حدیث ضعیف کی تقویت کی وجوہ

مذکور الصدر حوالہ جات سے معلوم ہوگیا کہ وجوب اور حرمت کے اثبات میں احادیث ضعیفہ کا اعتبار نہیں ہوتا، لیکن فضائل اعمال اور مناقب میں حدیث ضعیفہ کا اعتبار کیا جاتا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر ان بعض قرائن کا ذکر کردیا جائے جن کی بناء پر حدیث ضعیف قوی ہو جاتی ہے، اور اس کا ضعف جاتا رہتا ہے، پہلی صورت یہ ہے کہ جب حدیث ضعیف متعدد اسانید سے مروی ہو تو وہ حسن لغیرہ ہوجاتی ہے چنانچہ تمام مستند اصول حدیث کی کتابوں میں یہ مسئلہ مرقوم ہے۔