کتاب الصلوۃ باب 90 حدیث نمبر 495
٤٩٥ – حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّى بِهِمْ بِالْبَطْحَاءِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنزةُ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْن،ِ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں ابو الولید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از عون بن ابی جحیفہ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کھلے میدان میں نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے نیزہ تھا، ظہر کی دو رکعت اور عصر کی دو رکعت اور آپ کے سامنے سے عورت اور گدھا گزر رہا تھا۔
اس حدیث کی شرح، صحیح البخاری: ۱۸۷ میں گزر چکی ہے دیگر ضروری فوائد ہم یہاں بیاں کر رہے ہیں ۔
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب انسان صحراء میں ہو تو اس کو اپنے سامنے سترہ رکھنا چاہیے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر نمازی کے سامنے سے عورت اور گدھا گزر جائے تو اس سے اس کی نماز منقطع نہیں ہوتی یہ جمہور علماء کا قول ہے اور حضرت انس، مکحول، ابو الاحوص، حسن بصری اور عکرمہ سے اس کے خلاف منقول ہے۔
عورت، کتے اور گدھے کے نمازی کے سامنے سے گزرنے سے نماز کے منقطع ہونے کے متعلق احادیث
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اور کتے اور گدھے کا (سامنے سے گزرنا ) نماز کو منقطع کر دیتا ہے۔ (سن ابن ماجہ: 950 مسند احمد ج ۲ ص ۲۹۹ طبع قدیم، مسند احمد: ۷۹۸۳ – ج 13 ص 361، مؤسسة الرسالة بيروت مصنف عبد الرزاق:2351، المعجم الكبير : ۳۱۶۱، سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۷۵ کامل ابن عدی ج ۲ ص ۵۷۶ – ج ۵ ص ۲۰۲۱ – ج ۷ ص ۲۵۹۱- ج ۶ ص۲۴۲۶)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: شعبہ نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: حائض عورت اور کتا نماز کو قطع کردیتا ہے۔ (سن ابوداؤد : 703، سنن نسائی: ۷۵۰ سنن ابن ماجہ :۹۴۹ السنن الکبری للنسائی: 827، صحیح ابن خزیمہ : 832، صحیح ابن حبان : 2387، المعجم الكبير: ۱۲۸۲۴ سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۷۴ مصنف عبدالرزاق: ۲۳۵۴ مسند احمد ج ا ص ۳۴۷ طبع قدیم، مسند احمد :۳۲۴۱- ج ۵ ص ۲۹۳ مؤسسة الرسالة بيروت)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو پالان کی آخری لکڑی کی مثل کو سترہ بنالے اور اگر اس کے سامنے پالان کی آخری لکڑی کی مثل کوئی چیز نہیں ہوگی تو اس کی نماز کو گدھا، عورت اور سیاہ کتا قطع کر دے گا۔ ( صحیح مسلم : 265، الرقم المسلسل : ۱۱۱۷ سنن ابوداؤد : ۷۰۲ سنن ترمذی: ۳۳۸ سنن ابن ماجه: 952، مسند ابوداؤد الطیاسی : 453، سنن دارمی: 1414، صحیح ابن حبان : ۲۳۸۵ سنن بیہقی ج ۲ ص 274، صحیح ابن خزیمہ : 830-831 المعجم الصغير : 195-505 المعجم الاوسط: ۸۲۹۵-3349، المعجم الكبير :۱۶۳۶ – ۱۶۳۵ مسند احمد ج ۵ ص ۱۴۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۱۳۲۳ – ج ۳۵ ص ۲۵۰ مؤسسة الرسالة بیروت)
ان احادیث میں ان فقہاء کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ نمازی کے آگے سے عورت اور کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو قطع کردیتا ہے۔
عورت اور گدھے کے نمازی کے سامنے سے گزرنے سے نماز منقطع نہ ہونے کے متعلق احادیث
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو کوئی چیز منقطع نہیں کرتی، نماز کے آگے سے گزرنے والے کو جتنا تم دفع کرسکتے ہو دفع کرو وہ صرف شیطان ہے۔ (سنن ابوداؤد :۷۱۹ مشکوۃ:۷۸۵)
مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ذکر کیا گیا کہ کتے, گدھے اور عورت کا نمازی کے سامنے سے گزرنا, اس کی نماز کو قطع کردیتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے مشابہ کردیا ہے؟ اللہ کی قسم ! میں نے ضرور دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان تخت پر لیٹی ہوئی تھی’ مجھے کوئی کام ہوتا تو میں آپ کے سامنے بیٹھنے کو ناپسند کرتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دوں تو میں آپ کے پیروں کی طرف سے چپکے سے نکل جاتی ۔(صحیح البخاری: ۵۱۴ صحیح مسلم : 512، الرقم السلسل : ۱۱۲۳ سنن ابوداؤد: ۷۱۳ – ۷۱۲ ۷۱۱ ‘سنن نسائی: 168 – 166-167)
اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے سامنے حضرت عائشہ تھیں اور آپ نماز پڑھتے رہے اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے سامنے ہونے سے مرد کی نماز منقطع نہیں ہوتی، اور گدھے کے نمازی کے سامنے سے گزرنے کے متعلق یہ حدیث ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہوکر آیا اور میں اس وقت بلوغت کے قریب تھا، اس وقت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم منی میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، میں بعض صف کے آگے سے گزرا، پھر میں اترا اور گدھی کو میں نے چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور میں صف میں داخل ہو گیا اور کسی نے مجھے پر اعتراض نہیں کیا۔(صحیح البخاری : ۴۹۳، صحیح مسلم : 504، سنن ترمذی : ۳۳۷ سنن نسائی: ۷۵۱ سنن ابن ماجہ : 947، مسند احمد ج اص ۲۱۹)
ان مختلف احادیث میں وجہ تطبیق
ان احادیث میں یہ دلیل ہے کہ عورت اور گدھے کے نمازی کے سامنے سے گزرنے سے اس کی نماز نہیں ٹوٹتی اور جن اوّل الذکر احادیث میں یہ بیان ہے کہ عورت، کتے اور گدھے کے نمازی کے سامنے سے گزرنے سے اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے یا تو وہ احادیث ثانی الذکر احادیث سے منسوخ ہیں اور جمہور فقہاء کی یہی رائے ہے اور یا پھر اوّل الذکر احادیث کی یہ تاویل ہے کہ جب نمازی کے سامنے سے عورت، کتا یا گدھا گزرے گا تو نمازی کی توجہ اس کی طرف مبذول ہوگی اور نماز میں اس کا جو خشوع اور خضوع تھا، وہ منقطع ہوجائے گا۔ علامہ بدرالدین عینی حنفی نے ان مختلف احادیث میں اسی طرح تطبیق دی ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۰۸ دار الکتب العلمیة بیروت (1421ھ)
[…] حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۴۹۵ میں گزرچکی […]