صحابی کی معرفت کے ذرائع

علامہ سیوطی لکھتے ہیں: 

صحابی کی معرفت کے حسب ذیل طرق اور ذرائع ہیں:

۱۔ تواتر: جیسے حضرت ابوبکر اور عمر اور باقی عشرہ مبشرہ کے متعلق تواتر سے معلوم ہے کہ وہ صحابی ہیں۔ 

۲۔ شہرت: تواتر سے کم درجہ کی شہرت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ فلاں صحابی ہے، جیسے حضرت ضمام بن ثعلبہ اور حضرت عکاشہ۔ 

۳۔ قولِ صحابی: کوئی صحابی یہ شہادت دے کہ فلاں شخص صحابی ہے، جیسے حضرت حممہ بن ابی حممہ دوسی، اصفہان میں پیٹ کی بیماری میں فوت ہوئے، تو حضرت ابو موسیٰ اشعری نے شہادت دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ شہید ہوں گے۔ 

۴۔ کوئی تابعی یہ کہے کہ فلاں شخص صحابی ہے۔ 

۵۔ کوئی عادل شخص خود یہ دعویٰ کرے کہ میں صحابی ہوں، بشرطیکہ اس کا ثبوت ممکن ہو۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ایک سو سال بعد کسی کی صحابیت کا دعویٰ مقبول نہیں ہے، خواہ وہ اس سے پہلے عادل ہو، کیونکہ صحیح بخاری میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے بتاؤ یہ کون سی رات ہے؟ کیونکہ اس کے ایک سو سال بعد روئے زمین پر کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد، آپ کی وفات کے سال تھا۔

اصولیین نے یہ شرط عائد کی ہے کہ کسی شخص کی صحابیت کا دعویٰ تب مقبول ہوگا جب اس کے معاصر اس کی تصدیق کریں۔

علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ چھ سو سال بعد رتن ہندی نے صحابیت کا دعویٰ کیا، یہ شخص بوڑھا دجال تھا، اس نے صحابیت کا دعویٰ کر کے اللہ اور اس کے رسول پر جرأت کی۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ : تدریب الراوی ج ۲ ص ۲۱۴-۲۱۳ – مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۹۲ھ)