روایت قبول کرنے کے لیے راوی کی شرائط

علامہ نووی لکھتے ہیں:

راوی کی روایت قبول کرنے کے لیے حسبِ ذیل شروط ہیں:

(۱) جمہوری ائمہ حدیث اور ائمہ فقہ کا اس پر اجماع ہے کہ راوی عادل اور ضابط ہونا چاہیے یعنی مسلمان، بالغ، عاقل ہو اور وہ اسبابِ فسق اور ناپسندیدہ عادتوں سے محفوظ ہو اور بیدار مغز ہو، اگر وہ اپنے حافظہ سے حدیث بیان کرتا ہو تو ان کا حافظہ قوی ہو، اور اگر وہ اپنی اصل سے حدیث بیان کرتا ہو تو اس کے پاس حدیث لکھی ہوئی منضبط ہو، اور اگر وہ روایت بالمعنیٰ کرتا ہو تو حدیث کا ماہر عالم ہو۔

(۲) اس کی عدالت دو عادل شخصوں کی تصریح سے ثابت ہوگی یا اہل علم کے درمیان اس کی عدالت مشہور ہو اور ان کا اس کی تعریف کرنا کافی ہے، جیسے امام مالک، سفیان ثوری، اوزاعی، امام شافعی، امام احمد، لیث، شعبہ، ابن المبارک، وکیع، ابن معین، ابن مدینی اور اس قسم کے کئی ائمہ میں سے اگر کوئی اس راوی کی تعریف میں کوئی کلمہ کہے تو یہ کافی ہے۔

(۳) ثقات متقنین کی بہ کثرت موافقت کی وجہ سے اس راوی کا ضبط معروف ہو اور اگر وہ نادراً ان کی مخالفت کرتا ہو تو یہ مضر نہیں ہے اور اگر وہ ان کی زیادہ مخالفت کرے تو اس کی روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔(علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ ، تقریب الراوی مع التدریب ج ۱ ص ۳۰۴ – ۳۰۰ ، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ)

—