شاذ اور محفوظ کا بیان

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

فان خولف بأرجح منه لمزيد ضبط او کثرۃ عدد او غیر ذلک من وجوه الترجیحات يقال له المحفوظ ومقابله وهو المرجوح يقال له الشاذ۔( حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ شرح نخبة الفکر ص ۴۷، مطبوعہ رحیمیہ اکادمی کراچی)

 جو راوی ضبط کی زیادتی، کثرت عدد یا دوسری وجہ ترجیح (مثلاً راوی کی فقہ، علو سند، یا اس کی روایت کا اس کتاب میں ہونا جو امت کے نزدیک مقبول ہو) سے راجح ہو اس کی روایت کو محفوظ اور جو اس راجح راوی کی مخالفت کرے اور وہ اس کی بہ نسبت مرجوح ہو تو اس کی روایت کو شاذ کہتے ہیں۔

اس کی مثال یہ حدیث ہے: امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن عوسجة عن ابن عباس ان رجلا توفى على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يدع وارثا الا مولى هو اعتقه الحديث –

ابن عیینہ از عمرو بن دینار از عوسجہ از ابن عباس روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فوت ہوگیا اور اس نے ورثہ میں صرف ایک غلام چھوڑا جس کو وہ آزاد کرچکا تھا۔

اس حدیث کے اتصال میں ابن عیینہ کی ابن جریج وغیرہ نے متابعت کی ہے، اور حماد بن زید نے ابن عیینہ کی مخالفت کی اس نے اس حدیث کو از عن عمرو بن دینار از عوسجہ مرسلاً” روایت کیا اور حضرت ابن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ ابو حاتم نے کہا ابن عیینہ کی حدیث محفوظ ہے۔

حماد بن زید بھی اہل عدالت اور ضبط میں سے ہے اس کے باوجود ابن حاتم نے ابن عیینہ کی روایت کو ترجیح دی ہے، کیونکہ متعدد سندوں سے یہ حدیث موصولاً مروی ہے اور صرف حماد نے اس کو مرسلاً روایت کیا ہے، اس تقریر سے معلوم ہوا کہ شاذ وہ حدیث ہے جس کو مقبول راوی روایت کرتا ہے لیکن وہ اپنے سے زیادہ اولیٰ اور راجح راوی کی مخالفت کرتا ہے، اور شاذ کی تعریف میں یہی اصطلاح معتمد ہے۔

شاذ اور منکر میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے کیونکہ ان دونوں روایتوں میں کسی کی مخالفت ہوتی ہے یہ مادہ اجتماعی ہے لیکن شاذ ثقہ اور صدوق کی روایت ہوتی ہے اور منکر ضعیف کی روایت ہوتی ہے اور جس شخص نے ان دونوں کو برابر قرار دیا وہ غافل ہے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبۃ الفکر ص ۴۲۔۴۰، مطبوعہ رحیمیہ کمپنی کراچی)