اہل علم کے اتفاق سے حدیث ضعیف کی تقویت کی تحقیق
sulemansubhani نے Wednesday، 4 November 2026 کو شائع کیا.
اہل علم کے اتفاق سے حدیث ضعیف کی تقویت کی تحقیق
جس حدیث کے مدلول پر علماء کا اتفاق ہو سو ایسی حدیث بھی مقبول ہے اور اس کے مقتضیٰ پر عمل کرنا واجب ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
من جملة صفات القبول التي لم يتعرض لها شيخنا ان يتفق العلماء على العمل بمدلول حديث، فانه يقبل حتى يجب العمل به وقد صرح بذلك جماعة من ائمة الاصول ومن امثلته قول الشافعي رضی الله عنه وما قلت من انه اذا غير طعم الماء وريحه ولونه يروى عن النبي صلى الله عليه وسلم من وجه لا يثبت اهل الحديث مثله ولكنه قول العامة لا اعلم بينهم فيه خلافاً وقال في حديث لا وصية لوارث لا يثبته اهل العلم بالحديث ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به حتى جعلوہ ناسخاً لآية الوصية للوارث۔ (حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، النکت علی کتاب ابن الصلاح ج ۱ ص ۴۹۵ – ۴۹۴ ، مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی مدینہ منورہ ۱۴۰۴ ھ)
من جملہ ان صفات کے جن کی وجہ سے حدیث قبول کی جاتی ہے یہ صفت ہے جس کو ہمارے شیخ نے ذکر نہیں کیا، اور وہ یہ ہے کہ جس حدیث کے مدلول پر علماء متفق ہوں وہ حدیث مقبول ہوتی ہے اور اس کے تقاضے پر عمل کرنا واجب ہے ، ائمہ اصول کی ایک جماعت نے اس کی تصریح کی ہے،اور اس کی مثالوں میں سے امام شافعی رضی اللہ عنہ کی یہ عبارت ہے: اور میں نے جو یہ کہا ہے کہ جب پانی کا ذائقہ، بو اور اس کا رنگ تبدیل ہوجائے …. اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جو محدثین کے نزدیک ثابت نہیں ہے، لیکن عام علماء کا یہی قول ہے اور میرے علم کے مطابق اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ، اور ایک حدیث ہے “وارث کے لیے وصیت نہیں ہے” اس کے متعلق امام شافعی نے کہا: اہل علم کے نزدیک یہ حدیث ثابت نہیں ہے ، لیکن عام علماء نے اس حدیث کو قبول کیا ہے اور اس کے تقاضے پر عمل کیا ہے حتیٰ کہ جس آیت میں وارث کے لیے وصیت کا ذکر ہے اس حدیث کو اس آیت کے لیے ناسخ قرار دیا ہے۔
ٹیگز:-
حدیثِ ضعیف , ضعیف راوی , سند ضعیف , صحیح مسلم , الصحیح مسلم , ضعیف حدیث , ضعیف , مقدمہ صحیح مسلم , شرح صحیح مسلم , مقدمہ , راوی ضعیف , حدیث ضعیف , ضعیف الاسناد