ائمه صحاح ستہ کی شرائط

ائمه ستہ حدیث صحیح کو روایت کرتے ہیں یعنی جس کی سند متصل ہو اس کا راوی مسلم بالغ عاقل ہو اور وہ اسباب فسق اور ناپسندیدہ عادتوں سے محفوظ ہو، اس کا حافظہ صحیح ہو، اس کے پاس وہ حدیث لکھی ہوئی محفوظ ہو اور وہ حدیث غیر شاذ اور غیر معلل ہو، باقی ضبط اور اتصال میں ان ائمہ کے مختلف معیار ہیں۔

ملا علی قاری لکھتے ہیں:

علامہ حازمی نے شروط الائمہ میں لکھا ہے کہ امام بخاری کی شرط یہ ہے کہ وہ اس حدیث کی روایت کرتے ہیں جس کی سند متصل ہو، اس کے تمام راوی ثقات اور کامل الضبط والا تقان ہوں، سفر اور حضر میں طویل الملازمۃ مع الشیخ ہوں اور کبھی وہ اس طبقہ سے کم درجہ کے راوی سے بھی روایت قبول کر لیتے ہیں جو قلیل الملازمۃ مع الشیخ ہوتے ہیں۔ اور امام مسلم ان دونوں طبقوں کے علاوہ کبھی ان کی حدیث بھی قبول کرلیتے ہیں جو جرح سے محفوظ نہ ہوں غیر بہ شرطیکہ  وہ طویل الملازمۃ مع الشیخ ہوں جیسے حماد بن سلمہ، ثابت البنانی اور ایوب وغیرہ۔ (ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ۱۰۱۴ھ ، شرح شرح نخبۃ الفکر ص ۶۷ ، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ، ۱۳۹۷ھ)

ائمه ستہ کی شرائط کا خلاصہ یہ ہے:

(۱)۔ امام بخاری کامل الضبط والاتقان اور کثیر الملازمۃ مع الشیخ کی روایات کا استیعاب کرتے ہیں اور کامل الضبط والاتقان اور قلیل الملازمۃ مع الشیخ کی روایات سے انتخاب کرتے ہیں۔

(۲)۔ امام مسلم کامل الضبط اور کثیر الملازمۃ اور کامل الضبط اور قلیل الملازمۃ سے استیعاب کرتے ہیں اور ناقص الضبط اور کثیر الملازمۃ سے انتخاب کرتے ہیں۔

(۳)۔ امام ابو داؤد کامل الضبط اور کثیر الملازمۃ ، کامل الضبط اور قلیل الملازمۃ ، ناقص الضبط اور کثیر الملازمۃ ، ان تین طبقوں کی روایات سے استیعاب کرتے ہیں اور ناقص الضبط اور قلیل الملازمۃ اس چوتھے طبقہ کی روایات سے انتخاب کرتے ہیں۔

(۴)۔ امام ترمذی ان چاروں طبقوں کی روایات سے استیعاب کرتے ہیں اور پانچواں طبقہ یعنی ناقص الضبط و قلیل الملازمۃ مع غوائل الجرح سے انتخاب کرتے ہیں۔

(۵)۔ امام نسائی بھی پہلے تین طبقوں کی روایات سے استیعاب کرتے ہیں اور چوتھے طبقہ سے انتخاب کرتے ہیں اور پانچویں طبقہ سے اصلاً روایت نہیں کرتے، ان کی شرائط امام ابوداؤد کی طرح ہیں۔

(۶)۔ امام ابن ماجہ ان پانچوں طبقوں سے استیعاب کر لیتے ہیں۔