٤ – بَابُ الصَّلوةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ مُلْتَحِفًا بِه

ایک کپڑے کو اپنے گرد لپیٹ کر نماز پڑھنا

اس باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک کپڑے کو اپنے گرد لپیٹ کر نماز پڑھنا جائز ہے امام بخاری فرماتے ہیں:

قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثهِ الْمُلْتَحِفُ الْمُتَوَشِحُ وَهُوَ الْمُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلي عَاتِقَيْهِ وَهُوَ الْإِشْتِمَالُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ . قَالَ قَالَتْ أُمُّ هَانِي التحف النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ، وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتقيه. (جامع المسانيد لابن الجوزي: ۷۵۷۸)

الزہری نے اپنی حدیث میں بیان کیا ہے کہ “ملتحف “ کا معنى متوشح “ ہے اور” متوشح ” وہ شخص ہے جو چادر کے دونوں سروں کے پلے اپنے کندھوں پر ڈال کر ( گرہ لگا دے) اور یہی کندھوں پر چادر لپیٹنے کا معنی ہے۔ حضرت ام ھانی رضی اللہ عنہا نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے چادر کے دو مخالف سروں کو اپنے کندھوں پر ڈال لیا۔

٣٥٤ – حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ ابْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِی ثوبِ وَاحِدٍ، قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ.

اطراف الحدیث: ۳۵۵-۳۵۶]

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبیداللہ بن موسیٰ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی از والد خود از حضرت عمر بن ابی سلمہ  رضی اللہ عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا پہنے ہوئے نماز پڑھی اس کے دونوں سرے مخالف رکھے (دایاں سرا بائیں کندھے پر ڈال لیا اور بایاں سرا دائیں کندھے پر ڈال دیا اور باہم گرہ لگادی)۔

(صحیح مسلم: ۵۱۷ الرقم السلسل :۱۱۳۲ سنن ترمذی: ۳۳۹، سنن نسائی: ۷۶۳ ، سنن ابن ماجہ: 1049، صحیح ابن خزیمہ: ۷۶۱ المعجم الکبیر 8278،  مصنف ابن ابی شیبه ج ۱ ص 314،  صحیح ابن حبان : ۲۲۹۲ مصنف عبدالرزاق: ۱۳۶۵ الاحاد والمثانی : ۶۸۳، سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۳۷، مسند احمد ج ۴ ص ۲۶ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۶۳۲۹ – ج ۲۶ ص ۲۴۹ مؤسسة الرسالة بیروت ‘جامع المسانيد لابن الجوزی : ۵۸۰۷ ‘ مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ )

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عبید اللہ بن موسیٰ بن باذام العبسی الکوفی، امام بخاری نے کہا: یہ ۲۱۳ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۲) ہشام بن عروہ

(۳) عروہ بن الزبير بن العوام

(۴) حضرت عمر بن ابی سلمہ، ابو سلمہ کا نام ہے: عبد اللہ المخزومی ابوحفص، حضرت عمر بن ابی سلمہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے لے پالک ہیں یہ ۲ ھ میں حبشہ میں پیدا ہوئے تھے اور ۸۳ ھ میں عبد الملک بن مروان کے زمانہ میں فوت ہوئے۔(عمدة القاری ج 4 ص ۸۸)

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑا پہنے ہوئے نماز پڑھی اور اس کے دونوں سرے مخالف رکھے۔

صرف تہبند باندھ کر نماز پڑھنے کی تحقیق

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث: ۳۵۳۳۵۲ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب دیگر کپڑے موجود ہوں پھر بھی ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے لیکن حضرت ابن عمر اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے اس کی مذمت کی ہے، حضرت ابن عمر نے نافع کو ایک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا تمہارے پاس دو کپڑے نہیں ہیں؟ اللہ تعالٰی اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اپنے آپ کو اس کے لیے مزین کرو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے روایت کی : تم میں سے کوئی شخص نماز میں اپنے گرد اس طرح کپڑا نہ لپیٹے جس طرح یہود کپڑا لپیٹتے ہیں اور جس کے پاس دو کپڑے ہوں وہ ایک کپڑے کو اوپر پہن لے اور دوسرے کپڑے کا تہبند باندھ لے۔ اس حدیث کو موسیٰ بن عقبہ نے از نافع از حضرت ابن عمر از رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم، بغیر کسی شک کے روایت کیا ہے۔

امام طحاوی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نافع کو دو کپڑے پہنائے، پھر نافع ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھ رہے تھے تو حضرت ابن عمر نے ان کی مذمت کی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس کے لیے زینت اختیار کرو اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر کیا ہے نہ حضرت عمر کا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے کے متعلق صحابہ کی ایک جماعت نے احادیث روایت کی ہیں ان کے اسماء یہ ہیں:

حضرت جابر،  حضرت ابو ہریرہ، حضرت عمر بن ابی سلمہ اور حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہم، اور یہ احادیث حضرت ابن عمر کے اس قول کے خلاف ہیں، جس میں انہوں نے صرف ایک تہبند باندھ کر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے اور فقہاء نے دیگر صحابہ کے قول پر عمل کیا ہے اور حضرت ابن عمر کے قول پر کسی نے عمل نہیں کیا۔ اس مسئلہ کی زیادہ تحقیق ان شاء اللہ صحیح البخاری : ۳۵۸ میں آئے گی۔

( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۱۴ – ۱۳ دار الكتب العلميہ بيروت (1424ھ)