حدیث مدرج کا بیان
sulemansubhani نے Sunday، 25 October 2026 کو شائع کیا.
حدیث مدرج کا بیان
مدرج، ادراج کا اسمِ مفعول ہے، کسی چیز کو کسی چیز میں داخل کرنا یا کسی چیز کو کسی چیز کے ضمن میں کرنا یہ ادراج کا لغوی معنی ہے۔
مدرج کی دو قسمیں ہیں، مدرج الاسناد اور مدرج المتن،
مدرج الاسناد کی تعریف یہ ہے:۔
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
ما يقع فيه المخالفة للثقات بسبب تغيير سياق الاسناد فهو مدرج الاسناد۔
جس حدیث کی سند میں تغییر کی وجہ سے ثقات کی مخالفت ہو وہ مدرج الاسناد ہے۔
مدرج الاسناد کی حسبِ ذیل اقسام ہیں:
۱۔ ایک جماعت ایک حدیث کو مختلف سندوں کے ساتھ بیان کرے اور کوئی راوی ان تمام مختلف سندوں کو ایک سند بنا کر حدیث روایت کرے اور ان کا اختلاف نہ بیان کرے۔
۲۔ ایک راوی ایک متن کو ایک سند کے ساتھ روایت کرتا ہو اور اس متن کے بعض حصہ کو دوسری سند سے روایت کرتا ہو اور یہ مخالفت کرکے پورے متن کو پہلی سند کے ساتھ بیان کردے۔
(۲۔ب) ایک راوی ایک حدیث کو ایک شیخ سے سنتا ہے اور اس کے بعض حصے کو اس شیخ کے شیخ سے کسی واسطے سے سنتا ہے اور یہ شخص اس پوری روایت کو شیخ الشیوخ سے روایت کرے اور اس واسطے کو حذف کردے۔
۳۔ ایک راوی دو مختلف حدیثوں کو دو مختلف سندوں کے ساتھ بیان کرتا ہو اور یہ مخالف ان دونوں حدیثوں کو ملا کر کسی ایک سند کے ساتھ روایت کرے یا ایک حدیث کو اس کی سند کے ساتھ بیان کرے لیکن اس میں دوسری حدیث کے الفاظ شامل کردے، جو اس میں نہیں ہیں۔
۴۔ شیخ کوئی سند یا حدیث بیان کرے، پھر کسی عارضہ کی بناء پر وہ خود کوئی بات کہے اور سننے والا یہ گمان کرے کہ یہ بات اس سند سے مروی ہے اور اس کی اسی طرح روایت کردے۔
یہ مدرج الاسناد کی اقسام تھیں، اور مدرج المتن وہ حدیث ہے کہ متنِ حدیث میں ایسا کلام داخل کیا جائے جو حدیث کا حصہ نہ ہو، کبھی یہ ادراج حدیث کے اول میں ہوتا ہے، کبھی وسط میں اور کبھی آخر میں اور یہ اکثر ہوتا ہے یا یہ مخالفت اس طرح ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں صحابہ یا بعد کے لوگوں کا کلام داخل کردیا جاتا ہے، اور یہ حدیث مدرج المتن ہوتی ہے۔
اور اس ادراج کا ادراک دوسری مفصل روایت کے وارد ہونے سے ہوتا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ حدیث میں اتنا حصہ مدرج ہے یا راوی خود اس کی تصریح کرتا ہے کہ اصل حدیث میں اتنا حصہ مدرج ہے، یا بعض ائمہ جو اس ادراج پر مطلع ہوتے ہیں وہ اس کی تصریح کردیتے ہیں یا وہ الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا صدور محال ہوتا ہے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبة الفكر ص ۶۴ – ۶۲، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)
علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
حدیث کے اول میں ادراج کی مثال یہ ہے: خطیب نے ابو قطن اور شبابہ سے روایت کیا ہے:
عن شعبة عن محمد بن زياد عن ابي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اسبغوا الوضوء …… ويل للاعقاب من النار –
از شعبہ از محمد بن زیاد از ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو مکمل کیا کرو کیونکہ خشک ایڑیوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔
اس حدیث میں اسبغوا الوضوء کا جملہ حضرت ابو ہریرہ کا قول ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں ہے، کیونکہ امام بخاری روایت کرتے ہیں:
عن ادم عن شعبة عن محمد حدثنا زياد قال سمعت ابا هريرة وكان يمر بنا والناس يتوضؤن من المطهرة فقال اسبغوا الوضوء فإن ابا القاسم صلى الله عليه وسلم قال ويل للاعقاب من النار -(صحیح بخاری ج ۱ ص ۲۸)
آدم از شعبہ از محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ لوگ پانی کے برتن سے وضو کررہے تھے، حضرت ابوہریرہ ہمارے پاس سے گزرے تو میں نے سنا وہ کہہ رہے تھے وضو پورا کرو، کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا خشک ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔
خطیب نے کہا ہے کہ ابو قطن اور شبابہ کو شعبہ سے اس روایت میں وہم ہوا ہے کیونکہ ایک جمِ غفیر نے اس حدیث کو آدم کی طرح روایت کیا ہے۔ [علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۱ ص ۲۷۰، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۹۲ھ] کبھی راوی کسی حکم کو مستنبط کرکے ازخود اس کو حدیث کے وسط میں درج کردیتا ہے اس کی مثال یہ ہے:
امام دارقطنی روایت کرتے ہیں:
حدثنا عبد الحميد بن جعفر عن هشام بن عروة عن أبيه عن بسرة بنت صفوان قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول، من مس ذكره أو انثييه أو رفغيه فليتوضأ .
عبد الحمید بن جعفر، از ہشام بن عروہ از عروہ از بسرہ بنت صفوان روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی نے اپنے ذکر، خصیوں یا جوڑوں کو چھوا وہ وضو کرے۔
امام دارقطنی اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
عبد الحمید بن جعفر نے ہشام سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا ہے اور انثیین اور رفغ کو ذکر کرنے میں اس کو وہم ہوا ہے، اور یہ حدیث مدرج ہے اور محفوظ یہ ہے کہ یہ عروہ کا قول ہے جو غیر مرفوع ہے، ایوب سختیانی، حماد بن زید اور دوسرے ثقات نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے، صحیح مرفوع روایت ابو الاشعث کی ہے انہوں نے از یزید بن زریع از ایوب، از ہشام بن عروہ از بسرہ روایت کیا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے ذکر کو چھوا وہ وضو کرے۔ [امام علی بن عمر دارقطنی متوفی ۲۸۵ھ، سنن دارقطنی ج ۱ ص ۱۴۸، مطبوعہ نشر السنة ملتان]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مسِ ذکر کا حکم بیان کیا تھا، عبد الحمید بن جعفر نے اس پر خصیتوں اور جوڑوں کو قیاس کرکے ان کا بھی حدیث میں ذکر کردیا، اور کبھی بعض مشکل الفاظ کی تفسیر کو راوی حدیث کے وسط میں ذکر کردیتا ہے، اس کی مثال یہ حدیث ہے:
امام بخاری روایت کرتے ہیں:
عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة ام المؤمنين رضی الله عنها اول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحي الرؤيا الصالحة فى النوم فكان لا يرى رؤيا الاجاء مثل فلق الصبح ثم حبب اليه الخلاء وكان يخلو بغار حراء فيتحنث فيه وهو التعبد الليالى ذوات العدد [امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۲، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی، ۱۳۸۱ھ]
از ابن شہاب زہری از عروہ بن زبیر از حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء نیک خوابوں سے کی گئی، آپ جو خواب بھی دیکھتے روشن صبح کی طرح اس کی تعبیر آ جاتی، پھر آپ کے دل میں خلوت گزینی کی محبت پیدا کی گئی، آپ غار حرا میں تنہائی میں بیٹھتے اور اس میں تحنث کرتے اور وہ (اس کا معنی) کئی کئی راتوں تک عبادت کرنا ہے۔
حدیث میں تحریف کا معنی زہری نے اپنی طرف سے درج کیا ہے اور اس کی احادیث میں بہت مثالیں ہیں:
ٹیگز:-
مقدمہ , الصحیح مسلم , مقدمہ صحیح مسلم , حدیث مدرج , Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح مسلم , شرح صحیح مسلم