علم الحدیث روایۃ اور علم الحدیث درایۃ کی تعریفات

علامہ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:

علامہ ابن اکفانی نے کہا ہے کہ علم حدیث کی دو قسمیں ہیں:

علم الحدیث روایۃ اور علم الحدیث درایۃ۔

علم الحدیث روایۃ کی تعریف یہ ہے:

هو علم يشتمل على اقوال النبي صلى الله علیہ وسلم وافعالہ وروایتھا ضبطھا و تحریر الفاظھا۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی 911ھ : تدریب الراوی ج 1 ص 40، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، الطبعۃ الثانیۃ 1392ھ )

یہ وہ علم ہے جو نبی صلے اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال، ان اقوال اور افعال کی روایت، ان کے ضبط اور ان کے الفاظ کی تحریر پر مشتمل ہو۔

اور علم الحدیث درایۃً کی تعریف یہ ہے :

هو علم يعرف منہ حقیقۃ الروايۃ و شروطھا و انواعھا و احکامھا و حال الرواۃ و شروطھم و اصناف المرویات وما يتعلق بها ۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی 911ھ : تدریب الراوی ج 1 ص 40، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، الطبعۃ الثانیۃ 1392ھ )

یہ وہ علم ہے جس سے روایت کی حقیقت، اس کی شرائط، اس کی اقسام، اس کے احکام، راویوں کے احوال اور ان کی شرائط، مرویات کی اقسام اور ان کے متعلقات کی معرفت ہو۔

روایت کا معنیٰ یہ ہے کہ سنت یا اثر کو نقل کیا جائے اور حدثنا یا اخبرنا کے الفاظ سے ان کی نسبت ان کے بیان کرنے والے کی طرف کی جائے، اس کی شرائط میں سے بعض یہ ہیں کہ اس روایت کے راوی نے اس روایت کو اپنے شیخ سے سنا ہو، یا اس کو وہ روایت سنائی ہو، یا شیخ نے اپنی روایات کا مجموعہ اس کو دے کر اس سے نقل کرنے کی اجازت دی ہو، روایت کی بعض اقسام یہ ہیں: مثلاً روایت کا متصل الاسناد ہونا یا منقطع ہونا، اور اس کے احکام یہ ہیں، قبول کرنا، یا رد کرنا۔ اور راویوں کے احوال یہ ہیں: عدالت اور جرح، اور روایت کو سننے اور اس کو بیان کرنے کی شرائط کا ذکر آئندہ آئے گا، اور مرویات کی اقسام سے مراد کتب احادیث کی اقسام ہیں مثلاً مسند، معجم اور جزء وغیرہ، اور متعلقات سے مراد حدیث کی دیگر اصطلاحات ہیں۔

اور شیخ عز الدین بن جماعہ نے یہ تعریف کی ہے:

علم الحديث علم بقوانين يعرف بها احوال السند والمتن وموضوعہ السند والمتن وغايتہ معرفۃ الصحيح من غیرہ۔

علم الحدیث ان قوانین کی معرفت کو کہتے ہیں جن سے سند اور متن کے احوال کا علم ہوتا ہے، اور اس کا موضوع سند اور متن ہے اور اس کی غرض حدیث صحیح اور غیر صحیح کی معرفت ہے۔

اور شیخ الاسلام ابوالفضل ابن حجر عسقلانی نے یہ تعریف کی ہے:

معرفۃ قواعد المعرفۃ بحال الراوی و المروی۔

راوی اور مروی کے احوال کی معرفت کے قواعد کا علم۔

علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ علم الحدیث روایۃً کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے بحیثیت رسول اللہ، اور اس کی تعریف یہ ہے:

علم يعرف بہ اقوال رسول الله صلى الله علیہ وسلم و افعالہ و احوالہ۔

علم الحدیث وہ علم ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کی معرفت حاصل ہو۔