حدیث منکر کا بیان
sulemansubhani نے Friday، 23 October 2026 کو شائع کیا.
حدیث منکر کا بیان
منکر انکار کا اسم مفعول ہے اور انکار، اقرار کی ضد ہے، جب راوی میں فحش غلطی یا کثرت غفلت یا فسق کا طعن ہو تو اس کی حدیث کو منکر کہتے ہیں؛
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
فمن فحش غلطه أو كثرت غفلته أو ظهر فسقه فحديثه منكر ۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، شرح نخبة الفكر ص ۵۶ ، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)
جو روایت میں سنگین غلطی کرتا ہو، یا بہت غفلت کرتا ہو یا اس کا فسق ظاہر ہو اس کی حدیث منکر ہے۔
علامہ نووی لکھتے ہیں:
قَالَ الْحَافِظُ الْبَرْدِيجِيُّ هُوَ الْفَرْدُ الَّذِي لَا يُعْرَفُ مَتْنُه عَنْ غَيْرِ رَاوِيَهِ وَكَذَا أُطْلِقَ كَثِيرُونَ وَالصَّوَابُ فِيْهِ التَّفْصِيلُ الَّذِي فِي الشَّاذِّ – (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ ، تدریب الراوی مع التدریب ج ۱ ص ۲۳۹ – ۲۳۸ ، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ)
حافظ بردیجی نے کہا کہ منکر اس فرد حدیث کو کہتے ہیں جس کا متن اس راوی کے علاوہ اور کسی راوی سے معروف نہ ہو، اکثر علماء نے منکر کو اسی طرح مطلقاً بیان کیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ اس میں بھی شاذ والی تفصیل ہے۔
علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
حدیث منکر کی دو تعریفیں ہیں ایک وہ تعریف ہے جو حافظ بردیجی سے منقول ہے اور دوسری تعریف یہ ہے کہ وہ فرد حدیث ہے جس کے راویوں میں کوئی ثقہ اور صاحب اتقان راوی نہ ہو تو اس تفرد کا حامل ہو۔ (علامہ جلال سیوطی متوفی ۹۱۱ھ ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۳۹ ، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ ) اول الذکر تعریف کے اعتبار سے اس کی مثال یہ حدیث ہے:
امام ابو داؤد روایت کرتے ہیں:
عَنْ هَمَّامٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ وَضَعَ خَاتَمَهُ قَالَ اَبُودَاوُدَ هذَا حَدِيْثٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ عَنْ اِبْنِ جُرَيْجٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَماً مِنْ وَرِقٍ ثُمَّ اَلْقَاهُ وَالْوَهْمُ فِيْهِ مِنْ هَمَّامٍ وَلَمْ يَرُوَه اِلَّا هَمَّامٌ ۔ (امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ۲۷۵ھ سنن ابی داؤد ج ۱ ص ۴ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی پاکستان لاہور ۱۴۰۵ھ)
از ہمام از ابن جریج از زہری از حضرت انسؓ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ، امام ابو داؤد نے کہا یہ حدیث منکر ہے اس کے مقابلے میں معروف حدیث یہ ہے از ابن جریج از زیاد بن سعد از زہری از حضرت انسؓ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی پھر اس کو پھینک دیا اس (منکر) حدیث میں ہمام کو وہم ہوا ہے ، اور ہمام کے سوا کسی نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا۔
ثانی الذکر تعریف (جس کا راوی غیر ثقہ ہو اور اس متن کے ساتھ متفرد ہو) کے اعتبار سے منکر کی مثال یہ حدیث ہے۔
امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں:
عَنْ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيِّ ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوْا الْبَلَحَ بِالتَّمْرِ كُلُوْا الْخَلَقَ بِالْجَدِيْدِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَغْضَبُ وَيَقُوْلُ بَقِيَ ابْنُ اٰدَمَ حتی اکل الخلق بالجدید۔( امام ابو عبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ۲۷۳ھ، سنن ابن ماجہ ص ۲۳۸-۲۳۹، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)
از یحییٰ بن محمد بن قیس مدنی از ہشام بن عروہ از عروہ از حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچی کھجور کو چھوہارے کے ساتھ ملا کر کھاؤ ، اور پرانی کھجور کو نئی کھجور کے ساتھ ملا کر کھاؤ ، کیونکہ شیطان غضب ناک ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ ابن آدم اتنا عرصہ زندہ رہا کہ پرانی کھجور نئی کھجور کے ساتھ کھا رہا ہے۔
علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
امام نسائی نے کہا کہ یہ حدیث منکر ہے، اس کی روایت میں ابو زکیر (یحییٰ بن محمد بن قیس) متفرد ہے اور وہ شیخ صالح ہے، امام مسلم نے اس کی متابعات کو روایت کیا ہے البتہ وہ اس مرتبہ کا نہیں ہے کہ اس کے تفرد کو قبول کرلیا جائے، بلکہ ائمہ حدیث نے اس کے ضعف کی تصریح کی ہے، ابن معین نے کہا وہ ضعیف ہے، ابن حبان نے کہا اس کی روایات سے استدلال نہیں کیا جاتا، عقیلی نے کہا اس کی حدیث کا کوئی متابع نہیں ہے، ابن عدی نے اس کی چار منکر روایات بیان کی ہیں۔( علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۴۰، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)
اس کے علاوہ اس حدیث میں معنوی رکاکت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ شیطان مومن کی محض لمبی حیات سے غضب ناک نہیں ہوتا بلکہ اس کی اطاعت اور عبادت سے اور توبہ اور استغفار سے غضب ناک ہوتا ہے۔
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
صحیح یہ ہے کہ منکر اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں غیر ثقہ راوی، ثقہ راوی کی مخالفت کرے اس کی مثال یہ:
مالك عن الزهرى عن علي بن حسين عن عمر بن عثمان عن اسامة بن زيد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم۔
(مالک از زہری از علی بن حسین از عمر بن عثمان از اسامہ بن زید از رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا مسلمان کافر کا، اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔
اس میں مالک نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے انھوں نے عمر بن عثمان کہا ہے اور امام مسلم نے کتاب التمییز میں لکھا ہے زہری کے اصحاب میں سے جس نے بھی اس کو روایت کیا ہے اس نے عمرو بن عثمان کہا ہے، اور وہ روایت کے وقت عمرو بن عثمان کے گھر کی طرف اشارہ بھی کرتا تھا کیونکہ دوسرے راوی اس کی مخالفت کرتے ہیں اور عمر اور عمرو دونوں عثمان کے بیٹے ہیں اور اس روایت کا راوی عمرو ہے۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن ابراہیم شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ، علوم الحدیث ص ۷۴-۷۲، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۸۶ھ)
منکر کی مقابل “معروف” کا بیان
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
ان وقعت المخالفة مع الضعف فالراجح يقال له المعروف ومقابله يقال له المنكر۔ ( حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبة الفکر ص ۴۱، مطبوعہ رحیم اکیڈمی، کراچی)
اگر ضعیف راوی ثقہ کی مخالفت کرے تو ضعیف کی روایت کو منکر اور ثقہ کی روایت کو معروف کہتے ہیں۔
اس کی مثال ابن ابی حاتم کی یہ روایت ہے:
حبيب بن حبيب عن ابي اسحق عن العيزار بن حريث عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من اقام الصلوة وأتى الزكوة وحج البيت وصام وقرى الضيف دخل الجنة –
حبیب بن حبیب از ابی اسحق از عیزار بن حریث از ابن عباس از نبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت ہے آپ نے فرمایا جس شخص نے نماز پڑھی، زکوۃ دی، روزہ رکھا، مہمان نوازی کی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
امام ابو حاتم نے کہا یہ حدیث منکر ہے کیونکہ حبیب بن حبیب کے علاوہ دوسرے ثقہ راویوں نے اس حدیث کو ابو اسحاق سے موقوفاً روایت کیا ہے اور یہی حدیث معروف ہے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ شرح نخبة الفکر ص ۴۱، مطبوعہ رحیمیہ اکادمی کراچی)
ٹیگز:-
الصحیح مسلم , مقدمہ صحیح مسلم , Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح مسلم , شرح صحیح مسلم , مقدمہ , حدیث منکر