جو مسلمان آپ سے ملاقات کے بعد مرتد ہوگیا، پھر آپ کی وفات کے بعد مسلمان ہوا، اس کے صحابی ہونے یا نہ ہونے میں مذاہب ائمہ
sulemansubhani نے Saturday، 7 November 2026 کو شائع کیا.
جو مسلمان آپ سے ملاقات کے بعد مرتد ہوگیا، پھر آپ کی وفات کے بعد مسلمان ہوا، اس کے صحابی ہونے یا نہ ہونے میں مذاہب ائمہ
علامہ محمد اکرم سندھی لکھتے ہیں:
امام شافعی اور ان کے متبعین کے مذہب کا تقاضا یہ ہے کہ ارتداد سے اعمال اس وقت باطل ہوتے ہیں جب کفر پر موت ہو اور ہمارے مذہب میں یہ مقرر ہے کہ ارتداد سے تمام اعمال کا ثواب باطل ہوجاتا ہے، اور اگر وہ پھر اسلام قبول کرے تو اس پر حج کا اعادہ کرنا واجب ہوگا کیونکہ یہ عمر میں فرض ہوتا ہے، اس لیے جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایمان کی حالت میں دیکھا اور پھر مرتد ہوگیا تو اس کی صحابیت باطل ہو گی، اب اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پھر اسلام لایا تو وہ صحابی نہیں ہوگا ہاں جو آپ کی حیاتِ مبارکہ میں دوبارہ اسلام لے آیا تو وہ صحابی ہوگا، امام مالک کا بھی یہی مذہب ہے۔ (علامہ محمد اکرم سندھی من علماء قرن الحادی عشر، امعان النظر ص ۲۰۴، مطبوعہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد سندھ)
حافظ عسقلانی نے اپنے مختار پر یہ دلیل دی تھی کہ اشعث بن قیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مرتد ہوگئے تھے، اور انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں اسلام قبول کیا اور ان کا سب نے صحابہ میں شمار کیا ہے اور ان کی احادیث کو مسند کہا ہے۔
علامہ سندھی اس کے جواب میں لکھتے ہیں:
جن لوگوں نے اشعث بن قیس کا ذکر صحابہ میں کیا ہے انھوں نے غفلت سے اس کا شمار صحابہ میں کیا، یا اس کا صحابہ میں شمار اس وجہ سے کیا کہ وہ صحابہ کے دور میں تھا، اور جن لوگوں نے اس کی احادیث کو مسند کہا ہے، انھوں نے راوی کے حال سے جہالت کی وجہ سے ایسا کیا، یا اس نے دوسرے صحابہ سے جو حدیث روایت کی تھی اس کو مسند کہا یا یہ تخریج اس قول پر ہے کہ کفر کی حالت میں حدیث سننا اور اس کو اسلام میں ادا کرنا جائز ہے ورنہ فقہاءِ احناف کی کتاب دلوابکیہ کی کتاب الشهادت میں لکھا ہے کہ مرتد نے جو حدیث روایت کی وہ باطل ہے اور مرتد ہونے کے بعد اس کی احادیث کو سننے والے کے لیے روایت کرنا جائز نہیں ہے۔
علامہ حلبی نے قاضی عیاض کی شفاء کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ائمہ ستہ اور امام احمد نے اپنی مسند میں اشعث کی روایت ذکر کی ہے اور یہ تصریح کی ہے کہ وہ صحابی ہے اور اس کا صحابی ہونا اسی قول پر متصور ہے کہ جب ارتداد پر موت ہو تب عمل باطل ہوتا ہے، جیسا کہ امام شافعی کا قول ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ نفس ارتداد سے عمل باطل ہوجاتا ہے خواہ وہ موت سے پہلے اسلام قبول کرے، جیسا کہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا مذہب ہے تو پھر اشعث کا صحابہ میں شمار کرنا صحیح نہیں ہے۔ ) علامہ محمد اکرم سندھی من علماء قرن الحادی عشر، امعان النظر ص ۲۰۷ مطبوعہ شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد سندھ(
امام ابو حنیفہ قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:
ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله- (مائدہ: ۵)
اور جس نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا تو اس کا عمل ضائع ہوگیا۔
اور امام شافعی قرآن مجید اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:
ومن يرتدد منكم عن دينه فيمت وهو کافر فاولئك حبطت اعمالهم في الدنيا والاخرة واولئك اصحاب النار هم فيها خالدون- (بقرۃ: ۲۱۷)
اور تم میں سے جو اپنے دین سے مرتد ہوجائے پھر وہ کافر ہونے کی حالت میں مرے، تو ان لوگوں کے (نیک) عمل دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور وہ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
امام شافعی کہتے ہیں کہ اس آیت میں اعمال کا ضائع ہونا موت علی الکفر پر معلق کیا گیا ہے، اور امام ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں دو جرم اور ان کی دو سزائیں بیان کی گئی ہیں، پہلا جرم ہے مرتد ہونا اور دوسرا جرم ہے اس کفر کو قائم رکھنا حتی کہ کفر پر مرنا۔ اور پہلی سزا ہے دنیا اور آخرت میں اعمال کا ضائع ہونا اور دوسری سزا ہے ہمیشہ دوزخ میں رہنا، اور پہلی سزا پہلے جرم سے متعلق ہے اور دوسری سزا دوسرے جرم سے متعلق ہے۔ یعنی صرف مرتد ہونے سے اعمال ضائع ہوجائیں گے، اور اگر اس نے اس کفر کو قائم رکھا حتی کہ کفر پر مرا تو آخرت میں ہمیشہ کے لیے دوزخی ہوگا۔
اس لیے صحیح یہی ہے کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور اس نے آپ سے ملاقات کی پھر مرتد ہوگیا اور آپ کی وفات کے بعد مسلمان ہوا، اس کی صحابیت زائل ہوگئی، اب وہ تابعی ہے صحابی نہیں ہے۔
—
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح مسلم , شرح صحیح مسلم , مقدمہ , الصحیح مسلم , مقدمہ صحیح مسلم