مقدمہ از شارح صحیح مسلم : حدیث صحیح کے راوی کی شرائط کا بیان
sulemansubhani نے Monday، 14 September 2026 کو شائع کیا.
حدیث صحیح کے راوی کی شرائط کا بیان :
حافظ ابوبکر الحازمی لکھتے ہیں:
۱۔ پہلی شرط اسلام ہے، کیونکہ مشرکین کی روایت کتاب و سنت اور اجماع سے مردود ہے، البتہ اگر کسی شخص نے حالتِ شرک میں کوئی روایت سنی پھر اس کو اسلام قبول کرنے کے بعد روایت کیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے .
۲۔ دوسری شرط عقل ہے، کیونکہ بچہ اور مجنون کی روایت مقبول ہوتی ہے نہ شہادت، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین شخص مرفوع القلم ہیں، سونے والا حتی کہ بیدار ہوجائے، بچہ حتی کہ بالغ ہوجائے اور مجنون حتی کہ اس کی عقل صحیح ہوجائے .
۳۔ تیسری شرط صدق ہے کیونکہ جھوٹا شخص یا تو حدیث میں جھوٹ بولے گا تو اس کی حدیث مردود ہے خواہ وہ توبہ کرلے، اور یا وہ شخص لوگوں سے جھوٹ بولے گا اس کی حدیث بھی مردود ہے، اس طرح جو شخص تلقین کو قبول کرنے میں مشہور ہو اور جس شخص کا روایت کرنے میں تساہل مشہور ہو اس کی حدیث بھی مردود ہے .
۴۔ اس حدیث کا راوی مدلس نہیں ہونا چاہیے .
۵۔ اس حدیث کا راوی عادل ہونا چاہیے، عدالت سے یہ مراد ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتا ہو اور ممنوعات سے اجتناب کرتا ہو اور صرف یہ کافی نہیں ہے کہ وہ کبائر سے مجتنب ہو بلکہ صغائر پر اصرار کرنے سے بھی مجتنب ہو، اور ثبوتِ عدالت کے بعد اس میں کوئی ایسی چیز نہ پائی جائے جو عدالت کے منافی ہو۔ ان شرائط کے پائے جانے کے بعد اس میں حسبِ ذیل شرائط کا مزید پایا جانا ضروری ہے۔ :
۱۔ اہل علم میں اس شخص کی یہ شہرت ہو کہ وہ حدیث کا طالب ہے اور حدیث کے ساتھ مشغول رہتا ہے۔
۲۔ اس شخص نے علماءِ حدیث سے سن کر احادیث روایت کی ہوں کتابوں سے دیکھ کر نہیں۔
۳۔ سماعِ حدیث کے وقت سے اس کو وہ حدیث مضبوط ہو اور اپنے شیخ نے اس روایت کی اس کو تحقیق اور تدلیس نہ ہو۔
۴۔ وہ شخص حاضر دماغ اور بیدار مغز ہو اور اس پر غفلت طاری نہ ہوتی ہو۔
۵۔ اس شخص کو غلطی اور وہم بہت کم عارض ہوتا ہو، کیونکہ جو شخص کثیر الغلط اور وہمی ہوگا اس کی حدیث مردود ہوگی۔
۶۔ وہ شخص سنجیدہ اور باوقار ہو۔
۷۔ وہ شخص خود رائے نہ ہو اور بدعت سے مجتنب ہو، کیونکہ بدعتی کی وہ روایت مقبول نہیں ہوتی جو اس کی بدعت کی مؤید ہو۔
حدیثِ صحیح کے راوی کے یہ جامع اوصاف ہیں اور ان کے توابع اور لواحق ہیں جن کا پورا علم مہارتِ تامہ کے بعد ہی ممکن ہے۔
ائمه صحاح ستہ کی شرائط کا بیان
ائمہ خمسہ کا مخارجِ حدیث کے استنباط کی کیفیت میں الگ الگ مذہب ہے جو امام حدیثِ صحیح کو سند کے ساتھ روایت کرتا ہے وہ راوی کے مشائخ میں عدل کا اعتبار کرتا ہے اور جن ثقہ راویوں سے وہ مشائخ روایت کرتے ہیں ان میں سے اگر بعض راوی صحیح ہوں اور بعض میں ایسی صلاحیت نہ ہو تو ان کی حدیث کو صرف شواہد اور متابعات کے طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے، اس کو ہم ایک مثال کے ساتھ واضح کرتے ہیں، مثلاً ہمیں معلوم ہے کہ اصحابِ زہری کے پانچ طبقات ہیں اور ہر طبقہ کو اپنے بعد والے طبقہ پر ایک فوقیت حاصل ہے، پس جو طبقہ اولیٰ کے راوی ہیں وہ غایتِ صحت میں ہیں اور وہ امام بخاری کا غایتِ مقصود ہیں، اور طبقہ ثانیہ کے راوی عدالت میں تو طبقہ اولیٰ کے مساوی ہیں لیکن طبقہ اولیٰ کے راوی کامل الضبط والاتقان اور زہری کے ساتھ طویل الملازمتہ ہیں حتیٰ کہ وہ سفر اور حضر میں زہری کے ساتھ رہے اور طبقہ ثانیہ کے راوی زہری کے ساتھ تھوڑا عرصہ ملازم رہے اس لیے ان کو زہری کی احادیث کا اتنا تجربہ نہیں ہے اور وہ ضبط اور اتقان میں بھی پہلے مرتبہ سے کم ہیں اور یہ راوی امام مسلم کی شرط ہیں۔ اور طبقہ ثالثہ میں وہ راوی ہیں جو زہری کے ساتھ کثیر الملازمتہ ہیں لیکن وہ شدید جرح سے محفوظ نہیں ہیں اس لیے وہ رد اور قبول کے درمیان ہیں، اور یہ امام ابو داؤد اور نسائی کی شرط ہیں، اور طبقہ رابعہ جو جرح اور تعدیل میں طبقہ ثالثہ کے مساوی ہیں لیکن یہ زہری کے ساتھ بہت کم عرصہ رہے اس لیے ان کو زہری کی حدیث کا بہت کم تجربہ ہے اور یہ امام ترمذی کی شرط ہے، اور حقیقتِ امام ترمذی کی شرط امام ابو داؤد کی شرط سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ جب حدیث ضعیف ہو یا اس کا مخرج طبقہ رابعہ ہو تو امام ترمذی اس حدیث کا ضعف بیان کرتے ہیں اور وجہِ ضعف پر متنبہ کرتے ہیں اور ان کی حدیث شواہد اور متابعت کے باب سے ہوتی ہے اور طبقہ خامسہ ضعفاء اور مجہولین کی جماعت ہے ان احادیث کو ترجمۃ الباب کے اثبات کے لیے روایت کرنا جائز نہیں ہے البتہ امام ابوداؤد ان کی احادیث کو بطور اعتبار اور استشهاد روایت کرتے ہیں اور امام بخاری اور مسلم ان سے بالکل روایت نہیں کرتے، (امام ابن ماجہ اس طبقہ کی روایات کا استیعاب کرتے ہیں۔)
اصحاب زہری کے طبقات خمسہ کا بیان
**طبقہ اولیٰ:**
مثلاً مالک، ابن عیینہ، عبید اللہ بن عمر، یونس، عقیل، شعیب بن ابی حمزہ وغیرہم۔
**طبقہ ثانیہ:**
مثلاً عبد الرحمن بن عمر اوزاعی، لیث بن سعد، نعمان بن راشد، عبد الرحمن بن خالد بن مسافر وغیرہم۔
**طبقہ ثالثہ:**
سفیان بن حسین سلمی، جعفر بن برقان، عبد اللہ بن عمر بن حفص العمری، زمعہ بن صالح المکی وغیرہم۔
**طبقہ رابعہ:**
اسحاق بن یحییٰ کلبی، معاویہ بن یحییٰ الصدفی، اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروہ مدنی، ابراہیم بن یزید المکی، مثنى بن الصباح وغیرہم۔
**طبقہ خامسہ:**
بحر بن کنیزالسقا، حکم بن عبداللہ ایلی، عبد القدوس بن حبیب الدمشقی، محمد بن سعید مصلوب وغیرہم۔
امام بخاری طبقہ اولیٰ سے استیعاب کرتے ہیں اور طبقہ ثانیہ سے انتخاب کرتے ہیں اور امام مسلم طبقہ اولیٰ اور طبقہ ثانیہ سے استیعاب کرتے ہیں اور طبقہ ثالثہ سے انتخاب کرتے ہیں اور امام ابوداؤد اور امام نسائی پہلے تین طبقوں سے استیعاب کرتے ہیں اور طبقہ رابعہ سے انتخاب کرتے ہیں اور امام ترمذی پہلے چار طبقوں سے استیعاب کرتے ہیں اور طبقہ خامسہ سے انتخاب کرتے ہیں۔ (اور امام ابن ماجہ پانچوں طبقے سے بھی استیعاب کرتے ہیں)۔ (حافظ ابوبکر محمد بن موسیٰ حازمی متوفی ۵۸۴ھ، شروط الائمۃ الخمسۃ ص مطبوعہ رحیم الہٰی پریس کراچی، ۱۴۰۴ھ)
متاخرین کے لیے سند حدیث کی تصحیح، تحسین اور تضعیف کرنے کی تحقیق
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
جب ہم مختلف رسالوں میں ایسی صحیح الاسناد حدیثوں کو دیکھتے ہیں جو صحیحین میں درج نہیں ہیں اور نہ دیگر مستند ائمہ حدیث نے ان احادیث کے متعلق اپنی تصنیفات میں صحت کی تصریح کی ہے تو ہم ان احادیث پر وثوق کے ساتھ صحت کا حکم لگانے کی جرأت نہیں کرتے، کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں کو محض اسانید کے اعتبار سے حدیث کی صحت کا ادراک نہیں ہے، کیونکہ ہر سند میں ایسے رجال مل جاتے ہیں جن کی روایت پر کچھ لوگوں نے اعتماد کیا ہوتا ہے حالانکہ وہ حفظ، ضبط اور اتّقان سے عاری ہوتے ہیں جوکہ حدیثِ صحیح کے لیے شرط ہے، اس لیے بالآخر حدیثِ صحیح اور حسن کی معرفت کا امر ائمہ حدیث کی طرف رجوع کرے گا جنھوں نے اپنی معتمد مستند اور مشہور تصانیف میں احادیث کے صحیح یا حسن ہونے کی تصریح کی ہے۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۱۳ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۸۶ھ)
علامہ نووی لکھتے ہیں:
جس شخص کی معرفت قوی ہو اور وہ کسی حدیث کو صحیح یا حسن قرار دینے پر قادر ہو میرے نزدیک زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس کے لیے یہ امر جائز ہے۔ (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ، تقریب النواوی مع التدریب ج ۱ ص ۱۴۳، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)
حافظ زین الدین عراقی لکھتے ہیں:
علامہ نووی نے حافظ ابن الصلاح کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے اس کو جائز کہا ہے اور جس کو علامہ نووی نے ترجیح دی ہے اس پر محدثین کا عمل ہے، کیونکہ متاخرین کی ایک جماعت نے ان احادیث کو صحیح قرار دیا ہے جن کی صحت کے متعلق متقدمین کی تصریح نہیں ہے، حافظ ابن الصلاح کے معاصر حافظ ابن القطان صاحب کتاب بیان الوہم والایہام متوفی ۶۲۸ھ نے متعدد احادیث کو صحیح قرار دیا ہے، ان میں سے مسند بزار کی یہ حدیث ہے “حضرت ابن عمر وضو کرتے اور ان کی نعلین کجاوہ میں ہوتیں جن پر وہ مسح کرتے اور وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے” حافظ ابن القطان نے کہا یہ حدیث صحیح ہے، اور حافظ ابن الصلاح کے ایک اور معاصر حافظ ضیاء الدین مقدسی متوفی ۶۴۳ھ نے احادیث کا ایک مجموعہ مرتب کیا جس میں احادیث صحیحہ درج کرنے کا التزام کیا، اسی طرح حافظ زکی الدین منذری متوفی ۶۵۶ھ نے ایک رسالہ لکھا اور اس میں غفرلہ تقدم من ذیہ وما تاخر کے متعلق تمام حدیثیں درج کیں پھر اس طبقہ کے بعد کے حفاظ نے بھی تصحیح کی ان میں سے حافظ شرف الدین عبد المؤمن بن خلف دمیاطی ہیں جنھوں نے زمزم کے پانی سے متعلق حضرت جابر کی مرفوع حدیث کو صحیح قرار دیا اور ایک رسالہ میں اس سے متعلق احادیث کو درج کیا، پھر اس طبقہ کے قریب شیخ تقی الدین سبکی ہیں جنھوں نے شفاء السقام نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں زیارت قبر انور سے متعلق احادیث جمع کیں۔ (حافظ زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ التقیید والایضاح ص ۲۳،۲۴ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۸۹ھ)
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
جب کوئی محدث کسی حدیث کو روایت کرے اور اس کی اسناد میں شروط صحت پائی جائیں اور محدث اس حدیث میں کسی علت پر مطلع نہ ہو تو اس حدیث پر صحت کا حکم لگانے سے کیا چیز مانع ہے، خواہ متقدمین سے کسی نے اس حدیث کی صحت کی تصریح نہ کی ہو اور بہ کثرت ایسی حدیثیں ہیں جن کے راوی حدیث صحیح کے راوی ہیں اور جس شخص کو بھی اس فن کا ذوق ہو گا وہ اس میں مناقشہ نہیں کرے گا۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ النکت علی کتاب ابن الصلاح ج ۱ ص ۲۷۲ مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی مدینہ منورہ ۱۴۰۴ھ)
علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا ہے کہ حافظ ابن الصلاح کی دلیل یہ ہے کہ “حدیث صحیح میں جس درجہ کا ضبط مطلوب ہوتا ہے وہ اسانید میں نہیں ہے” اگر اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ تمام اسانید میں یہ شرط نہیں پائی جاتی تو یہ ممنوع ہے، کیونکہ بعض اسانید میں رجال صحیح ہوتے ہیں اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ بعض اسانید ایسی ہیں تو اس سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ چونکہ کوئی سند صحیح نہیں ہے اس لیے اب کسی حدیث کو صحیح نہیں کہا جا سکتا۔ حدیث کی جو کتابیں مشہور ہیں ان میں یہ ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس کتاب تک اپنی اسناد ثابت کریں، پھر حدیث کو روایت کریں، جیسے مسانید اور سنن ہیں، جب ان میں سے کوئی مصنف کسی حدیث کو روایت کرے اور اس حدیث میں صحت کی تمام شرائط پائی جائیں اور ماہر محدث اس میں کسی علت پر مطلع نہ ہو تو اس محدث کے لیے اس حدیث پر صحت کا حکم لگانا ممنوع نہیں ہو گا خواہ متقدمین میں سے کسی نے اس حدیث کے متعلق صحت کی تصریح نہ کی ہو۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا کہ حافظ ابن الصلاح کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ متقدمین کی تصحیح مقبول ہے اور متاخرین کی تصحیح مردود ہے اور اس سے یہ لازم آئے گا کہ صحیح حدیث مردود ہوجائے اور غیر صحیح حدیث مقبول ہوجائے، کیونکہ کئی ایسی احادیث ہیں جن پر امام متقدم نے صحت کا حکم لگایا اور متاخر اس کی کسی ایسی علت قادحہ پر مطلع ہوا جو صحت کے حکم سے مانع تھی، خصوصاً ایسی صورت میں جب کہ وہ متقدم ان ائمہ میں سے ہو جو صحیح اور حسن میں فرق نہیں کرتے جیسے امام ابن خزیمہ اور امام ابن حبان وغیرہ اس لیے وہ حدیث مردود ہوگی اور حافظ ابن الصلاح کے ذکر کردہ اعتبار سے اس کا مقبول ہونا لازم آئے گا۔
حافظ عسقلانی نے کہا تعجب ہے کہ ابن الصلاح تمام اساتذہ متاخرہ میں عام خلل کا دعویٰ کرتے ہیں اور متقدمین کی تصحیح کو قبول کرتے ہیں اور متقدمین کی تصحیح بھی متاخرین کے لیے اسی اسناد کے ساتھ متصل ہے جس میں وہ خلل کا دعویٰ کرتے ہیں تو اگر یہ خلل صحتِ اسناد کا حکم لگانے سے مانع ہے تو وہ اس تصحیح کو قبول کرنے کے حکم سے بھی مانع ہوگا۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۱۴۶-۱۴۷، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ)
علامہ سخاوی لکھتے ہیں :
حافظ ابن الصلاح کے معاصرین کی ایک جماعت نے متاخرین کے لیے حدیث کی تصحیح، تحسین اور تضعیف کو جائز قرار دیا ہے، ان میں حافظ ابو الحسن قطان، حافظ ضیاء الدین مقدسی، حافظ زکی الدین منذری اور حافظ دمیاطی ہیں پھر اس کے بعد طبقہ بہ طبقہ حتیٰ کہ ہمارے شیخ علمائے حدیث، حدیث کی تصحیح، تحسین اور تضعیف کرتے رہے ہیں اورعلامہ نووی نے یہ تصریح کی ہے کہ جو شخص اس پر قادر ہو اور اس کو اس کی قوی معرفت ہو اس کے لیے یہ امر جائز ہے۔ (علامہ ابو عبدالله محمد بن عبد الرحمٰن سخاوی متوفی ۹۰۲ھ، فتح المغیث بشرح الفية الحديث ج ۱ ص ۵۱-۵۰ مطبوعہ دارالامام الطبری، ۱۴۱۲ھ)
میں کہتا ہوں کہ علامہ نووی شافعی متوفی ۶۷۶ھ نے شرح مسلم اور شرح المهذب میں، اور علامہ ابن قدامہ حنبلی متوفی ۶۲۰ھ نے مغنی میں، امام ابن الجوزی حنبلی متوفی ۵۹۷ھ نے کتاب الموضوعات اور العلل المتناہیہ میں، حافظ ذہبی متوفی ۷۵۴ھ نے میزان الاعتدال میں، حافظ زیلعی حنفی متوفی ۷۶۲ھ نے نصب الرایہ میں، حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ نے فتح الباری، درایہ اور مطالب عالیہ میں، حافظ الهیثمی متوفی ۸۰۷ھ نے مجمع الزوائد، کشف الاستار اور زوائد ابن حبان میں، حافظ بدر الدین عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ نے عمدة القاری میں، علامہ سخاوی متوفی ۹۰۲ھ نے المقاصد الحسنة میں، علامہ سیوطی متوفی ۹۱۱ھ نے اللآلئ المصنوعه میں اور ملا علی قاری حنفی متوفی ۱۰۱۴ھ نے موضوعات کبیره میں بکثرت احادیث کی تخریج اور تحقیق کی ہے اور کتنی احادیث کو صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے اور اسانید کی تحقیق کا یہ عمل مسلسل جاری ہے اور مصنف نے بھی شرح صحیح مسلم میں بہت سی احادیث کی تخریج اور تحقیق کی ہے اور ان کی اسناد کا صحیح، حسن، ضعیف یا موضوع ہونا بیان کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تخریج اور تحقیق کا یہ عمل کبھی جامد نہیں ہوا بلکہ مسلسل جاری و ساری ہے۔
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح مسلم , شرح صحیح مسلم , مقدمہ , الصحیح مسلم , مقدمہ صحیح مسلم