بدحافظہ کی روایت کا بیان

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

بد حافظہ سے مراد وہ شخص ہے جس کی صحت، خطا پر راجح نہ ہو، ایک وہ ہے کہ اس کا بد حافظہ ہونا تمام حالات میں اس کو لازم ہو اس کی حدیث شاذ ہوتی ہے، دوسری قسم یہ ہے کہ حافظہ کی خرابی اس کو بعد میں عارض ہوئی ہو، اس کے بوڑھے ہونے کے بعد یا اس کی بینائی چلی جانے کے بعد یا اس کی کتابیں جل جانے کے بعد کیونکہ وہ ان کتابوں پر اعتماد کرتا تھا اور پھر اپنے حافظہ پر اعتماد کرنے لگا، اس راوی کو مختلط کہتے ہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ تمیز ہوجائے کہ فلاں روایت اس کے اختلاط سے پہلے کی ہے تو وہ مقبول ہوگی اور اگر تمیز نہ ہوسکے تو اس کی روایت موقوف ہوگی، اسی طرح جس کا معاملہ مشتبہ ہو اس کی روایت بھی موقوف ہوگی، جب بدحافظہ، مختلط غیر متمیز، مستور اور مدلس کی روایت کا کوئی معتبر متابع مل جائے تو متابع اور متابع کے مجموعہ سے وہ حدیث حسن لغیرہ ہوجاتی ہے۔ کیونکہ بدحافظہ اور مختلط وغیرہ میں سے ہر ایک کی روایت صواب اور غیر صواب کا احتمال رکھتی ہے اور جب معتبرین میں سے کوئی روایت ان کے موافق مل جائے تو اس کے صواب کی جانب کو ترجیح ہوجاتی ہے اور یہ اس پر دلیل ہے کہ وہ حديث محفوظ ہے اور وہ توقف کے درجہ سے ترقی کرکے قبولیت کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے اس کے باوجود وہ حدیث حسن لذاتہ کے درجہ سے کم ہوتی ہے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ شرح نخبة الفکر ص ۷۶ – ۷۴، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

علامہ نووی لکھتے ہیں :

جس راوی کے متعلق یہ مشہور ہو کہ وہ حدیث سننے یا سنانے کے وقت تسابل کرتا ہے مثلاً نیند کے عالم میں حدیث سنتا ہے یا اپنی صحت شدہ اصل کے بغیر حدیث بیان کرتا ہے یا اس کے متعلق مشہور ہو کہ اس جئ حدیث  میں جس لفظ کی تلقین کی جائے وہ قبول کرلیتا ہے یا اس کو روایت کرنے میں بہ کثرت سہو ہوتا ہے یا اس کی روایت میں بہت شاذ اور منکر حدیثیں ہیں تو ایسے تمام راویوں کی حدیثیں قبول نہیں کی جاتیں، امام ابن المبارک، امام حمیدی اور امام احمد وغیرہ نے کہا ہے کہ جس شخص کو حدیث میں غلطی بتائی جائے اور وہ پھر بھی اپنی روایت پر مصر رہے اس کی تمام روایات ساقط ہوجاتی ہیں بہ شرطیکہ وہ عناداً اصرار کرے۔ (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ تقريب النواوي ج ۱ ص ۳۴۰ – ۳۳۹، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۹۲ھ)