تعدد اسانید سے حدیث ضعیف کی تقویت کی تحقیق

حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:

ہوسکتا ہے کوئی شخص یہ کہے کہ بہت سی احادیث کو ضعیف قرار دیا جاتا ہے ، حالانکہ وہ متعدد اسانید سے مروی ہوتی ہیں مثلاً الاذنان من الراس ” دونوں کان سر سے ملحق ہیں ” جب یہ حدیث متعدد اسانید سے مروی ہے تو اس کو حسن کیوں نہیں قرار دیا گیا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ تعدد اسانید سے کسی حدیث کا ضعف جاتا رہتا ہے بلکہ اس حکم میں تفصیل ہے، اگر کسی راوی کے حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے حدیث کو ضعیف قرار دیا گیا ہو اور وہ راوی صادق اور عادل ہو، پھر وہ حدیث کسی اور سند سے بھی مروی ہو تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ حدیث محفوظ ہے اور اس کے ضبط میں خلل نہیں ہے، اسی طرح کسی حدیث میں ضعف ارسال کی وجہ سے ہوا اور ارسال کرنے والا امام حافظ ہو تو اس میں ضعف قلیل ہے اور جب وہ حدیث کسی اور سند سے مروی ہو تو اس کا ضعف زائل ہوجائے گا، اور ایک ضعف وہ ہے جو بہت شدید ہوتا ہے اور یہ ضعف تعدد اسانید سے زائل نہیں ہوتا، اس ضعف کا سبب راوی کا متہم بالکذب ہونا یا اس حدیث کا شذوذ ہے۔ )حافظ ابو عمرو عثمان بن عبدالرحمن شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ، علوم الحدیث ۳۱۔ ۳۰ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۶ھ (

حافظ عراقی نے بھی حافظ ابن الصلاح کی اس عبارت کو نقل کیا ہے۔(حافظ زین الدین عبد الرحیم بن حسین عراقی متوفی ۸۰۶ھ التبصرۃ والتذکرہ شرح الفیہ ج ۱ ص ۹۲-۹۱ مطبوعہ دار الباز للنشر والتوزیع)

علامہ سخاوی لکھتے ہیں:

اگر کسی حدیثِ ضعیف میں راوی کے حافظہ میں خلل یا کسی راوی کے ارسال کی وجہ سے ضعف ہو اور اس حدیث کا کوئی راوی کذب سے متہم نہ ہو اور نہ وہ حدیث شاذ ہو تو پھر تعددِ طرق سے وہ حدیث حسن ہوجاتی ہے، لیکن اگر اس میں اِتہامِ کذب یا شذوذ کی وجہ سے ضعف ہو تو پھر وہ کثرتِ طرق کے باوجود حسن نہیں ہوتی مثلاً یہ حدیث:

من حفظ علی امتی اربعین حدیثا ۔

جس نے میری امت کے لیے چالیس حدیثیں حفظ کیں۔

علامہ نووی نے نقل کیا ہے کہ تمام حفاظ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث کثرتِ اسانید کے باوجود ضعیف ہے لیکن ایسی حدیث جس کا ضعف کثرت اسانید سے زائل نہ ہو، اس حدیثِ مردود و منکر سے بہرحال اعلیٰ ہوتی ہے جس کے تقاضے پر عمل کرنا کسی حال میں جائز نہیں ہے اور ایسی حدیث سے فضائل میں عمل کیا جا سکتا ہے۔(علامہ ابو عبداللہ محمد بن عبد الرحمن سخاوی متوفی ۹۰۲ھ، فتح المغیث ج ۱ ص ۸۳-۸۲، مطبوعہ دار الامام الطبری ، ۱۴۱۲ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

حافظ ابوالحسن ابن القطان مغربی نے تصریح کی ہے کہ حدیث حسن لغیرہ سے ہر جگہ استدلال نہیں ہوتا بلکہ اس پر صرف فضائلِ اعمال میں عمل کیا جاتا ہے اور فرض، وجوب اور حرمت کے احکام میں اس پر عمل نہیں کیا جاتا، ہاں اگر اس کی اسانید متعدد ہوں، یا اتصالِ عمل کے ساتھ اس کی تقویت ہو، یا کوئی شاہد صحیح اس کے موافق ہو یا ظاہر قرآن میں اس کی تائید ہو تو پھر ہو سکتا ہے۔

یہ قول انصاف کے مطابق ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ترمذی جس حدیث کو حسن کہیں ان کے نزدیک اس سے استدلال لازم نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے ایک حدیث از خیثمہ بصری از عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت اور کہا یہ حدیث حسن ہے اور اس کا اسناد اس پائے کا نہیں، اور کتاب العلم میں فضیلت علم میں ایک حدیث روایت کی اور کہا یہ حدیث حسن ہے اور ہم نے اس کو صحیح اس لیے نہیں کہا کہ اس میں اعمش نے تدلیس کی ہے۔(حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، النکت علی کتاب ابن الصلاح ج ۱ ص ۴۰۳-۴۰۲ مطبوعہ دار احیاء التراث الاسلامی مدینہ منورہ ۱۴۰۴ھ)

علامہ ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں:

جس ضعیف حدیث میں راوی کے فسق کی وجہ سے ضعف ہو وہ تعدد اسانید کی وجہ سے لائق استدلال نہیں بنتی، اور اگر راوی میں فسق نہ ہو بلکہ وہ صادق اور عادل ہو لیکن اس کے حفظ میں خرابی ہو تو اس کی حدیث تعدد اسانید کی بناء پر لائق استدلال ہوجاتی ہے۔(علامہ کمال الدین ابن ہمام متوفی ۸۶۱ھ، التحریر مع التقرير والتحبير ج ۲ ص ۲۴۹ ، مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت)

نیز علامہ نووی لکھتے ہیں:

 قال العلماء من المحدثين والفقهاء وغيرهم يجوز ويستحب العمل في الفضائل والترغيب والترهيب بالحديث الضعيف ما لم يكن موضوعا واما الاحكام كالحلال والحرام والبيع والنكاح والطلاق وغير ذلك فلا يعمل فيها الا بالحديث الصحيح او الحسن الا ان يكون في احتياط في شئ كما اذا ورد حديث ضعيف بكراهة بعض البيوع او النكاح – (ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ ، کتاب الاذکار ص ۷-۸ ، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

حضرات محدثین، فقہاء اور دیگر علماء کرام فرماتے ہیں کہ فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا مستحب ہے جبکہ وہ موضوع نہ ہو لیکن حلال اور حرام کے احکام مثلاً بیع، نکاح اور طلاق وغیرہ میں حدیث صحیح یا حسن کے سوا اور کسی پر عمل درست نہیں إلا یہ کہ اس میں احتیاط ہو مثلاً بیع یا نکاح کی کراہت میں کوئی حدیث ضعیف وارد ہو۔

علامہ ابن حجر ہیتمی مکی لکھتے ہیں:

 الذي اطبق عليه ائمتنا الفقهاء والاصوليون والحفاظ ان الحديث الضعيف حجة في المناقب كما انه ثم باجماع من يعتد به حجة في فضائل الاعمال –(علامہ احمد بن حجر ہیتمی مکی متوفی ۹۷۴ھ ، تطہیر الجنان واللسان ص ۱۳ مطبوعہ مکتبة القاہرہ ، ۱۳۸۵ھ)

 ہمارے ائمہ فقہاء اصولیین اور حفاظ کا اس پر اتفاق ہے کہ مناقب میں بھی حدیث ضعیف حجت ہوتی ہے، جس طرح قابل شمار علماء کا اس پر اجماع ہے کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف حجت ہوتی ہے۔