احادیث سے ثابت ہونے والے امور

 حدیث سے ثابت ہونے والے امور کی تین اقسام ہیں:

 (۱)(عقائد قطعیہ میں احادیثِ احاد، اگرچہ صحیح ہوں کافی نہیں) جن باتوں کا ثبوت حدیث سے پایا جائے وہ سب ایک پلّہ کی نہیں ہوتیں بعض تو اس اعلیٰ درجہ قوت پر ہوتی ہیں کہ جب تک حدیث مشہور ، متواتر نہ ہو اُس کا ثبوت نہیں دے سکتے احاد اگرچہ کیسے ہی قوتِ سند و نہایتِ صحت پر ہوں اُن کے معاملہ میں کام نہیں دیتیں۔ عقائد میں حدیثِ احاد اگرچہ صحیح ہو کافی نہیں ، یہ اصولِ عقائدِ اسلامیہ ہیں جن میں خاص یقین درکار۔ (ہاں عقائدِ ظنیہ کا ثبوت احاد سے بھی ہوجاتا ہے)۔

 (۲)(دربارہِ احکام ضعیف کافی نہیں) دوسرا درجہ احکام کا ہے کہ اُن کے لئے اگرچہ اُتنی قوت درکار نہیں پھر بھی حدیث کا صحیح لذاتہ خواہ لغیرہ یا حسن لذاتہ یا کم سے کم لغیرہ ہونا چاہئے ،جمہور علماء یہاں ضعیف حدیث نہیں سنتے۔

 (۳)(فضائل و مناقب میں با اتفاقِ علماء حدیث ضعیف مقبول و کافی ہے) تیسرا مرتبہ فضائل و مناقب کا ہے یہاں با اتفاق علماء ضعیف حدیث بھی کافی ہے، مثلاً کسی حدیث میں ایک عمل کی ترغیب آئی کہ جو ایسا کرے گا اتنا ثواب پائے گا یا کسی نبی یا صحابی کی خوبی بیان ہوئی کہ اُنہیں اللہ عزوجل نے یہ مرتبہ بخشا، یہ فضل عطا کیا، تو ان کے مان لینے کو ضعیف حدیث بھی بہت ہے، ایسی جگہ صحتِ حدیث میں کام کرکے اسے پایہ قبول سے ساقط کرنا فرقِ مراتب نہ جاننے سے ناشی، جیسے بعض جاہل بول اُٹھے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں، یہ اُن کی نادانی ہے علمائے محدثین اپنی اصطلاح پر کلام فرماتے ہیں، یہ بے سمجھے خدا جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں،

 عزیز و! مـسلّم کہ صحت نہیں پھر حسن کیا کم ہے، حسن بھی نہ سہی یہاں ضعیف بھی مستحکم ہے۔

فضائلِ اعمال و تفصیلِ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی حدیثیں کیسی ہی ہوں ہر حال میں مقبول و ماخوذ ہیں مقطوع ہوں خواہ مرسل نہ اُن کی مخالفت کی جائے نہ اُنہیں رد کریں، ائمہ سلف کا یہی طریقہ تھا۔(فتاوی رضویه، ج 5،ص،479رضا فاؤنڈیشن،لاہور)