مقدمہ از شارح جامع ترمذی : اصح الاسانید کون سی سند ہے؟
sulemansubhani نے Saturday، 3 October 2026 کو شائع کیا.
اصح الاسانید کون سی سند ہے؟
امام حاکم فرماتے ہیں:
قطعی طور پر کسی ایک صحابی کی سند کو اصح الاسانید کہنا ممکن نہیں، ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کہتے ہیں کہ اہل بیت کی اصح الاسانید یہ ہے: جعفر بن محمد عن ابيه عن جده عن علی، بشرطیکہ حضرت جعفر سے روایت کرنے والا ثقہ ہو۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصح الاسانید یہ ہے: اسماعيل بن ابی خالد عن قيس بن ابی حازم عن ابی بکر۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصح الاسانید یہ ہے: الزھری عن سالم عن ابيه عن جده۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصح الاسانید یہ ہے: الزھری عن سعيد بن المسيب عن ابی ہریرہ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اصح الاسانید یہ ہے: مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اصح الاسانید یہ ہے: عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ۔ یہ بھی ہے: مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ للَّهِ بْنِ شِهَابِ بْنِ زُهْرَةَ الْقُرَشِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْقُرَشِيِّ عَنْ عَائِشَةَ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصح الاسانید یہ ہے: سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ النَّخَعِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصح الاسانید یہ ہے: عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ۔ مکیوں کی اصح الاسانید یہ ہے: سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ۔ یمنیوں کی اصح الاسانید یہ ہے: مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ۔ مصریوں کی اثبت الاسانید یہ ہے: الليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عقبة بن عامر رضی الله عنه، شامیوں کی اثبت الاسانید یہ ہے: الأوزاعی عن حسان بن عطية عن الصحابة رضی الله عنهم۔ خراسانیوں کی اثبت الاسانید یہ ہے: الحسن بن واقد عن عبد الله بن بريدة عن أبيه رضی الله تعالى عنه۔ )معرفة علوم الحديث للحاكم، ذکر نوع الثامن عشر من علوم الحديث، ج1، ص55 دار الكتب العلميه، بيروت(