امام اعظم کے دلائل کے بالعموم احادیث ضعیفہ پر مبنی ہونے کی تحقیق

علامہ عبدالوہاب شعرانی لکھتے ہیں:

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم یہ کہتے ہو کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے مذہب کے دلائل میں کوئی حدیث ضعیف نہیں ہے کیونکہ امام اعظم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو راوی ہیں وہ صحابہ اور تابعین ہیں اور وہ جرح سے محفوظ ہیں ، تو پھر کیا وجہ ہے کہ بعض حفاظ نے امام اعظم کے بعض دلائل کو ضعیف احادیث پر مبنی قرار دیا ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جن بعض راویوں کو ضعیف کہا گیا ہے وہ امام اعظم کی وفات کے بعد ان کی سند کے نچلے درجہ کے راوی ہیں ، اور انہوں نے اس حدیث کو امام اعظم کی سند کے علاوہ کسی اور سند سے روایت کیا ہے کیونکہ امام اعظم کی مسانید ثلاثہ میں جس قدر احادیث ہیں وہ سب صحیح ہیں ، کیونکہ اگر وہ حدیث صحیح نہ ہوتی تو امام اعظم اس سے کبھی استدلال نہ کرتے ، اور امام اعظم کی سند کے نچلے راویوں میں سے کوئی راوی کذاب یا متہم بالکذب ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور ہمارے نزدیک اس حدیث کی صحت کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اس حدیث سے مجتہد نے استدلال کیا ہے، اس لیے ہم پر واجب ہے کہ ہم اس حدیث پر عمل کریں خواہ اس کو کسی اور نے روایت نہ کیا ہو، اور جب تک امام اعظم کی مسانیدِ ثلاثہ میں ان کے مذہب کی دلیل کو دیکھ نہ لیا جائے اور یہ یقین نہ ہوجائے کہ اس کی دلیل ان مسانید میں موجود نہیں ہے، اس وقت ان کے مذہب کی کسی دلیل کو ضعیف نہ کہا جائے، اور یہ ہوسکتا ہے کہ بعد کے علماءِ احناف نے امام اعظم کے مذہب پر جو دلائل قائم کیے ہیں ان میں سے کوئی دلیل کسی ضعیف حدیث پر مبنی ہو۔ لیکن امام اعظم کا دامن اس سے بری ہے)علامہ عبدالوہاب شعرانی متوفی ۹۷۳ھ ، میزان الشریعۃ الکبریٰ ج ۱ ص ۶۵ ، مطبوعہ مطبعۃ الازھریہ مصر ۱۳۵۱ھ(

میں کہتا ہوں کہ یہ بات دلائل سے بیان کی جاچکی ہے کہ مطلقاً کسی حدیث کا ضعف مضر نہیں ہے جب کہ بہت سے مسائل میں احادیثِ ضعیفہ کا اعتبار کیا جاتا ہے اور ہم متعدد حوالوں سے یہ بیان کرچکے ہیں کہ اثباتِ عقائد اور فرضیت اور حرمت کے بیان میں ضعاف کا اعتبار نہیں کیا جاتا اور فضائل و مناقب، ترغیب و ترہیب اور استحباب اور کراہت کے بیان میں احادیثِ ضعیفہ کا بالاتفاق اعتبار کیا جاتا ہے اور بعد کے علماءِ احناف کی اگر کوئی دلیل کسی حدیثِ ضعیف پر مبنی ہے تو وہ اسی قبیل سے ہے، حیرت یہ ہے کہ امام بخاری، امام ابو داؤد، امام ترمذی اور امام شافعی کسی مسئلہ میں حدیثِ ضعیف سے استدلال کریں تو ان کی صحت اور ثقاہت میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر کوئی حنفی فقیہ کسی مسئلہ میں حدیثِ ضعیف سے استدلال کرے تو اس کو اعتراضات کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔