جب کسی مسئلہ پر صرف حدیث ضعیف میسر ہو تو اس سے استدلال کی تحقیق
sulemansubhani نے Friday، 6 November 2026 کو شائع کیا.
جب کسی مسئلہ پر صرف حدیث ضعیف میسر ہو تو اس سے استدلال کی تحقیق
علامہ سخاوی لکھتے ہیں:
جب کسی باب میں حدیث ضعیف کے علاوہ اور کوئی حدیث نہ ہو تو امام اسحاق رحمہ اللہ نے حدیث ضعیف سے استدلال کیا ہے، امام ابوداؤد نے بھی اس کی اتباع کی ہے اور ان دونوں نے اس کو رائے اور قیاس پر مقدم رکھا ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے، اور امام شافعی کو جب کسی مسئلہ میں حدیث مرسل کے علاوہ اور کوئی حدیث نہ ملے تو وہ حدیث مرسل سے استدلال کرتے ہیں۔ )علامہ ابو عبدالله محمد بن عبد الرحمن سخاوی متوفی ۹۰۲ھ، فتح المغیث بشرح الفية الحديث ج ۱ ص ۲۳۳ مطبوعہ دار الامام الطبری،۱۴۱۲ھ (
میں کہتا ہوں کہ صرف امام اسحاق اور امام ابوداؤد کی بات نہیں ہے بلکہ جب کسی مسئلہ پر حدیث صحیح نہ ملے تو امام بخاری اور امام ترمذی بھی حدیث ضعیف سے استدلال کرتے ہیں:
امام بخاری روایت کرتے ہیں:
وَيُذْكَرُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ـ(امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۳۸۰، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی، ۱۳۸۱ھ )
اور مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
هٰذَا طَرَفٌ مِّنْ حَدِيثٍ اَخْرَجَهُ اَحْمَدُ وَ الترمذي وغيرهما من طريق الحارث وهو الاعور، عن علي بن ابي طالب قال قضى محمد صلى الله عليه وسلم ان الدين قبل الوصية وانتم تقرؤن الوصية قبل الدين لفظ احمد، وهو اسناد ضعيف لكن قال الترمذي: ان العمل عليه عند اهل العلم وكان البخاري اعتمد عليه لاعتضاده بالاتفاق على مقتضاه والا فلم تجر عادته ان يورد الضعيف في مقام الاحتجاج به ۔ (حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، فتح الباری ج ۵ ص ۳۳۷ ، مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱۴۰۱ھ)
یہ اس پوری حدیث کا ایک جملہ ہے جس کو امام احمد اور امام ترمذی نے از حارث الاعور از حضرت علی روایت کیا ہے، امام احمد کے الفاظ یہ ہیں (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ قرض وصیت سے پہلے ادا کیا جائے اور تم قرآن مجید میں “وصیت کو قرض سے پہلے” پڑھتے ہو، اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن امام ترمذی نے کہا اس حدیث پر اہل علم کا عمل ہے، اور امام بخاری نے بھی اسی پر اعتماد کیا ہے کیونکہ اس حدیث کو اس امر سے تقویت ہے کہ اس کے مقتضا پر سب کا اتفاق ہے ورنہ امام بخاری کی یہ عادت نہیں ہے کہ وہ مقامِ استدلال میں کسی ضعیف حدیث کو وارد کریں۔
امام ترمذی روایت کرتے ہیں:
عن الحارث عن علي ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى بالدين قبل الوصية وانتم تقرءون الوصية قبل الدين والعمل على هذا عند عامة اهل العلم انه يبدء بالدين قبل الوصية ۔ (امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ ، جامع ترمذی ص ۳۰۹ ، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)
از حارث از حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ قرض وصیت پر مقدم ہے اور تم قرآنِ مجید میں وصیت کو قرض پر مقدم پڑھتے ہو، اور عام اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ قرض کو وصیت پر مقدم کیا جائے گا۔
اس حدیث کو امام ابن ماجہ(امام ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ۲۷۳ھ ، سنن ابن ماجہ ص ۱۹۵ ،، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی) اور امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (امام احمد بن حنبل متوفی ۲۴۱ھ ، مسند احمد ج ۱ ص ۱۴۴ ، ۱۳۱ ، ۷۹ ، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ۱۳۹۸ء)
اسی طرح امام بخاری نے یہ حدیث بیان کی ہے:
ویذکر عن ابی ھریرة رفعه لا يتطوع الامام فی مکانه ولم يصح ۔ (امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۱۱۷ ، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ، ۱۳۸۱ھ)
اور مذکور ہے از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اپنی جگہ نفل (سنت وغیرہ) نہ پڑھے اور یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
وذلک لضعف اسناده واضطرابه تفرد به لیث بن ابی سلیم وهو ضعیف، واختلف علیه فيه، وقد ذکر البخاری الاختلاف فيه فی تاريخه وقال لا يثبت هذا الحديث – (الی قوله) و يؤخذ من مجموع الادلة ان للامام احوالا لان الصلوة اما ان تكون مما يتطوع بعدها ولا يتطوع الاول اختلف فيه هل يتشاغل قبل التطوع بالذكر الماثور ثم يتطوع؟ وهذا الذی علیه عمل الاكثر وعند الحنفية يبدأ بالتطوع وحجة الجمهور حديث معاوية ويمكن ان يقال لا يتعين الفصل بين الفريضة والنافلة بالذكر بل اذا تنحى من مكانه كفى به و يترجح تقديم الذكر الماثور بتقييده فی الاخبار الصحيحة بدبر الصلوة واما الصلوة التي لا يتطوع بعدها فيتشاغل الامام ومن معه بالذكر الماثور ولا يتعين له مكان بل ان شاءوا انصرفوا وذکروا و ان شاءوا امكثوا وذکروا – (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، فتح الباری ج ۲ ص ۳۳۵ ملخصاً مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱۴۰۱ھ)
عدم صحت کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور یہ حدیث مضطرب ہے اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم تفرد ہے اور وہ ضعیف ہے اس میں اختلاف ہے، امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اس اختلاف کو بیان کیا ہے اور کہا ہے یہ حدیث ثابت نہیں ہے، اس مسئلہ میں جو دلائل ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ امام کی کئی حالتیں ہوتی ہیں کیونکہ کبھی نماز کے بعد سنتیں پڑھی جاتی ہیں اور کبھی نہیں، پہلی صورت میں یہ اختلاف ہے کہ آیا سنتیں پڑھنے سے پہلے ماثور ذکر کرے اور بعد میں سنتیں پڑھے یا پہلے سنتیں پڑھے، جمہور کے نزدیک ذکر کے بعد سنتیں پڑھے اور احناف کے نزدیک پہلے سنتیں پڑھے جمہور کی دلیل حضرت معاویہ کی حدیث ہے (امام مسلم نے حضرت معاویہ سے مرفوعاً روایت کیا: جب تم جمعہ پڑھ لو تو کوئی بات کرنے یا وہاں سے نکلنے سے پہلے نماز نہ پڑھو) اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ فرض اور نفل میں فصل کرنا ذکر کرنے میں منحصر نہیں ہے، بلکہ جگہ بدلنے سے بھی فصل ہوجاتا ہے، البتہ چونکہ احادیث صحیحہ میں فرض نماز کے بعد ذکر کرنے کا بیان ہے اس لیے ذکر کے ذریعہ فصل کرنے کو ترجیح ہے اور جس نماز کے بعد سنتیں نہیں پڑھی جاتیں (مثلاً فجر اور عصر) ان میں امام اور مقتدی ماثور ذکر کے ساتھ مشغول ہوں، اور یہ ضروری نہیں ہے کہ اسی جگہ بیٹھے رہیں، خواہ اسی جگہ بیٹھیں یا جگہ تبدیل کر لیں۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے سند حسن کے ساتھ حضرت علی سے روایت کیا ہے۔
من السنة ان لا يتطوع الامام حتى يتحول من مكانه –
سنت یہ ہے کہ امام جب تک جگہ تبدیل نہ کر لے سنتیں نہ پڑھے۔
امام احمد نے کہا حضرت علی کے علاوہ اور کسی سے میں اس حدیث کو نہیں پہچانتا گویا ان کے نزدیک حضرت ابوہریرہ کی مذکور الصدر روایت ثابت نہیں ہے۔ (حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، فتح الباری ج ۲ ص ۳۳۵ ، مطبوعہ داراللنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱۴۰۱ھ)
غرض یہ کہ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی اس ضعیف حدیث کو اپنی کتاب میں اس لیے درج کیا کہ ان کو اس مسئلہ میں صحیح حدیث نہیں ملی ، ہر چند کہ اس باب میں حدیث حسن بھی موجود تھی ہوسکتا ہے امام بخاری کے نزدیک امام ابن ابی شیبہ کی روایت حضرت ابوہریرہ کی روایت سے فروتر ہو!
—
ٹیگز:-
سند ضعیف , الصحیح مسلم , Allama Ghulam Rasool Saeedi , مقدمہ صحیح مسلم , صحیح مسلم , ضعیف حدیث , ضعیف , شرح صحیح مسلم , مقدمہ , حدیث ضعیف , حدیثِ ضعیف