باب

امام بخاری نے اس باب کا کوئی ترجمہ یا عنوان قائم نہیں کیا اور اس کتاب میں ان کا اسلوب یہ ہے کہ وہ جس باب کا عنوان قائم نہیں کرتے وہ ابواب سابقہ کے ساتھ ملحق ہوتا ہے۔

٥٠٦ – حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْن عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْداللَّهِ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ، مَشَى قِبَلَ وَجْهِهِ حِین يَدْخُلُ، وَجَعَلَ الْبَابَ قِبَلَ ظَهْرِهِ، فَمَشَى حَتى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثَةِ اذْرُعٍ صَلَّى، يَتَوَكَّى الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِهِ بِلال أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيْهِ، قَال وَلَيْسَ عَلَى أَحَدِنَا بَأْسٌ، إِنْ صَلَّى فِي اي نَواحِي الْبَيْتِ شَاء۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن المنذر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابو ضمرہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے حدیث بیان کی از نافع کہ حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبہ میں داخل ہوئے تو دخول کے وقت وہ اپنے منہ کی طرف چلے اور دروازہ کو اپنی پشت کے پیچھے رکھا، پھر چلے حتی کہ ان کے درمیان اور اس دیوار کے درمیان جو ان کے منہ کی طرف تھی تقریبا تین ذراع (ساڑھے چارفٹ ) کا فاصلہ تھا، (پھر) انہوں نے نماز پڑھی اور اس جگہ کا قصد کیا، جس جگہ کے متعلق ان کو حضرت بلال نے یہ خبر دی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ نماز پڑھی ہے اور کہا: ہم میں سے جو شخص بیت اللہ کی کسی جانب نماز پڑھنے اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔

اس حدیث کی شرح کے لیے بھی صحیح البخاری ۳۹۷ کا مطالعہ فرمائیں۔