مجتہد کے استدلال سے حدیث ضعیف کی تقویت کی تحقیق
sulemansubhani نے Wednesday، 4 November 2026 کو شائع کیا.
مجتہد کے استدلال سے حدیث ضعیف کی تقویت کی تحقیق
(علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:)
ان المجتهد اذا استدل بحديث كان تصحيحا له كما في التحرير وغيره ۔(علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۲ھ، رد المحتار ج ۴ ص ۱ ، مطبوعہ مکتبہ عثمانیہ استنبول، ۱۳۲۷ھ)
مجتہد جب کسی حدیث سے استدلال کرے تو اس کا استدلال بھی حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے جس طرح تحریر میں امام ابن ہمام نے تحقیق فرمائی ہے۔
علامہ ابن ہمام کی تحقیق کا ہم عنقریب ذکر کر رہے ہیں:
امام عبدالوہاب شعرانی شافعی لکھتے ہیں:
ان قيل بضعف شئ من ادلة مذهبه فذلك الضعف انما هو بالنظر للرواة النازلين عن سندة بعد موته (الى قوله) وكفانا صحة الحديث استدلال مجتهد به ۔(علامہ عبدالوہاب شعرانی متوفی ۹۷۳ھ، میزان الشریعۃ الکبریٰ ج ۱ ص ۶۵ ، مطبوعہ مطبعہ ازہریہ مصر، ۱۳۵۱ھ)
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام ابوحنیفہ کے دلائل میں سے کوئی حدیث ضعیف ہے تو یہ ضعف امام اعظم کی سند میں ان نیچے کے راویوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے امام اعظم کی موت کے بعد اس حدیث کو روایت کیا ہے اور ہمیں اس حدیث کی صحت کے لیے یہ کافی ہے کہ ایک امام مجتہد نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔
علامہ ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں:
ويثبت التعديل بحكم القاضى العدل وعمل المجتهد الشارطين لا ان لم يعلم سوى كونه علی وفقہ ۔(علامہ کمال الدین ابن ہمام حنفی متوفی ۸۶۱ھ، التقریر مع التقريروالتحيير ج ۳ ص ۲۴۹-۲۴۸، مطبوعہ مکتبہ علمیہ بیروت)
شاہد کی عدالت، اس قاضیِ عادل کے فیصلہ اور راوی کی عدالت، اس مجتہد کے عمل سے ثابت ہوجائیگی جو شاہد اور راوی میں عدالت کی شرط لگاتے ہوں، اور اگر اس کے سوا اور کوئی چیز معلوم نہ ہو کہ وہ روایت اس مجتہد کے موافق ہے تو پھر عدالت ثابت نہیں ہوگی۔
علامہ ابن امیر الحاج اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
جو حاکم شاہد میں عدالت کی شرط لگاتا ہو اور وہ غیر عادل کی شہادت پر فیصلہ کردے تو وہ حاکم فاسق ہوجائے گا اسی طرح جو مجتہد راوی میں عدالت کی شرط لگاتا ہو اور وہ غیر عادل کی روایت سے اجتہاد کرے تو وہ مجتہد بھی فاسق ہوجائے گا۔ اور مفروض یہ ہے کہ حاکم اور مجتہد عادل ہیں اس لیے ان کا کسی شاہد اور راوی کی شہادت اور روایت پر عمل کرنا اس راوی کی تعدیل کے قائم مقام ہے، پھر اس راوی کی روایت پر عمل کرنا دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ یہ معلوم ہو کہ اس روایت کے سوا مجتہد کے پاس اور کوئی دلیل نہیں ہے، دوسری شرط یہ ہے کہ یہ معلوم ہو کہ اس مجتہد کا اس روایت پر عمل کرنا احتیاط فی الدین پر مبنی نہیں ہے، آخری قید سے علامہ ابن ہمام نے ان دو شرطوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔
دوسری بحث یہ ہے کہ اگر کوئی عادل راوی کسی (ضعیف) راوی کی حدیث کو روایت کرے تو وہ اس کی تعدیل ہے یا نہیں، ایک قول یہ ہے کہ یہ مطلقا تعدیل ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مطلقا تعدیل نہیں ہے، اور یہ قول حافظ ابن الصلاح نے اکثر ائمہ حدیث کی طرف منسوب کیا ہے اور کہا ہے کہ یہی صحیح ہے اور آمدی اور ابن حاجب کے نزدیک بھی یہی مختار ہے اور اس قول کی تفصیل یہ ہے کہ اگر یہ معلوم ہو کہ وہ راوی صرف عادل سے روایت کرتا ہے تو اس کا کسی راوی سے روایت کرنا اس کی تعدیل ہے کیونکہ اصل یہ ہے کہ انسان اپنی عادت کے مطابق عمل کرتا ہے، اور اگر یہ معلوم نہ ہو تو پھر اس کا کسی سے روایت کرنا اس کی تعدیل نہیں ہے۔ (امام ابن امیر الحاج متوفی ۸۷۹ھ ، التقرير والتحبير ج ۲ ص ۲۴۹ ، مطبوعہ مکتبہ علمیہ بیروت)
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , الصحیح مسلم , صحیح مسلم , ضعیف حدیث , مقدمہ صحیح مسلم , ضعیف , شرح صحیح مسلم , مقدمہ , حدیث ضعیف , ضعیف الاسناد , حدیثِ ضعیف , ضعیف راوی , سند ضعیف