حدیث مرفوع قولاً، فعلاً، تقریراً، صراحۃً اور حکماً کا بیان

حدیث مرفوع قولی صراحۃً کی مثال یہ ہے کہ صحابی یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔

حدیث مرفوع فعلی صراحۃً کی مثال یہ ہے کہ صحابی یہ کہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھا۔

حدیث مرفوع تقریری صراحۃً کی مثال یہ ہے کہ صحابی یہ کہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ کام کیا اور اس پر آپ کا انکار نقل نہ کرے۔ یہ تینوں اقسام مرفوع صریح کی ہیں اور مرفوع قولی حکماً کی مثال یہ ہے:

جو صحابی اسرائیلیات کو نقل نہیں کرتا وہ ایسی حدیث بیان کرے جس میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہو اور نہ اس کا بیان لغت سے تعلق رکھتا ہو مثلاً وہ (بلا تعلق) سے متعلق گزشتہ امور کی خبریں بیان کرے، اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات بیان کرے یا مستقبل کے واقعات مثلاً قربِ قیامت کے فتنے اور احوالِ قیامت بیان کرے، یا کسی کام کے مخصوص ثواب یا مخصوص عذاب کو بیان کرے تو یہ حدیث حکماً مرفوع ہے، کیونکہ جن چیزوں میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہو ان کا جاننا صرف سماع کے ذریعہ ہو سکتا ہے اور صحابہ کرام کا صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سننا متصور ہے، کیونکہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ وہ صحابی اسرائیلیات کو نقل نہیں کرتا، اس لیے یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے خواہ اس صحابی نے حضور سے براہِ راست سنا ہو یا بالواسطہ۔

مرفوع فعلی حکماً کی مثال یہ ہے کہ صحابی ایسا کام کرے جس میں اجتہاد کا دخل نہ ہو تو وہ اس پر محمول کیا جائے گا کہ صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے امام شافعی نے کہا ہے کہ حضرت علی نمازِ کسوف کی ہر رکعت میں دو سے زیادہ رکوع کرتے تھے۔

مرفوع تقریری حکماً کی مثال یہ ہے کہ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا کام کرتے تھے، اور یہ اس لیے حجت ہے کہ ان کے کام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مطلع ہوتے تھے، کیونکہ کسی کام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے کے لیے ان کے پاس متعدد مواقع تھے اور وہ زمانہ نزولِ وحی کا زمانہ تھا، اس لیے صحابہ کسی ایسے فعل کو دائمًا نہیں کر سکتے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہو، اور حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہم نے جوازِ عزل پر اس لیے استدلال کیا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کرتے تھے درآں حالیکہ قرآن نازل ہوتا تھا، اگر یہ ممنوع ہوتا تو اس سے قرآن مجید منع فرما دیتا۔

مرفوع قولی حکماً میں وہ حدیث بھی داخل ہے جو صریح صیغہ کی بجائے صیغہ کنایہ سے مروی ہو، مثلاً تابعی کہے فلاں صحابی اس حدیث کو مرفوعاً بیان کرتے ہیں یا اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں یا آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں یا آپ کی طرف پہنچاتے ہیں اور کبھی صرف قول پر اقتصار کرتے ہیں اور قائل کو حذف کردیتے ہیں، مثلاً ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے انھوں نے کہا آپ نے فرمایا تم ایک قوم سے قتال کرو گے الحدیث، خطاب نے کہا ہے کہ یہ اہل بصرہ کی خاص اصطلاح ہے، انھی صیغوں میں سے صحابی کا یہ قول ہے **من السنة كذا**، اور اکثر کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ بھی مرفوع ہے۔ ابن عبدالبر نے یہ کہا ہے کہ جب غیر صحابی یہ کہے پھر بھی حدیث مرفوع ہے الا یہ کہ وہ کسی کی سنت کی طرف اضافت کرے، مثلاً یہ سنت العمرین ہے، اصطلاحیہ ہے کہ جب مطلقاً سنت کا لفظ بولا جائے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مراد ہوتی ہے، اسی قبیل سے صحابی کا یہ قول ہے **امرنا بكذا ونهينا بكذا** “ہم کو اس چیز کا حکم دیا گیا، ہم کو اس چیز سے روکا گیا”، کیونکہ مطلق امر اور نہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف راجع ہے اور انھی صیغوں میں سے یہ بھی ہے **كنا نفعل كذا** “ہم اس طرح کرتے تھے” اور اسی قبیل سے کسی فعل پر صحابی کا یہ حکم لگانا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے یا یہ اللہ اور اس کے رسول کی معصیت ہے، مثلاً حضرت عمار نے یہ کہا جس نے یوم شک کو روزہ رکھا اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی، یہ حدیث بھی حکماً مرفوع ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ حضرت عمار نے اس حکم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا تھا۔

—