۱۰۳ – بَابُ الصَّلُوةِ خَلْفَ النَّائِمِ

سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔

٥١٢ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا هشَامٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِی صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرضَة عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوْتِرَ أَيْقَظَنِى فَأَوْتَرْتُ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں   یحیی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی’ انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی از حضرت عائشہ رضی اللہ  عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور میں آپ کے سامنے بستر کے عرض میں لیٹی ہوئی تھی، پس جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے بیدار کرتے پھر میں وتر پڑھتی ۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری : ۳۸۲ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: بستر پر نماز پڑھنا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص سویا ہوا ہو اس کو عبادت کے لیے بیدار کرنا مستحب ہے اور یہ کہ جو شخص تہجد کے لیے اٹھتا ہو وہ سونے کے بعد وتر پڑھے۔