عدد کی شرط ہے۔

۲۔ روایت میں مطلقاً مرد ہونے کی شرط نہیں ہے، اور بعض جگہ شہادت میں مرد ہونے کی شرط ہے (مثلاً حدود میں)

۳۔ روایت میں آزاد ہونے کی شرط نہیں ہے اور شہادت میں مطلقاً یہ شرط ہے۔

۴۔ روایت میں بلوغ کی شرط نہیں ہے اور شہادت میں یہ شرط ہے۔

۵۔ جو بدعت کا داعی ہو اس کی شہادت مقبول ہے روایت مقبول نہیں ہے۔

۶۔ وضع سے تائب کی شہادت مقبول ہے روایت مقبول نہیں ہے۔

۷۔ جو ایک حدیث میں جھوٹ بولے اس کی پہلی تمام روایات مردود ہوجاتی ہیں، اور جو ایک مرتبہ جھوٹی گواہی دے اس کی پچھلی تمام گواہیاں رد نہیں ہوتیں۔

۸۔ جو اپنے نفع کے لیے یا اپنے ضرر کو دفع کرنے کے لیے شہادت دے اس کی شہادت مقبول نہیں ہے اس کے برعکس ایسی روایت مقبول ہے۔

۹۔ اصل، فرع اور غلام کی شہادت مقبول نہیں ہوتی اور ان کی روایت مقبول ہوتی ہے۔

۱۰۔ روایت میں ایک آدمی کی جرح اور تعدیل بھی صحیح ہے اور شہادت میں صحیح نہیں ہے۔

۱۱۔ روایت کی اجرت لینا جائز ہے اور شہادت کی اجرت لینا جائز نہیں ہے، (البتہ سواری کی اجرت لے سکتا ہے)۔

۱۲۔ جب تک اصل شہادت ممکن ہو شہادت علی الشهادت جائز نہیں ہے اور روایت میں یہ جائز ہے۔(علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۳۳۳-۳۳۲، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ)